تحریک چمپارن کے مظلوم باورچی بتّخ میاں کی زمین ابھی بھی واپس نہیں ہوئی

Share Article

au-asif-for-webصد ر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی نے 31 جنوری 2017 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ بجٹ اجلاس میں بابائے قوم گاندھی جی کے حوالے سے چمپارن تحریک کا جو ذکر کیا ہے، وہ بہت ہی بروقت ہے۔ اس تحریک کو ایک صدی ہورہی ہے۔ اس تحریک کی اہمیت ہندوستان کی تحریک آزادی میں اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ یہاںسے شروع ہوئی تھی عدم تشدد کے سہارے انگریزوں کے تسلط کے خلاف باضابطہ جدوجہد ۔ اس تحریک کے سبب آزادی کی تحریک کو ان دنوں مظفرپور کے ایک کالج میںدو اساتذہ آچاریہ جے بی کرپلانی ار این آر ملکانی جو کہ سنگھ سے وابستہ کے آر ملکانی کے بڑے بھائی تھے، ملے۔ شفیع داؤدی ملے، بابو راجندر پرساد ملے، بابو برج کشور پرساد ملے اور حسن مجتبیٰ عرف بٹو بابو ملے۔ چمپارن تحریک سے جڑے ہوئے دو نام ایسے ہیں جنھیں اس کا روح رواں کہا جاسکتا ہے۔ ایک راجکمار شکلا ہیں جو کہ گاندھی جی کو کولکاتا سے پٹنہ لائے تھے تاکہ نیل کی کھیتی میں انگریزوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے انھیں موتیہاری لے جایا جاسکے۔ پٹنہ میں گاندھی جی اپنے لندن میں قیام کے دوران سینئر دوست مولانا مظہر الحق بیرسٹر کی رہائش گاہ پر ٹھہرے اور پھر انھوں نے مظفر پور میں کرپلانی اور ملکانی سے ان کا رابطہ کرایا۔ مظہر الحق بیرسٹر اس سلسلے کی دوسری کڑی ہیں۔ یہ وہی مظہرالحق ہیں جنھوںنے کانگریس کو اپنا ’صداقت آشرم‘ گفٹ کردیا تھا۔ موتیہاری میں قیام کے دوران گاندھی جی نے جو کچھ کیا، وہ تو اب تاریخ کا حصہ ہے مگر یہ بھی تاریخ ہے کہ وہاں انھیں مقامی مسلم آبادی کا بھرپور تعاون ملا۔
عیاںرہے کہ گاندھی جی نے موتیہاری پہنچ کر 16 اپریل 1917 کو چمپارن تحریک کی شروعات کی تھی۔ انگریزوں کو جیسے ہی یہ خبر ملی، انھوں نے فوراً ہی انھیں چمپارن چھوڑنے کو کہا مگر وہ نہیںمانے اور تحریک جاری رکھی۔ تب مقامی انگریز حاکم کا حکم نہ ماننے کے سبب اس وقت کے مقامی ایس ڈی او جارج چندر کی عدالت میںانھیں18 اپریل کو حاضر ہونے کا آرڈر ملا۔ وہاں سے انھیں جیل بھیج دیا گیا۔ جیل میں انھیں مارنے کی سازش رچی گئی۔ اسی دوران مقامی اجگری گاؤں کے باشندے بتّخ میاں جو کہ باورچی تھے، سے گاندھی جی کو دیے جارہے دودھ میں زہر ملانے کو کہا گیا۔ مجبوری میں بتّخ میاںنے زہر تو ملادیا مگر اس کی جانکاری گاندھی جی کو چپکے سے دے دی۔ اس طرح گاندھی جی زہریلے دودھ کوپینے سے بچ گئے۔
بتّخ میاں کو اپنے اس کارنامے کی سزا بھی بھگتنی پڑی۔ ان کی 50 ایکڑ زمین ضبط کرکے نیلام کردی گئی۔ پھر اولین صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندرپرساد نے 1950میںان کی حالت زار پر توجہ دی اور حکومت بہار سے نیلامی رد کرکے زمین واپس کرنے کا حکم دلوایا۔ لیکن اس کے باوجود ان کی اب تک پوری زمین واپس نہیں ہوسکی۔ اس دوران بتخ میاں کا انتقال ہوگیا۔ درمیان میں صدر پرتبھا دیوی نے بھی دلچسپی لی جس کے سبب 11 ایکڑ زمین واپس ہوئی اور ہنوز 39 ایکڑ زمین کی تلاش جاری ہے۔
حکومت کی اس ناکردگی اور عدم توجہی کے سبب بتخ میاں جن کی قربانی کے سبب گاندھی جی کی جان بچی تھی، کے ورثاء ابھی تک پریشانی کی حالت میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اتنے لاچار اور مجبور ہیں کہ آزادی کی لڑائی میں اہم کردار ادا کرنے والے اس طرح کے فرد کے ورثاء کو بھی انگریزوں کے ذریعہ ان کی نیلام کی گئی زمین کو واپس دلاکر انھیں انصاف نہیں دلاسکتے ہیں۔
صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کا چمپارن تحریک کو اپنے پارلیمانی خطبہ میں یاد کرنا قابل تحسین ہے مگر کتنا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اس تحریک کے ایک عظیم کردار بتّخ میاں کی انگریز حاکموں کے ذریعہ 100 برس قبل چھینی ہوئی مکمل زمین کو واپس کرانے میں عملی دلچسپی لیتے تاکہ ان کے ورثاء کو یہ زمین واپس مل سکتی۔
یہیںیہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گاندھی جی ایک ایسی شخصیت رہے ہیں جنھیںمسلمانوں کا ان کے وطن راجکوٹ سے لے کر جنوبی افریقہ جانے اور وہاں بھی سرگرمی جاری رکھنے اور 1915 میں وطن واپس آکر جدوجہد آزادی میںشرکت کرنے کے دوران بھرپور تعاون ملا۔ موتیہاری میں چمپارن تحریک سے لے کر 15 اگست 1947 کو آزادی ملنے تک کی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے۔
گاندھی جی ان سب باتوںکے سبب مسلمانوں سے ہمیشہ قربت محسوس کرتے رہے۔ نیز اپنی عادت اور اصول کے مطابق حق و انصاف کی بات کی اور اس میںمذہب و ملت کا کوئی فرق نہیںرکھا۔ انھیںاس کے لیے اپنی جان کی قیمت بھی چکانی پڑی۔ اس سال 30 جنوری کو گاندھی جی کے 69ویں یوم وفات کے موقع پر نئی دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک خصوصی پروگرام کے دوران تقریر کرتے ہوئے مشہور دانشور ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق استاد اور شملہ میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس اسٹڈیز کے فیلو پروفیسر آنند کمار نے کہا ،ان کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کے ان کے خلاف الزامات میںسب سے اہم الزام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی طرفداری کرتے تھے۔
معروف بزرگ صحافی کلدیپ نیر کی صدارت میںمنعقد اس تقریر کے بعد جب اس کالم نویس نے کھچا کھچ بھرے ہال میںیہ سوال کیا کہ یہ کیسی عجب بات ہے کہ ایک طرف تو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آج ’گاندھی کے ریلی وینس ‘ پر لیکچر ہورہا ہے تو دوسری طرف دہلی یونیورسٹی میںایک خاص نظریہ کے لوگوں کے ذریعہ ان کے قاتل ناتھورام گوڈ سے کی شان میںقصیدے پڑھے جانے کی کوشش ہورہی ہے؟ اس پر پروفیسر آنند کمار کہنے لگے کہ انھیں پتہ ہے کہ ایسی کوششیںمستقل ہورہی ہیں مگر حق کی آواز بلند کرنے والے بابائے قوم کا ریلی وینس کبھی ختم نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے ساتھ پورا ملک اور پوری دنیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ گاندھی جی کسی ایک طبقہ یا ایک فکر و نظریہ کے نہیں بلکہ پورے ملک کے بابائے قوم تھے اور ان کے اثرات اس ملک سے باہر نکل کر دوسرے ممالک میںبھی پڑے ہیں۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا اس کی بہترین مثال ہیں۔
چمپارن کی سرزمین اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ یہ صرف گاندھی جی کی تحریک ہی نہیںبلکہ نیتاجی سبھاش چندر بوس کی جدوجہدسے بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ بڑی دلچسپ حقیقت ہے کہ نیتا جی ہندوستان سے اٹلی اور جرمنی جانے سے قبل چمپارن کے جنگل میںکئی ماہ چھپے رہے تھے اور وہاںبیتیا کے متعدد مقامی مسلمان انھیںکھانا اور دیگر سہولیات پہنچاتے تھے۔ ان لوگوںمیں چودھری چرن سنگھ حکومت میںوزیر رہے فضل الرحمٰن مرحوم بھی تھے۔ یہ اس زمانے میںنیتاجی سے بہت قریب ہوگئے تھے۔
اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ چمپارن کی سرزمین گاندھی جی اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کی سرگرمیوں کے سبب ہندوستان کی تحریک آزادی کے لیے بہت ہی تاریخی ہے۔ گاندھی جی کی وہاں کی سرگرمیوں کے بارے میںتو معلومات دستیاب ہیں مگر نیتاجی سبھاش چندر بوس کے چمپارن کے جنگل میں قیام کے سلسلے میںکوئی معلومات ٹھیک سے حاصل نہیںہے۔ ضرورت ہے کہ اس سلسلے میںتحقیقی کام ہوتا کہ تحریک آزدی کے گمشدہ باب کو اجاگر کیا جاسکے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *