تحریک آزادی کا گہوارہ دیوبند اخبارات و رسائل کا بھی گڑھ

damiنایاب حسن قاسمی

دارالعلوم کے علاوہ خود دیوبند سے بھی اب تک خاصی تعداد میں اخبارات ور سائل شائع ہوچکے ہیں اور ان میں سے تقریباً تمام کے بانی و مدیر دارالعلوم کے فیض یافتگان ہی رہے ہیں، ان میں کچھ وہ تھے جو نسلاً یہیں کے پروردہ اور اسی کی خاک سے اٹھنے والے تھے اور کچھ وہ جو ملک کے بعید المسافت خطوں سے اکتساب فیض کی خاظر دیوبند آئے پھر اس کی دلکشی و روح پر ور علمی ،تہذیبی اور روحانی فضائوں نے ان کے قدموں کو جکڑ لیا اور وہ یہیں رہ پڑے۔
اس سے انکار کرنا شُپرہ چشمی ہوگی کہ دیوبند سے ماضی میں جو اخبارات و رسائل جاری ہوئے ، وہ وقت کی آواز تھے اور ان میں کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی امنگ و ترنگ موجود تھی، لیکن ان سب کی ٹریجڈی یہ رہی کہ وہ نکلتے گئے اور کسی نہ کسی عارض کی وجہ سے بند ہوتے گئے۔ بہت سوں کے مدیر نے جب کسی وجہ سے دیوبند کو خیر باد کہا تو ان کا رسالہ بھی ان کے ساتھ ہی چل بسا، بہت سے مالیاتی بحران کا شکار ہو کر جاں ہار ہوگئے ،کئی ایک کے ذمہ داروں کی پست ہمتی انہیں لے ڈوبی اور چند ایک اپنے مدیر کی حیات تک تو بڑی آب و تاب کے ساتھ نکلے اور دنیائے ادب و صحافت سے خوب ستائش و تحسین بھی حاصل کی مگر اِدھر ان کے مدیر کی وفات ہوئی اُدھر ان کا سفرِ اشاعت بھی تمام ہوگیا۔
دیوبند سے ماضی میں جو اخبار یا رسائل نکل چکے ہیں، ان میں المفتی(مفتی محمد شفیع، خالد(مولانا سید محمد میاں )، تجلی(مولانا عامر عثمانی )، القاسم، مہاجر(مولانا وحید الزماں کیرانوی)، تذکرہ(نجم الدین اصلاحی)،سلطان العلوم(عتیق الرحمن آروی)، المحمود، الخلیل، میقات(یحیٰ صدیق تھانوی) ، ہفت روزہ انور، ماہ نامہ طیب(سید ازہر شاہ قیصر)، قاسمی میگزین(طلبہ دارالعلوم )، ماہ نامہ سیاست(مولانا اسحاق علی )، پندرہ روزہ مرکز(عبد اللہ جاوید،) ،اسلامی دنیا(امتیاز نسیمی) ، پندرہ روزہ خبر نامہ(اظہر صدیقی )، ماہ نامہ ہادی، یثرب، نقش(مولانا سید انظر شاہ کشمیری)، پندرہ روزہ اشاعت حق(مولانا نسیم اختر شاہ قیصر)، ماہنامہ پیغام محمود(طیب ہردوئی )، پندرہ روزہ دیوبند ٹائمز(مولانا شاہین جمالی، مولانا اعجاز احمد قاسمی)، پندرہ روزہ چراغ حرم، ماہنامہ الاصفر، پندرہ روزہ اجتماع(مولانا حسن الہاشمی ، ڈاکٹر عبید اقبال عاصم )، پندرہ روزہ نگر اسپاٹ، پندرہ روزہ دیوبند ایکسپریس، ماہنامہ توحید، ماہنامہ الایمان(ڈاکٹر تابش مہدی) )، ماہنامہ مشرب(مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی )، پندرہ روزہ عقائد(مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی ، اطہر عثمانی )، ماہنامہ عزم حسین(مولانا سید حبیب اللہ مدنی )، پندرہ روزہ حکیم الاسلام ٹائمز(مولانا محمد سفیان قاسمی ) لائق ذکر ہیں۔
ان میں کچھ 50 اور اکثر 60 اور90 کی دہائیوں کے دوران جاری ہوئے اور چند مہینوں ،چند سالوں اور دو ایک صرف ایک شمارے میں ہی دم توڑ گئے۔ ان میں صرف ’تجلی ‘وہ واحد رسالہ ہے جو مولانا عامر عثمانی کی ادارت میں متواتر 35 سال تک جاری رہا اور نہ صرف جاری رہا بلکہ اس نے اردو کی ادبی و علمی صحافت میں اپنا خاص مقام بنایا اور پورے بر صغیر میں اپنے لاکھوں پرستار پیدا کئے۔مولانا کی وفات (جولائی 1975) کے بعد بھی ان کے وارثین 8-7 سال تک کسی نہ کسی طرح اسے نکالتے رہے مگر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔دوسرا پندرہ روزہ اخبار ’’ دیوبند ٹائمز‘‘ ہے جو ایک طویل عرصے تک جاری رہا اور اپنے وقت کے مقامی اخباروں میں مفرد شناخت رکھتا تھا۔
دیوبند کے موجودہ رسائل
1 ) ’’ندائے دارالعلوم‘‘ یہ وقف دارالعلوم دیوبند کا ترجمان ہے۔ اس کے پہلے مدیر مولانا عبد الرئوف عالی رہے اور یہ پندرہ روزہ تھا، پھر ایک عرصے تک بند رہا ۔ دسمبر 2006 سے اس کی دو بارہ ماہانہ اشاعت شروع کی گئی اور اس کے مدیر تحریر مولانا غلام نبی کشمیری بنائے گئے۔اب بھی مولانا ہی اس کے مدیر ہیں، اس پرچے کے مشمولات تمام ترعلمی و دینی نوعیت کے ہوتے ہیں ۔مدیر اور ملک کے دیگر اہل قلم کے علاوہ مولانامحمد سالم قاسمی اور حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب کی تحریریں اس رسالے میں پابندی سے شائع کی جاتی ہیں۔ وقفے وقفے سے وقف دارالعلوم کے کوائف اور سرگرمیوں کو بھی جگہ دی جاتی ہے۔
2 )’’طلسماتی دنیا ‘‘ یہ مولانا حسن الہاشمی (فاضل دارالعلوم ) کی ملکیت اور ادارت میں ،ان کے ادارہ ’ہاشمی روحانی مرکز‘ سے گزشتہ 19سالوں سے نکل رہا ہے اور جیساکہ نام سے ظاہر ہے اس کا مزاج و نہاد عام رسالوں سے بالکل علاحدہ اور ان کی روحانی سرگرمیوں کا آئینہ دار ہے۔ مختلف عصری مسائل پر مولانا ہاشمی کے بصیرت روز اداریے فکر و نظر کو مہمیز کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس کا ’’اذان بت کدہ‘‘ کا کالم بھی خاصے کی چیز ہے ،نیز اس کے سلسلہ وار شائع ہونے والے ادبی ناولوں میں بھی ادب نواز طبقے کی دلچسپی کا سامان ہوتاہے۔
3 )ماہ نامہ ’’ترجمان دیوبند‘‘ یہ رسالہ 12 سال سے مشہور اہل قلم مولانا ندیم الواجدی کی ادارت میں نکل رہا ہے اور اپنے علمی ، دینی ، سیاسی ، ادبی اور تحقیقی مضامین کی وجہ سے اہل علم و نظر میں خاصا مقبول ہے۔
4 )ماہ نامہ ’’ محدث عصر‘‘ ۔اس پرچے کو مولانا سید انظر شاہ کشمیری نے اپنے قائم کردہ اداریئے جامعہ امام محمد انور شاہ سے 2001 میں جاری کیا تھااور تاحیات (اپریل 2008) مولانا ہی اس کے سرپرست اور مدیر رہے۔ ان کی وفات کے بعد سے ان کے صاحب زادے مولانا سید خضر شاہ اس کے مدیر ہیں۔ اس کے مشمولات بھی خالص علمی و دینی ہوتے ہیں۔ حضرت علامہ کشمیر کی تحقیقات اور مولاناسید انظر شاہ کی علمی و ادبی تحریریں بھی بہ کثرت شائع کی جاتی ہیں۔ اس کا اداریہ جسے ’’عصریات‘‘ کے عنوان سے پہلے اس کے بانی اور اب ان کے صاحبزادے سیاست عالم پر لکھتے ہیں ،خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح اس کا نقد و نظر کا کالم بھی جدید مطبوعات پر بے لاگ سنجیدہ اور مبنی بر حق تبصروں کے حوالے سے اپنی خاص شناخت رکھتا ہے ۔ نقد و نظر کا فریضہ مولانا فضیل احمد ناصری انجام دیتے ہیں جو اس رالے کے رکن مجلس ادارت اور مرتب بھی ہیں۔ جامعہ کی سرگرمیاں بھی اس کا مستقل کالم ہے جس میں ہر ماہ جامعہ امام محمد انور شاہ کی تازہ سرگرمیاں ،واردین و صادرین کے تاثرات اور مدیر جامعہ کے اسفار کی روداد شائع کی جاتی ہیں۔
5 )ماہ نامہ ’’ اتباع سنت‘‘ یہ خالص علمی و دینی رسالہ ہے جو دیوبند کی قدیم ترین درسگاہ مدرسہ اصغریہ سے 2000 سے نکل رہا ہے۔ اس کے سرپرست مدیر اعلیٰ مولانا سید عقیل حسین اور مدیر مولانا جاوید اختر آسی ہیں۔
6 ) سہ مای ’’ النصرہ ‘‘ یہ رسالہ گزشتہ دو سال سے دارالعلوم النصرہ، قاسم پورہ روڈ دیوبند سے جاری ہے۔ اس کے مدیر اعلیٰ مولانا جمیل احمد قاسمی ، نائب مدیر مولانا اسجد قاسمی اور معاون مولانا محمد ارشد قاسمی ہیں۔ اس کے مضامین بھی علمی و مذہبی ہوتے ہیں۔ فقہی سوالوں کے جوابات ، دارالعلوم النصرہ کا تعارف اور مدیر جامعہ کی علمی و تبلیغی سرگرمیوں کی تفصیلات بھی اس میں پابندی سے چھپتی ہیں۔
تصویر کے نیچے
دیوبند جو کہ تحریک آزادی کی جدو جہد کا مرکز رہا ہے، ہنوز علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا بڑا گڑھ ہے۔یہاں سے نکلنے والے اخبارات و رسائل ملک و ملت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان سب کاجائزہ اس کالم میں لے رہے ہیں دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل مشہور مصنف نایاب حسن ۔موصوف نے ’’ورق ورق درخشاں‘‘ اور’ ’دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظر نامہ ‘‘ جیسی اہم کتابیں تصنیف کی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *