نام کتاب    :    شوشے
مصنف وناشر    :    اسدرضا
قیمت    :    150
صفحات    :    160
ملنے کا پتہ    :    ایجوکیشنل پبلیشنگ
ہائوس دہلی
تبصرہ نگار    :     شاہدنعیم

 

طنز و مزاح نگاری ایک مشکل فن ہے۔ لیکن قدرت  نے جنہیں صلاحیت عطا کی ہے وہ مشکل سے مشکل کام کو بآسانی اور کامیابی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اسد رضا صاحب کو بھی قدرت نے بلا کی صلاحیت عطا کی ہے۔ ان کا شمار اردو کے ممتاز صحافیوں اور عظیم طنز و مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ پیش نظر ہے ان کا طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ’’ شوشے‘‘۔ جس کے عنوان سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ انہوں نے اس میں کتنے شوشے چھوڑے ہوں گے۔
اسد رضا صاحب اردو کے موقر جریدہ راشٹریہ سہارا سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ سیاسی مضامین کے ساتھ ساتھ ’’ تلخیاں ‘‘ عنوان سے طنزیہ کالم بھی لکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک قطعہ بھی روزانہ شائع ہوتا ہے ۔اس سے پہلے انہوں نے بچوں کے لئے چٹ پٹی کہانیاں لکھیں جو ’’ چاند نگر کی سیر‘‘ عنوان سے کتابی شکل میں سامنے آیا۔ ان کے دو شعری مجموعے ’’ آئینے احساس کے‘‘ اور ’’ شہر احساس‘‘ بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔اس کے علاوہ  طنزیہ و مزاحیہ مضامین کے دو مجموعے ’’ شوخیٔ قلم‘‘ اور ’’ ادبی ہسپتال‘‘ بھی شائع ہوئے ہیں۔ اب یہ چھٹا مجموعہ ’’ شوشے‘‘  پوری آب و تاب کے ساتھ منظر عام پر آیا ہے۔
یوسف ناظم صاحب نے ان کے بارے میں لکھا ہے ’’ اسد رضا کا قلم شوخ تو ہے لیکن محتاط بھی ہے۔ ان کی ظرافت میں ادبی شان تو ہے ہی صحافت کی گوناگوں خصوصیات بھی ہیں لیکن دھیمے سروں میں‘‘۔ اسد رضا کی طنزیہ و مزاحیہ کائنات کے تحت ڈاکٹر مولیٰ بخش لکھتے ہیں.
اسد رضا نے اپنے متن کی تشکیل میں بیانیہ انداز اور کرداروں کے ذریعے اپنی بات کہنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے زبان کی الٹ پھیر سے زیادہ  واقعہ نگاری کو اپنے لئے مختص کر لیا ہے۔ حالانکہ اس طریق کار کو اپنانے والے اکثر طنز و مزاح نگار پھکڑپن اور ابتذال کے قریب پہنچ جاتے ہیں لیکن اسد رضا نے ایک آدھ مثالوں  سے قطع نظر خود کو بذلہ سنجی اور نکتہ سنجی کے قریب رکھا ہے۔اسد رضا صاحب طنز کے تیر بڑی شوخی اور ظرافت  کے ساتھ چلاتے ہیں۔ اپنے تعارف میں وہ لکھتے ہیں ’’ میں چونکہ اردو کا ایک ایماندار قلم کار ہوں لہٰذا کسی پاش کالونی کی کوٹھی میں نہیں بلکہ جنوبی دہلی کی ایک عام سی بستی حوض رانی میں چھوٹا سا مکان بنا کر قلم گھس رہا ہوں ۔میں نے بار ہا  اپنے قلم سے کہا کہ کسی وزیر کبیر کی شان میں نثری قصیدے لکھ، کسی سرمایہ دار کی ، استحصالانہ بد اعمالیوں کی ثنا خوانی کرتاکہ مکان کی  بجائے بنگلے میں رہنے کا موقع ملے لیکن میرا قلم مجھ سے زیادہ با ضمیر نکلا اور ابھی تک ضمیر فروشی کے لئے آمادہ نہیں ہوا‘‘ اسد رضا بنیادی طور پر  ایک منفرد فنکارانہ ذہن رکھتے ہیں جس کی پرچھائیاں ان کی تحریروں میں نظر آتی ہیں۔ مزاح ہو کہ طنز، اسد رضا صاحب نے اسے شوخی کی حد تک لطیف ظرافت ، معنی خیز مسکراہٹ کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
وہ سماج میں جب بھی کوئی نا ہمواری دیکھتے ہیں اس پر غور کرتے ہیں اور پھر شوخ و شریر لہجے میں ایسی بات لکھ دیتے ہیں کہ پڑھنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے ۔ امید ہے کہ اسد رضا صاحب کے  سابق مجموعوں کی طرح اس مجموعہ کی  بھی بہت پذیرائی ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here