جنگ آزادی اور تحریک ریشمی رومال

Share Article

عبد اللہ عثمانی (دیوبند)
ہندوستان کی جنگِ آزادی کی جدو جہد میں ملک کے قریب سبھی فرقوں اور حلقوں نے اپنی حصہ داری نبھائی اور اپنے وطنِ عزیز کی عزت وحرمت کے لئے لاتعداد قربانیاں دیں ۔سعیٔ آزادی کی اس تاریخ میں مسلمانوں کے صبرواستقلال اور جواں مردی کے نقوش سدا روشن وتابندہ رہیں گے۔
انگریزوں کے ناپاک عزائم وقدم جس روز سے ہندوستان کی زمین پر پڑے ان کو اکھاڑنے کے لئے نواب حیدرعلی (1786)، شیرمیسور ٹیپوسلطان (1799)، نواب سراج الدولہ (1757)، حافظ رحمت خاں شہید (1774) کے علاوہ مسلمانوں کی ایک غیور جماعت ابتداء سے ہی سرگرم رہی ہے ۔یہ وہ افراد تھے جو فرنگی چالوں اور ارادوں سے بخوبی واقف تھے۔اس سلسلے کے سرخیل امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1762) اور ان کے نامور صاحبزادگان تھے۔ شاہ صاحب اپنے عہد کے نہ صرف ممتاز عالم دین تھے بلکہ وہ اپنی ذات میں عظیم مفکر اور جلیل القدر دانشور بھی تھے۔ ان کی دوربین نظر نے ملک کے مستقبل کی پوری پوری نشاندہی سو سال قبل کردی تھی اور ساتھ ہی اس عذاب سے نجات وتحفظ کی تدابیر بھی تجویز کی تھیں، مگر افسوس کہ یہ تحریک صرف مذہبی آواز تصور کرلی گئی نتیجتاً ہندوستان کلی طور پر غلامی کی زنجیروں میں قید ہوگیا۔ شاہ صاحب کے بڑے بیٹے شاہ عبد العزیز (1824)نے فاضل والد کی وفات کے بعد ان کی کوششوں پر عمل کرتے ہوئے برطانوی سرکار کے خلاف نہ صرف قلمی جہاد کیا بلکہ دیگر صوبائی راجائوں کو بذریعہ خطوط متحد اور آگاہ کیا۔ فتاویٰ عزیزی میں رقم طراز ہیں:۔
’’ یہاں روساء نصاریٰ کا حکم بلا دغدغہ اور بے دھڑک جاری ہے اور ان کا حکم جاری اور نافذ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملک داری اور ہندوستان رعایا، خراج وباج ، مال تجارت پر ٹیکس ، ڈاکوئوں اور چوروں کو سزائیں ، مقدمات کے تصفیے، جرائم کی سزائیں وغیرہ (ان تمام معاملات میں )یہ لوگ بطور خود حاکم اور مختارِ مطلق ہیں، ہندوستانیوں کو ان کے بارے کوئی دخل نہیں‘‘
شاہ عبد العزیز نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیکر غیر ملکی اقتدار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔علاوہ ازیں سید احمد شہیدؒ نے بھی مختلف صوبائی راجائوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی جدوجہد کی۔ مثلاً والی ٔ گوالیار راجاہندورائو کو لکھا:
’’جناب کو خوب معلوم ہے کہ پردیس سمندر پار کے رہنے والے دنیا جہاں کے تاجدار اور یہ سودا بیچنے والے سلطنت کے مالک بن گئے ہیں۔ بڑے بڑے امیروں کی امارت بڑے بڑے اہلِ حکومت کی حکومت اور ان کی عزت وحرمت کو انہوں نے خاک میں ملادیا ہے، جو حکومت وسیاست کے مردِ میدا ن تھے وہ ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔‘‘
یہ صداہندوستان کے ان سچے وطن پرستوں کی تھی جنہوں نے ملک کی آزادی کو اپنا مذہب ودین سمجھا تھا۔ شاہ عبد العزیز کے مایۂ ناز بھتیجے شہید اعظم شاہ اسماعیل (1831) کے جذبۂ حب الوطنی سے سر شار جملوں کا وزن دیکھئے ، ’’منصب ِ امامت‘‘ میں لکھتے ہیں:۔
’’ان کو (انگریزوں کو)جڑسے اکھاڑ پھینکنا عین انتظام ہے اور ان کو فنا کر دینا عین اسلام ہے۔ ہر صاحب ِاقتدار کی اطاعت کرنا حکمِ شریعت نہیں ہے‘‘
یہی ولولہ اور وطنیت کا ثبوت اس فکر ومشرب کی ممتاز شخصیت سید احمد شہید (1831)اور ان کی جماعت میں موجزن تھا۔ انیسویں صدی کی ابتداء میں مسلمانوں کی تنظیمی صلاحیت، عسکری قابلیت ، معاملہ فہمی اور تدبر کا جو کچھ بچا کچھا سرمایہ رہ گیا تھا اس کو سید صاحب نے بہترین طریقے سے استعمال کیا۔ وقتی طور پر ان کو ناکامی ضرور ہوئی، لیکن ان کی تحریک نے اہل ہند میں سرفروشی اور وطن پرستی کی ایسی آگ سلگادی تھی جو حصولِ آزادی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی، بلاشبہ سید احمد شہید اور ان کے رفقاء کار کے خون سے ہندستان کی آزادی کا پودا سینچا گیا ۔شاطر فرنگیوں کے لئے سید صاحب کی حکمت عملی ناسور بنتی جارہی تھی ،اسی لئے انگریز مؤرخین نے اس کو مذہبی رنگ دیکر وہابی لقب سے بدنام کیا اور اس کو سکھ مخالف محاذ قرار دیا، جب کہ اس شورش خیز عہد میں یہ مہم اہل ہند کی عزت وآبرو کے دفاع کے ساتھ عوامی وسماجی اصلاح کے لئے بھی بھر پور کوشاں تھی۔1831 کے (شاہ اسماعیل ، سید احمد شہید کی شہادت کے بعد )چھبیس برس بعد1857 کا انقلابی طوفان برپا ہوا جس کی پیشوائی بھی اسی مکتب فکر کے افراد نے ہر قسم کی قربانی سے کی تھی۔ ان میں حاجی امداد اللہ ، (1899)مولانا محمد قاسم نانوتوی (1880)، مولانا رشید احمد گنگوہی (1905)،شیخ محمد محدث تھانوی (1879)، مولانا ضامن شہید (1857)، مولانا رحمت اللہ کیرانوی (1891)، مولانا منیرنانوتوی (1895)،ڈاکٹر وزیر خاں(1872)، جنرل بخت خاں علامہ فضل حق خیر آبادی (1861)،امام بخش صہبائی (1857)،مولانا جعفر تھانیسری (1900)،مفتی عنایت کاکوری (1872)  مولانا عبد القادر لدھیانویؒ ،قاضی عنایت علی، نواب مصطفی خان شیفتہ (1286ھ) وغیرہ کے اسمائے گرامی قابلِ ذکر ہیں۔
1857 کے بعد دنیا کی نام نہاد مہذب قوم نصاریٰ نے جس بربریت اور سفا کی کی مثال تاریخ میں رقم کی اس کی نظیر کمیاب ہے۔ یہی ظلم وجبر اہل ہند کے دل ودماغ پر برسوں طاری رہا ، بالآخر جوش وجذبہ اور نئی سوچ وفکر کا سورج پھر سے طلوع ہوا اور اہل ہند نے اپنے حقوق وآزادی کا مطالبہ دوبارہ شروع کیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس عظیم جدو جہد کا آغاز ہندوستانی مدارس اسلامیہ سے ہوا جبکہ یہی علماء ہند سب سے زیادہ انگریزی عتاب کا نشانہ بنے تھے۔ 1857کی ناکام جنگ آزادی کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے مدارسِ اسلامیہ کو شدید نقصان پہنچایا تھا حتیٰ کہ ان کا نام ونشان تک ہندوستان سے مٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
1866 کو اتر پردیش صوبے کے ایک معمولی قصبہ دیوبند میں چند خدا تربندوں کے اتفاق سے ایک دینی مکتب کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد مسلمانوں کو دینی تعلیم کے ساتھ جوڑنا اور ہندوستان میں اسلامی تشخص کا دفاع کرنے کے ساتھ فرنگیوں کے خلاف نئی حکمتِ عملی کے ساتھ متحد ہوکر ان کو ملک بدر کرنا بھی تھا، بفضلہ تعالیٰ دارالعلوم اپنے مقاصد میں کامیاب رہا اور آج عالم اسلام میں اپنی تعلیمی، فکری، اصلاحی، اخلاقی خصوصیات کے ساتھ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔
دارالعلوم کے روحِ رواں حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (1880)نے اپنے اساتذہ اور بزرگوں حاجی امداد اللہ، شاہ اسحاق ، سید احمد شہید کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے تلامذہ کو انگریز مخالف فکر ونظر سے پوری طرح ٹرینڈ کیا۔ یوں تو ان کے سبھی شاگرد علمی، دینی اور ملی خدمات کے لئے مشہور ہیں، لیکن جو شہرت وعظمت شیخ الہند مولانا محمود حسن (1920) کے حصے میں آئی وہ لا زوال بھی ہے اور بے مثال بھی، اپنے استاد مربی کے مقصد ومنشا کو آگے بڑھاتے ہوئے حضرت شیخ الہند نے ایک ایسے منصوبے کو ترتیب دیا جس نے برطانوی حکومت کا جینا حرام کردیا تھا۔ علاوہ ازیں حصول آزادی کے لئے ایسی راہ ہموار کی کہ جس پر چل کر کاروانِ آزادی نے منزلِ مقصود حاصل کی۔ یہ تحریک ’’ریشمی رومال‘‘ کے نام سے موسوم ہوئی۔ معروف مصنف غلام رسول مہر نے اس تحریک کے بارے میں اپنی کتاب ’’سرگزشت مجاہدین‘‘ صفحہ 252پر لکھا ہے۔
’’میرے مطالعہ اور غور وفکر کا نچوڑ یہ ہے کہ حضرت شیخ الہند اپنی عملی زندگی کے آغاز ہی میں ایک نقشۂ عمل تیار کرچکے تھے اور اسے لباس عمل پہنانے کی کوششیں انہوں نے اس وقت سے شروع کردی تھیں جب ہندوستان کے اندر سیاسی سرگرمیاں محض برائے نام تھیں۔‘‘
ہندوستان کی آزادی کے لئے دیوبند سے اٹھنے والی یہ تحریک برسوں تک برطانوی خفیہ محکمہ کا معما بنی رہی۔اعلیٰ افسران حیران وپریشان تھے کہ عوامی سطح پر ہماری اس درجہ مخالفت کیوں ہو رہی ہے۔ دارالعلوم کے شکستہ ہجرے اور حضرت شیخ الہند کے گھر کے تہہ خانہ میں تحریک ریشمی رومال کے منصوبے تیار کئے جاتے تھے۔ ریشمی کپڑے کے ٹکڑوں پر مراسلت کی مناسبت سے اس کو ریشمی رومال تحریک کا عنوان دیا گیا۔ واضح ہو کہ یہ منصوبہ آزادی نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے برصغیر کو انگریزوں سے پاک کرنے کے لئے تیارکیا گیا تھا۔ اس تحریک کی تائید اور نشر واشاعت میں غیر ملکی بعض اہم شخصیات نے بھی حصہ لیا تھا۔ برٹش گورنمنٹ کے خفیہ ریکارڈ سے مندرجہ ذیل اسماء کی شمولیت ثابت ہوتی ہے۔ احمد کرستان (روس)،عبد العزیز (مصر)، انور پاشا (ترکی)،محمد جمال (شام)، محمد غالب( حجاز)، مصری پاشا (مدینہ منورہ)، حبیب اللہ( افغانستان) ، شیخ رحیم( سندھ) ،محی الدین( کابل)وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
1907 کو اس تحریک کی بھنک سی آئی ڈی کو ملتے ہی اس نے ملک گیر پیمانے پر اس کی تحقیق وتفتیش شروع کردی۔ بالآخر اگست1916 میں اس کے تین خطوط پکڑے گئے، جو کابل سے حجاز ارسال کئے جارہے تھے اور جب اس منصوبے کا راز کھلا تو معلوم ہوا کہ ہندوستان سمیت مختلف ممالک میں اس کے ڈھائی سو مراکز چل رہے تھے ۔جن میں ’’یاغستان اور کابل کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، جہاں حاجی ترنگ زئی انگریزوں کے خلاف کام کررہے تھے۔’’جنودِ ربانیہ‘‘ کے نام سے اس کے کارکنان کی شناخت کی گئی، اس جماعت کے کارندوں کی ایک فہرست برٹش گورنمنٹ کی خفیہ ایجنسی نے تیار کی تھی ۔اس میں کئی سو مجاہدین حریت کی مختصر کیفیات تحریر ہیں جن کے تعارف کے لئے سیکڑوں صفحات درکار ہیں ۔اس لسٹ کے چند نام درج ذیل ہیں : مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خاں، نواب وقار الملک، مولانا وحید احمد، مولانا عزیر گل پیشاوری، حکیم نصرف حسین کوڑا جہاں آبادی، رضوان شاہ کابل، منیر ٹرکی، انور شاہ کشمیری دیوبند، شبیر احمد عثمانی دیوبند، مطلوب الرحمن عثمانی دیوبند، عزیز الرحمن عثمانی دیوبند، حبیب الرحمن عثمانی دیوبند، مولانا متین دیوبند، خلیل احمدانبھیٹوی، احمد علی لاہوری، ظفر علی خاں لاہور ، سیدہادی حسن مظفر نگر، سید سلیمان ندوی، محمد حسن حیدر آباد، سہول دربھنگہ، حسرت موہانی، برکت اللہ بھوپالی، راجہ مہیندر پرتاپ ، ہرنام سنگھ راولپنڈی، کالا سنگھ لدھیانہ ڈاکٹر متھرا سنگھ چکوال، خدا بخش راجستھانی، شجاع اللہ شملہ، فضل ربی ہزارہ، عبد الرب لکھنؤ۔
مندرجہ بالا اسمائے گرامی برٹش سی آئی ڈی رپورٹ میں شامل ہیں۔ ان ناموں کے علاوہ سیکڑوں سرفروشانِ وطن وہ بھی ہوں گے جنہوں نے کسی نہ کسی طرح سے اپنی حب الوطنی کے ساتھ اپنے عزم وہمت کا مظاہرہ کیا ہوگا اور متعدد آزادیٔ ہند کے علمبردار وہ بھی ہوں گے جن تک سی آئی ڈی نہیں پہنچ سکی ہو گی۔ آزادی ہند کے متوالوں کے ان باوقار ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کے عوام وخواص نے ’’ ریشمی رومال ‘‘ تحریک میں حصہ لیا تھا اور اپنا سب کچھ وطن پر قربان کردیا تھا۔ آخر میں ہم نہایت اختصار کے ساتھ ان وجوہات پر روشنی ڈلیں گے جو تحریک ریشمی رومال کی ناکامی کا باعث بنیں۔
اول حجاز کے گورنر کا انگریزوں سے مصلحتاً صلح کرکے بہت سے راز انگریزوں کو دینا، دوم محمد ہادی حسن کے ذریعہ قائد اعظم حضرت شیخ الہند ؒ سمیت مولانا حسین احمد مدنی، مولانا وحید احمد، مولانا عزیر گل، حکیم نصرت کو مکہ مکرمہ سے گرفتار کر کے مالٹا کی جیل میں ساڑھے تین سال قید کرنا۔ دیانت دار مؤرخین اور صحت مند تاریخ سے واقف افراد اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ اس تحریک کے بعد ایشیا اور ہندوستان میں جتنی برٹش مخالف آوازیں ابھریں ان سب کو ریشمی رومال مہم سے حوصلہ اور جذبہ حاصل ہوا اور اسی بنیاد کے سہارے انہوں نے جدو جہد کر کے آزادی حاصل کی۔ بلاشبہ اس تحریک  کے قائدین اور کارکنان کا بلند نصب العین اور نیک نیتی سدا تاریخ میں زندہ رہیں گے بھلے ہی آزادی ہند کی نئی تاریخ میں اس پر پردے ڈالنے کی کوشش کی جائے۔
Abdullah Usmani
4/16, Gaddiwara, Deoband
Mobile: 9837680287

Share Article

2 thoughts on “جنگ آزادی اور تحریک ریشمی رومال

  • May 26, 2013 at 3:57 pm
    Permalink

    مین نے آپکا اخبھار چوتھی دنیا پڑھا ۔پڑھکر بھت خوشی ہوی محمد شاہنواژ پورنوی
    ٧٣٧٩٩٦٧٩١٣

    Reply
  • November 11, 2010 at 7:54 pm
    Permalink

    مجے بہت افسوس ہوا ہے کیوں کے اسس ساری بحث میں ملنا عبید الله سندھی کا کسی جگہ ذکر نہیں کیا گیا حلانکے وہ محمود ال حسسن   کا دستے راس تھے جنھوں نے ساری زندگی جلا وطنی کاتی.اور ہندوستان کی آزادی کے لیے کوشش کرتے رہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *