جمہوریت کا قاتل کون؟ سیاسی پارٹیاں ، آمریت ، بادشاہت، فوج یا سپر پاور

Share Article

یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ امریکہ جیسے جس سپرپاور کے ابراہم لنکن سے جدید جمہوریت کی تشریح دنیا کو ملی، آج وہی ملک دنیا کے مختلف ممالک میں جمہوریت کے قتل میں پیش پیش نظرآتا ہے۔ علاوہ ازیں کسی بھی ملک میں کہیں سیاسی پارٹیاں تو کہیں آمریت، بادشاہت یا فوج جمہوریت کے قتل میں کوئی کردار ادا کرتی ہیں تو وہاں بھی یہی سپرپاور ان کی تائید و حمایت میں کھڑا نظرآتا ہے۔ان سب باتوں پر روشنی ڈالتی ہوئی مندرجہ ذیل انکشافاتی تحریر پیش خدمت ہے۔

p-3صحیح معنوں میں حقوقِ انسانی کا نام ہے۔ جدید جمہوریت کا آغاز امریکہ سے ہوا ہے۔ امریکی صدر ابراہم لنکن (1809-1865) کی نظر میں جمہوریت کا سیدھا مطلب ایک ایسی طرزِ حکومت ہے، جو عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہو۔ یہ جمہوریت کی ایک ایسی تشریح ہے، جس سے عام طور پر سبھی کو اتفاق ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس تشریح کو مان لینے کے بعد سیاسی پارٹیوں، آمریت، بادشاہت، فوج یا سپر پاور میں سے ہر ایک جمہوریت کے دوست نہیں، بلکہ دشمن نظر آتے ہیں۔ لہٰذا اُن میں سے کسی کی بھی مداخلت قابل قبول نہیں ہوتی ہے اور ان میں سے کوئی بھی، خواہ کسی بھی غرض سے جمہوریت کو ڈسٹرب کرے، وہ اس کا قاتل کہلائے گا۔

آج بر اعظم ایشیا کے 46 ممالک میں ایک درجن، یعنی 26 فیصد ممالک میں انتخابی جمہوریت پائی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ممالک میں سے کہیں بھی جمہوریت قائم نہیں ہے، جب کہ جنوب مشرقی ایشیا کے گیارہ ممالک میں صرف تین، یعنی انڈونیشیا، مشرقی تیمور اور فلپائنس جمہوری ممالک ہیں۔ ایشیا کے بالمقابل براعظم افریقہ میں 2010 کے اعداد و شمار کے مطابق، 34 فیصد جمہوری ممالک تھے۔ یہاں عرب بہاریہ کے بعد تیونس اور مصر نے جمہوریت کی جانب قدم تو بڑھایا ہے، مگر ابھی وہاں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ہے۔ویسے بھی مصر میں فوجی سربراہ ابو الفتاح السیسی کے ذریعہ فوجی بغاوت کر کے جس طرح منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ پلٹا گیا ، اس سے جمہوریت کا قتل تو ہوا ہی ہے ۔

ہندوستان ناوابستہ تحریک کا شروع سے وکیل رہا ہے، مگر اس تلخ حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ یہ عالمی سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین کے کیمپ میں تھا اور یہاں کی داخلی و خارجہ پالیسی بالکل آزاد و غیر جانبدار نہیں ہوا کرتی تھی۔ سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد جب امریکہ واحد سپر پاور رہ گیا، تب پھر یہ اس کے زیر اثر آگیا، جس کا اندازہ اس کی داخلی، خارجہ و دیگر پالیسیوں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ ظاہری طور پر یا کھل کر جو بھی ہو، امریکہ کے ذریعے ہمارے ملک کے کمپیوٹر میں بھی نقب ڈال کر جاسوسی کے تعلق سے ایڈورڈ اسنوڈین کی طرف سے جو سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں، وہ تو یہاں کی جمہوریت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔ جہاں تک سپر پاور کے کردار کا تعلق ہے، اس نے ہمیشہ اور ہر دور میں مختلف ممالک کے نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے اور جہاں جہاں جمہوریت کی بحالی کی کوششیں ہوئی ہیں، وہاں اس کا کردار بہت ہی منفی رہا ہے۔ مثال کے طور پر ہم افغانستان، ایران اور مصر کو ہی لیں، تو بڑے چونکانے والے حقائق سامنے آتے ہیں۔

ایشیا میںہندوستان بلاشبہ سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ آئینی طورپر تو یہ دعویٰ صحیح ہے، مگر معنوی اعتبار سے غور کیا جائے، تو جدید جمہوریت کی تشریح پوری ہوتی ہوئی نہیں دکھائی دیتی ہے۔ آئین بننے کے بعد سیاسی پارٹیاں بابائے قوم مہاتماگاندھی کی آنکھ بند ہوتے ہی اس وقت کے لیڈروں کی رہنمائی میں پیپلز ریپریزنٹیشن ایکٹ 1951
ہندوستان ناوابستہ تحریک کا شروع سے وکیل رہا ہے، مگر اس تلخ حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ یہ عالمی سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین کے کیمپ میں تھا اور یہاں کی داخلی و خارجہ پالیسی بالکل آزاد و غیر جانبدار نہیں ہوا کرتی تھی۔ سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد جب امریکہ واحد سپر پاور رہ گیا، تب پھر یہ اس کے زیر اثر آگیا، جس کا اندازہ اس کی داخلی، خارجہ و دیگر پالیسیوں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ ظاہری طور پر یا کھل کر جو بھی ہو، امریکہ کے ذریعے ہمارے ملک کے کمپیوٹر میں بھی نقب ڈال کر جاسوسی کے تعلق سے ایڈورڈ اسنوڈین کی طرف سے جو سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں، وہ تو یہاں کی جمہوریت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔
سُپر پاور کا کردار
جہاں تک سپر پاور کا تعلق ہے، اس نے ہمیشہ اور ہر دور میں مختلف ممالک کے نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے اور جہاں جہاں جمہوریت کی بحالی کی کوششیں ہوئی ہیں، وہاں اس کا کردار بہت ہی منفی رہا ہے۔ مثال کے طور پر ہم افغانستان، ایران اور مصر کو ہی لیں، تو بڑے چونکانے والے حقائق سامنے آتے ہیں۔
ماضی میں ان تینوں ممالک میں بادشات رہی ہے۔ امریکہ ان تینوں ممالک میں تبدیلی کے بعد بادشاہت ، بادشاہ یا بادشاہ کے وارث کو واپس لانے کا خواہاں و کوشاں رہا ہے۔ افغانستان میں تو یہ محمد ظاہر شاہ کو واپس لانے میں کامیاب رہا اور ایران و مصر میں اس کی کوششیں ہنوز جاری ہیں۔ افغانستان میں ایک لمبے عرصے تک بادشاہت رہی ۔ 19 سالہ محمد ظاہر شاہ 1933 میں اپنے والد محمد نادر شاہ کی ہلاکت کے بعد افغانستان کے بادشاہ بنے اور 1973 میں ملک سے باہر نیپلز کے قریب ایشچیا کے جزیرہ میں دورانِ علاج اپنے چچا زاد بھائی اور بہنوئی محمد داؤد کے ذریعے بغاوت میں ان کا تختہ پلٹ دیا گیا۔ بعد ازاں یہ روم (اٹلی)میں پناہ لے کر رہنے لگے۔ دریں اثناء 1978 میں داؤد سوویت یونین کی حمایت سے خونی کمیونسٹ بغاوت میں ہلاک ہوئے۔ پھر 27 دسمبر، 1979 کو سوویت فوج کے افغانستان پر حملہ کے بعد صورتِ حال قطعی طور پر بدل گئی۔ تقریباً دس برس تک سوویت – افغان فوج کی مجاہدین سے جنگ کے بعد سوویت فوج مجبور ہو کر اپنے ملک واپس لوٹ گئی اور پھر سات مجاہدین تنظیموں کے اسلامی اتحاد کی عبوری حکومت الگ الگ تنظیم کے قائد کی سربراہی میں قائم ہوتی رہی۔
بالآخر 1996 میں قائم عبوری حکومت میں جمعیت اسلامی افغانستان کے صدر پروفیسر برہان الدین ربانی نے صدرِ جمہوریہ اور حزبِ اسلامی افغانستان کے امیر انجینئر گلبدین حکمت یار وزیر اعظم بنے، مگر چند ماہ بعد طالبان کی آمد کے بعد ان مجاہدین کا غلبہ وہاں ختم ہو گیا۔ 11 ستمبر، 2001 کو امریکہ پر حملہ کے بعد طالبان حکومت سے اوسامہ بن لادن کو سپرد کرنے کو کہا گیا، مگر انکار کی صورت میں اس کی حکومت کا ہی خاتمہ کر دیا گیا۔ پھر 2002 میں سابق بادشاہ ظاہر شاہ کو روم سے کابل لایا گیا اور انہیں بادشاہت کا آفر ملا، مگر انہوں نے ’بابائے قوم‘ بننا زیادہ پسند کیا۔ اس وقت قبائلی لویا جرگہ منعقد کیا گیا، جس نے حامد کرزئی کو صدارت کے لیے نامزد کیا۔ پھر پانچ برس بعد 23 جولائی، 2007 کو ان کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد کرزئی ابھی تک برسر اقتدار ہیں اور امریکہ 2014 میں اتحادی فوج کی واپسی پر پھر لبرل طالبان کے حوالے افغانستان کو کرنا چاہتا ہے، جس سے کرزئی سخت بے چین ہیں اور ہندوستان، جو اس دوران اُس ملک کی ترقی میں پیش پیش رہا ہے، بھی تشویش میں مبتلا ہے اور وہاں کسی بہتر متبادل کے لیے کوشاں ہے۔ آگے کیا ہوگا، یہ ابھی نہیں معلوم، مگر ان تمام تفصیلات سے یہ بات تو سامنے آ ہی جاتی ہے کہ امریکہ اس خطہ میں اپنے اثرات کو قائم رکھنے میں کسی حد تک بھی جا سکتا ہے اور ظاہر شاہ کی ان کے وطن میں علامتی واپسی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ چاہے جس غرض کے لیے ہو، امریکہ نے ظاہر شاہ کو وطن واپس لا کر یہ ثابت کر دیا کہ اسے جمہوریت کے قیام سے نہیں، بلکہ خطہ میں اپنے مفادات کی تکمیل سے مطلب ہے۔
امریکہ یہی تجربہ ایران میں بھی کرنا چاہتا ہے۔ 1979 میں آیت اللہ روح اللہ مساوی خمینی کی قیادت میں جب تحریک نے پورے ملک میں جڑ پکڑ لی اور انہوں نے 16 برس بعد پہلے نجف اور پھر پیرس میں جلا وطنی کی زندگی گزار کر ایران واپس آنے کا مصمم ارادہ کر لیا، تب 17 جنوری، 1979 کو 1941 سے برسر اقتدار محمد رضا شاہ پہلوی شاہ پور بختیار کو حکومت سونپ کر قاہرہ چلے گئے اور مصر نے انہیں پناہ دی۔ وہیں 27 جولائی، 1980 کو ان کی موت ہوئی اور قاہرہ کی مسجد الرفاعی میں دفن ہوئے۔
اس دوران ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد بنی صدر سے لے کر حسن روحانی تک متعدد اصحاب نے کرسیٔ صدارت سنبھالی اور ولایت فقیہ کے تحت وہاں کا نظام برقرار رہا، مگر امریکہ کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح ایران کے موجودہ نظام کو ختم کرکے پھر سے محمد رضا شاہ پہلوی کے تقریباً 53 سالہ سب سے بڑے بیٹے رضا پہلوی کو ایران کی سربراہی سونپی جائے۔ یہ خود بھی 1906 کے آئین کے مطابق اپنے آپ کو ایران کا ولی عہد گردانتے ہیں۔ ان کے عزائم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فروری 2011 میں تہران میں تشدد بھڑکنے پر انہوں نے برطانوی روزنامہ ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کے نوجوان ملک میں جمہوریت لانے کی غرض سے موجودہ آمرانہ حکومت سے نجات حاصل کرنے کے لیے تہیہ کیے ہوئے ہیں اور جمہوریت ایک ایسا متبادل ہے، جس سے ملک کو محروم نہیں کیا جاسکتا ہے نیز یہ صرف کچھ لمحوں کی بات ہے، جب پورے خطہ میں تبدیلی آئے گی۔‘‘
مصر کی صورتِ حال تو سب سے دلچسپ ہے۔ یہاں شاہ فاروق 1936 سے 1952 تک بادشاہ رہے۔ 1952 میں فوج کے فری آفیسروں کے ذریعے فوجی بغاوت میں ان کا تختہ پلٹا گیا اور یہ اپنے خاندان سمیت روم (اٹلی) چلے گئے۔ وہیں 18 مارچ، 1965 کو 45 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا اور تدفین قاہرہ کی مسجد الرفاعی میں ہوئی۔ یہ وہی مقام ہے، جو کہ سابق شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کی بھی 1980 میں آخری آرام گاہ بنی۔ عیاں ہے کہ جب شاہ فاروق قاہرہ سے روم جلا وطن کیے گئے تھے، تب ولی عہد عثمان رفعت ابراہیم کی عمر مشکل سے دو سال تھی۔ بعد میں شاہ فاروق کا خاندان روم سے سوئزرلینڈ منتقل ہوا۔ یہیں ولی عہد عثمان پلے بڑھے۔ صدر انور سادات کے دور میں یہ 1985 میں مصر بھی گئے اور پھر واپس بھی آگئے۔ 2001 سے ولی عہد عثمان مدرید (اسپین) میں ایک مالیاتی فرم میں مشیر کار کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے ہیں۔
ولی عہد عثمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے وطن لوٹنے کی شدید خواہش ہے اور یہ خبر بھی گرم ہے کہ امریکہ ظاہر شاہ کی طرح ایران میں رضا پہلوی اور مصر میں ولی عہد عثمان کو واپس لانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ولی عہد عثمان مصر میں جو غیر یقینی صورتِ حال پائی جاتی ہے، اس کے لیے فوج کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ انہیں توقع تھی کہ 6 دہائی قبل جو کہانی شروع ہو ئی تھی، شاید اس کا خوش گوار اختتام اب ہو، مگر ایسا نہیں ہوا۔ ویسے وہ الجزیرہ چینل کے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہتے ہیں کہ جب دو برس سے زائد عرصہ قبل یہ انقلاب شروع ہوا، تو انہیں امید تھی کہ اس سے 60 سالہ فوجی ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ ہوگا، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور ملک جس جانب بڑھ رہا ہے، وہاں تاریکی ہی تاریکی ہے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ولی عہد عثمان مصر میں اسپین کی طرح بادشاہت کی واپسی چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح زبردست خانہ جنگی اور فاسشٹ آمرانہ حکومت کے بعد اسپین میں آئینی بادشاہت لوٹی اور جمہوری نظام کو فروغ ملا، اسی طرح مصر میں بھی اس کی واپسی کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مصری نوجوان ملک کی خوش حالی اور ترقی کے لیے بادشاہت کا پھر سے خیر مقدم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی نظر میں موجودہ بحران کا حل آئینی بادشاہت کی واپسی میں ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان ہو یا ایران یا پھر مصر، جہاں بھی بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور جمہوریت کا راستہ ہموار ہونے کے امکانات بڑھے، امریکہ نے ہر جگہ جمہوریت کو فروغ دینے کی بجائے وہاں ان قوتوں کو حمایت دی، جو افرا تفری پیدا کرکے اپنے اپنے مفادات پورا کرنا چاہتی ہیں۔ ان ممالک میں بادشاہت کو بھی کسی نہ کسی شکل میں تسلیم کروانے کا بھی مقصد صرف یہی ہے کہ امریکہ کی چودھراہٹ وہاں برقرار رہے۔
ان تمام تفصیلات سے یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ مختلف ممالک میں جمہوریت کے قتل میں کہیں سیاسی پارٹیاں پیش پیش ہیں، تو کہیں آمریت، بادشاہت یا فوج آگے آگے ہے۔ جہاں تک سپر پاور کا معاملہ ہے، یہ بڑی عجب بات ہے کہ جس ملک سے جدید جمہوریت کی تشریح دنیا کو ملی، آج وہی ملک سپر پاور بن کر مختلف انداز سے جمہوریت کے قتل میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شریک ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *