تلنگانہ کی سیاست

Share Article

اسفر فریدی
مارچ  2010میں جسٹس بی این کرشنا کی سربراہی میں تلنگانہ مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی نے 30دسمبر 2010 کو اپنی رپورٹ پیش کردی۔یہ رپورٹ کتنی کام کی ہے اور اس سے تلنگانہ مسئلے کے حل میں کتنی مدد ملے گی، اس پر بحث ومباحثے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب نئی بحث غلام نبی آزاد کے بیان کے بعد چھڑی ہے۔ غلام نبی آزاد ملک کے وزیر صحت ہیں اور ان کے اوپر عوام کی بہتر صحت کا ذمہ ہے۔البتہ اس سے پہلے وہ کانگریس کے سینئر لیڈر ہیں،اور پارٹی نے انہیں آندھرا پردیش کا انچارج بنایا ہے۔ اس لیے جب وہ پچھلے دنوں صحت کے موضوع پر ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے پڑوسی ملک چین کی راجدھانی بیجنگ پہنچے تو وہاں بھی ان کے ذہن پر تلنگانہ کا مسئلہ ہی چھایا رہا۔ بیجنگ میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جناب آزاد نے جسٹس بی این کرشنا کی رپورٹ کو بیکار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک لاحاصل رپورٹ ہے کیونکہ اس میں ایک دو نہیں بلکہ چھ چھ سفارشات اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔یہ مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ البتہ عام لوگوں کو معلوم ہے کہ اگر جسٹس بی این کرشنا نے صرف ایک دو باتوں ہی پر اکتفا کیا ہوتا تو حکومت اور برسراقتدار پارٹی کے ذمہ داران اسے آدھی ادھوری رپورٹ قرار دے کر ٹھنڈے بستے میں ڈال دیتے ۔غلام نبی آزاد کے بیان سے بھی کچھ ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ تلنگانہ مسئلے کے حل کے لیے ایک بارپھر سے ابتدا کرنی ہوگی۔غلام نبی، آزاد ہیں جو کچھ چاہیں بول سکتے ہیں۔ برسر اقتدار پارٹی کا سینئر لیڈر ہونے کے ناطے انہیں اور بھی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ ہندوستان میں عوام کی تمناؤں اور آرزوؤں کو اسی آسانی کے ساتھ کوڑے دان میں ڈالنے کی بات کہی جاتی ہے۔
غلام نبی آزاد کے بیان کو علیحدہ تلنگانہ ریاست بنانے کی تحریک کے تاریخی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔اس خطے کے عوام صرف کے چندرشیکھر راؤ کی سربراہی میں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل کے بعد ہی الگ ریاست بنانے کی مانگ لے کر سڑکوں پر نہیں اترے ہیں۔ ان کے مطالبے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ البتہ اتنی ہی لمبی تاریخ انہیں ٹھگے جانے کی بھی ہے۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہم الگ تلنگانہ ریاست بنائے جانے کی وکالت نہیں کررہے ہیں۔ ہمیں وکالت کرنی بھی نہیں چاہیے۔ عوام کی وکالت اور ان کی تمناؤں کے مطابق منصفی کا حق صرف حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کتنے لوگ عوامی نمائندہ کا درست مطلب سمجھتے ہیں، لیکن اس کا بنیادی مطلب اور منشا یہی ہے کہ وہ عوام کی خواہشات کے مطابق انتظام وانصرام کی ذمہ داریوں کو نبھائیںگے، اس لیے جمہوری نظام میں عوام سب سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔پہلے یہ بات سیاسی رہنماؤں کو سمجھ میں آتی تھی ، اب وہ اسے سمجھنا نہیں چاہتے ۔
الگ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے مسئلے پر سیاسی پارٹیوں کے دوہرے رویے کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے بہت زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔غلام نبی آزادکے حالیہ بیان سے بھی سیاسی پارٹیوں کی قلعی کھل جاتی ہے۔جناب آزاد نے کہا ہے کہ آندھراپردیش اسمبلی میں اتفاق رائے سے قرارداد منظور کیے بغیراس مسئلے کے حل کی سمت میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ آزادصاحب درست فرمارہے ہیں۔ ایک ریاست کی تقسیم کرکے ایک الگ ریاست کی تشکیل کے لیے ارکان اسمبلی میں اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔ جھارکھنڈ، اتراکھنڈ اور چھتیس گڑھ کی تشکیل سے پہلے بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔ لیکن ارکان اسمبلی میں اتفاق رائے قائم نہیں ہونے کی صورت میں کسی مسئلے کا حل کیسے نکالا جائے، کیا اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آندھراپردیش میںیہی صورت حال ہے۔ آندھرا اور رائل سیما خطے کے ارکان اسمبلی کسی بھی صورت میں الگ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی حمایت کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ظاہر ہے ایسی صورت میں کیا اس مسئلے کو یونہی سلگتا ہوا چھوڑ دیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنے برسوں سے الگ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی مانگ کے باوجود اس سلسلے میں سیاسی پارٹیاں ایک فیصلے پر کیوں نہیں پہنچ پائی ہیں۔اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب تلنگانہ خطے میں سرگرم سبھی پارٹیوں کے لیڈران اس کے حق میں آواز اٹھارہے ہیں تو یہ پارٹیاں دوسرے خطے میں سرگرم اپنے لیڈروں کو سمجھانے اور منانے میںاب تک کیوں ناکام رہی ہیں۔آخر تلنگانہ خطے میں کون سی سرگرم سیاسی پارٹی ہے جو اعلانیہ طور پر الگ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے خلاف ہے۔اگر ایسا نہیں ہے تو پھر عوام کے ساتھ اس آنکھ مچولی کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟ حال ہی میں تلنگانہ خطے سے منتخب ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ذریعے استعفے کو بھی بعض تجزیہ کار اسی آنکھ مچولی کا حصہ مان رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی نیت اب بھی صاف نہیں ہے۔ وہ تلنگانہ خطے میں اپنی ساکھ کو بحال رکھنے اور اسے مزید مضبوط کرنے کی غرض سے استعفے کا یہ ڈرامہ کھیل رہے ہیں۔اس کے پیچھے اس خطے میں جگن موہن ریڈی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو بھی اہم وجہ مانا جارہا ہے۔
اس دوران عوام کے ذریعے الگ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لیے تحریک جاری ہے ۔ یادرہے کہ اب تک سیکڑوں افراداس تحریک کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔کسی نے اپنی بات منوانے کے لیے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دی تو کوئی پولس کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہوگیا۔ جان دونوں صورتوں میں گئیں۔خطے میں اب بھی عام زندگی درہم برہم ہے۔ یہ سلسلہ پچھلے دنوں ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کے استعفوں سے ہی نہیں بلکہ گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔اس کی تفصیلات میں جائیں تو قدم قدم پر سرپیٹنا پڑے گا۔کبھی یاس وناامیدی کا سایہ گہراہوگا تو کبھی اپنے اوپر سے اعتماد اٹھتا نظرآئے گا۔دھوکہ کھانے اور ٹھگے جانے والوں کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے۔ تلنگانہ خطے کے باشندے بھی کچھ ایسا ہی محسوس کرتے ہوں گے۔ یہ خطہ حیدرآباد، عادل آباد، کریم نگر، کھمّم ، محبوب نگر، میڈک، نالگونڈہ، نظام آباد، رنگاریڈی اور وارنگل اضلاع پر مشتمل ہے۔ اسے لسانی اعتبار سے تیلگو اکثریتی علاقہ مانا جاتاہے۔اس سرزمین پر اردو زبان وادب نے بھی اپنے رنگ بکھیرے ہیں۔قومی اتحاد ویکجہتی کے تانے بانے کو مضبوط اور مستحکم بنائے رکھنے میں اردو نے بڑا اہم کردار ادا کیاہے۔ تلنگانہ کے بیشتر علاقے میں اس کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔تلنگانہ کی تشکیل کی صورت میں قومی سطح پر ناانصافی کا شکاررہی اردو بھی عدل وانصاف کی امیدوار ہوسکتی ہے۔
آندھراپردیش کی تقسیم کے ذریعے علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کرنے والوں کی دلیل ہے کہ ریاستی حکومت نے اس خطے کی ترقی پر کبھی توجہ نہیں دی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ خطہ ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ مقامی آبادی تعلیم کے شعبے میں دوسرے علاقوں کی نسبت بہت پیچھے ہے۔ یہاں غریبی نے اپنا گھربنارکھا ہے۔ بچے کم غذائیت کا شکار ہیں۔ بچہ مزدوری کا چلن عام ہے۔ کسان کھیتی کرکے اپنے گھربار کا پیٹ نہیں بھرپاتے تو خود ہی اس دنیا کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔بجلی کی قلت اور پانی کی کمی نے علاقے کے لوگوں کا جینا  دشوار کردیا ہے۔ملک گیر سطح پر دیکھیں تو یہ کوئی نئی صورت حال نہیں ہے۔ ہر دوسرے قدم پر سماجی، اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کے آثار نظرآجائیں گے۔ملک کا شاید ہی کوئی گوشہ ہوگا جہاں تواتر کے ساتھ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہوتی ہوگی۔ سیاست دانوں اور نوکرشاہوں کے بنگلوں کی بات چھوڑ دیجیے، ان کا موازنہ عام ہندوستانی شہریوں کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ان کی قوم الگ ہے، انہیں خوشی خوشی جینے دیجیے، کیونکہ وہ پریشان ہوئے تو ہم سب کی پریشانی اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی۔ تلنگانہ خطے کے باشندے 1956میں آندھراپردیش ریاست کی تشکیل سے پہلے بھی الگ تلنگانہ ریاست چاہتے تھے ۔ وہ آندھرا کے ساتھ انضمام کے خلاف تھے ۔آندھراکے ساتھ تلنگانہ کوملاکر ایک ریاست کی تشکیل  1956 کے ’شرفاکے سمجھوتے‘ کے تحت کی گئی۔تلنگانہ والے اس کے حق میں نہیں تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ آندھرا کے ساتھ ان کی ترقی ممکن نہیں ہوپائے گی۔ تلنگانہ والوں نے آج سے تقریباً 55برس پہلے جو خدشات ظاہر کیے تھے، ان کے مطابق وہ صدفیصد درست ثابت ہوئے۔ان حالات میں اگر وہ خطے میں موجود وسائل کو اپنی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں ، تو اس میں کیا برائی ہے۔
اس سب کے باوجود یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا کہ تلنگانہ والوں کی آج جو حالت ہے اس کے لیے بڑی حد تک وہ خود بھی ذمہ دار ہیں۔انہیں باربار دھوکہ دیا گیا ، اور وہ باربار دھوکہ کھاتے رہے۔ 1953میں ملک میں ریاستوں کی تنظیم نو کے لیے تشکیل دیے گئے کمیشن کی رپورٹ میں بھی واضح طور سے یہ بات کہی گئی تھی کہ آندھراکے باشندے تو انضمام سے خوش ہیں مگر تلنگانہ والوں کے کچھ اندیشے ہیں۔ اس لیے آندھرامیں تلنگانہ کے انضمام سے پہلے تلنگانہ والوں کی خواہشات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس کمیشن نے یہ بھی سفارش کی تھی کہ پہلے الگ تلنگانہ ریاست کی تشکیل ہو، اور پھر 1961کے عام انتخابات کے بعد اگر تلنگانہ اسمبلی میں دو تہائی کی اکثریت سے قرارداد منظور ہوجائے تو اسے آندھراپردیش کے ساتھ ملادیا جائے ۔اس وقت حیدرآباد ریاست کے وزیر اعلیٰ بی آر راؤ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تلنگانہ کے عوام آندھرا میں اس کے انضمام کے خلاف ہیں۔اس کے باوجود انہوں نے تلنگانہ خطے میں شدید مخالفت کی پروا کیے بغیرتلنگانہ اور آندھرا کے انضمام کی کانگریس اعلیٰ کمان کے فیصلے کی حمایت کردی۔البتہ تلنگانہ والوں کے غم وغصے کو رام کرنے کی غرض سے ریاستی اسمبلی میں 25نومبر 1955 ایک قرار داد پاس کی ۔ اس کے تحت تلنگانہ خطے کوخصوصی تحفظ فراہم کرانے کی بات کہی گئی۔ اس قراردادمیں اسمبلی نے تلنگانہ خطے کے باشندوں کو یہ اطمینان دلایا تھا کہ اس علاقے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔اس کے لیے سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں انہیں ریزرویشن بھی دینے کا سبز باغ دکھا یا گیا۔ اسی کے ساتھ تلنگانہ میں زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لیے وہاں سینچائی کے نظام میں بہتری لانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔اس کے باوجود وہ سب نہیں ہوسکاجس کی تمنا تلنگانہ کے باشندوں نے کی تھی۔یہاں اس بات کا ذکر بیجا نہیں ہوگا کہ اس وقت بھی تلنگانہ خطے سے تعلق رکھنے والے کئی رہنماؤں نے اس قرارداد پر عمل آوری کے بارے میں شک وشبہے کا اظہار کیا  تھا۔
تلنگانہ والوں کو اس بات کا درد شاید زیادہ ہے کہ جدید ہندوستان کے معمار اور ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہرلعل نہرو نے بھی ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔پنڈت نہرو نے آندھرااور تلنگانہ کے انضمام کو ’طلاق کے ضابطے کے ساتھ شادی سے تعبیر‘ کیا تھا، مگر آج اس کی حقیقت کچھ دوسری ہی نظر آتی ہے۔ آندھرا اور تلنگانہ برابرکے شریک نہیں بلکہ مالک اور باندی معلوم ہوتے ہیں۔
اس تناظر میں ایک بات غور کرنے لائق ہے ۔ ہندوستان اپنی  قومی پالیسی کے تحت مذہبی بنیاد پر کسی ملک یا ریاست کی تشکیل کا مخالف ہے۔ یہ کسی بھی مقصد کے لیے مسلح تحریک کو درست قرار نہیں دیتا بلکہ اسے دہشت گردی مانتا ہے۔ ہندوستان ہر ایک مسئلے کا حل پرامن طریقے سے نکالے جانے کا طرفدار ہے۔ ان باتوں کو ذرا ذہن میں رکھیے اور پھر غور کیجیے کہ مذہبی بنیاد پر اور مسلح تحریک کے ذریعے جب سوڈان کے عیسائی امریکہ اور یورپ کی حمایت سے ایک الگ ملک بنوانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ہمارے حکمراں انہیں مبارکباد دیتے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر ایک نئے ملک کا استقبال کرتے ہیں، مگر یہی سلوک اپنے ملک کے عوام کے ساتھ نہیں کرتے۔ تلنگانہ خطے کے باشندے تقریباً نصف صدی سے پرامن طریقے سے ایک الگ ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں اور ان کی کوئی سنوائی نہیں ہورہی ہے ۔ ہم تو ان رہنماؤں سے بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ :
اپنوں پہ ستم غیروں پہ کرم
اے جان وفایہ ظلم نہ کر!

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *