تبصرۂ کتب

Share Article

دنیائے اردو ادب میں ڈاکٹر سیفی سرونجی صاحب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور مقبول عام ہوچکی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تنقید مجھے نہیں آتی‘‘ سیفی صاحب کے ان تاثراتی مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اردو ادب کی نامور شخصیات اور ان کے فن پاروں پر سپرد قلم کیے ہیں۔
’’تنقید مجھے نہیں آتی‘‘ کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:ـ
’’واقعی مجھے تنقید نہیں آتی۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ بہت سے لوگ میرے انہیں تاثراتی مضامین کو تنقید کا نام دینے لگے تو میں نے بھی سوچا، چلو اچھا ہے بیٹھے بٹھائے شاعر سے زیادہ لوگ نقاد سے مرعوب ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ تنقیدی تاثراتی مضامین جو انتساب کے علاوہ ہندوستان کے مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان مضامین کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہے، لیکن صرف چند مضامین کتاب میں شائع کیے جارہے ہیں، وہ بھی یہ سوچ کر کہ یہ ادھر ادھر بکھرے ہوئے مضامین کہیں ضائع نہ ہوجائیں، جس طرح میری بہت سی کہانیاں، جو آج سے تیس سال پہلے لکھی گئی تھیں، ضائع ہوچکی ہیں، جو شائع ہوگئی تھیں، ان کا بھی اب ریکارڈ موجود نہیں۔ بس اسی خیال سے ان مضامین کو یکجا کردیا گیا ہے تاکہ ایک جگہ ایک کتاب میں محفوظ ہوسکیں۔‘‘
’’تنقید مجھے نہیں آتی‘‘ کا انتساب ماہنامہ ’’فلمی ستارے‘‘ کے مدیر حاجی انیس دہلوی مرحوم اور ان کے فرزند کفایت دہلوی کے نام کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ’’میرے محسن و کرم فرما حاجی انیس دہلوی‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون بھی شامل اشاعت ہے، جس میں انہوں نے حاجی صاحب سے ملاقات کے دوران اردو ادب کی نامور شخصیات سے ملاقات بھی کرائی ہے۔
’’تنقید مجھے نہیں آتی‘‘ میں اردو ادب کے نامور ادیبوں اور شاعروں کے فن پاروں پر جامع مضمون کے ساتھ ساتھ ان کی ملاقاتوں میں سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب کی فہرست میں 33مضامین ہیں، جن کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسا گمان ہوتا ہے کہ اردو کے تاجداروں سے ہماری بھی واقفیت ہوگئی۔ ’’تنقید مجھے نہیں آتی‘‘ میں شمس الرحمن فاروقی اور شب خون کے حوالے سے ایک جامع مضمون شامل اشاعت کیا گیا ہے تو جدید ادبی تھیوری اور گوپی چند نارنگ کے عنوان سے ایک شاندار مضمون شائع کیا گیا ہے۔ کتاب میں مظفر حنفی صاحب کو تخلیقی قوتوں کا شاعر، بیکل اتساہی صاحب کو بحیثیت گیت کار، شعری بھوپالی صاحب کو شہنشاہ غزل اور اخترسعید خاں کو اردو غزل کی تابناک آواز قرار دیا گیاہے، جب کہ منور رانا صاحب بحیثیت انشائیہ نگار پیش کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پروفیسر عبدالقوی دسنوی اور ڈاکٹر کیول دھیر شخصیت اور فن کے آئینے میں، قاضی مشتاق احمد اور ان کے افسانے کے ساتھ ساتھ شاہد میر کی دوہا نگاری پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ کمار پاشی اور کالی داس گپتا رضا سے ملاقاتیں بھی کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اردو ادب کی ممتاز ہستیوں اور ان کی نگارشات پر بہت جامع اور کار آمد مضامین ’’ مجھے تنقید نہیں آتی‘‘ میں شامل کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر سیفی سرونجی صاحب شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ نقاد بھی ہیں، اس کا فیصلہ ’’تنقید مجھے نہیں آتی‘‘ کے مطالعے کے بعد ہی آپ کرسکتے ہیں، کیوں کہ انہوں نے اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں لکھا ہے۔ ڈاکٹر سیفی کی زبان نہایت سلیس عام و فہم اور دل میں اتر جانے والی ہے۔ زبان و بیان پر انہیں دسترس حاصل ہے۔ ان کی شخصیت میں بلا کا خلوص، رواداری اور انکساری بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس طرح کے تاثرات انہوں نے عظیم شخصیتوں سے ملاقاتوں کے دوران چھوڑے ہیں۔ امید ہے ڈاکٹر سیفی سرونجی صاحب کی یہ کتاب ’’تنقید مجھے نہیں آتی‘‘ بھی ان کی دیگر کتابوں کی طرح مقبول عام ہوگی۔

نام کتاب    :    تنقید مجھے نہیں آتی
مصنف    :    ڈاکٹرسیفی سرونجی
سن اشاعت    :    2010
قیمت    :    200روپے
زیراہتمام    :    انتساب پبلی کیشنز، سیفی لائبریری، سرونج (ایم پی)
مبصر    :  شاہد نعیم

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *