تبادلہ اور استعفیٰ

Share Article

دلیپ چیرین
کریئرکے درمیان میں نوکری چھوڑ دینا آئی اے ایس افسروں کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ادھر کئی سالوں میں کئی افسرپرائیویٹ سیکٹر کی چمک دمک کے اسیر ہوکر سرکاری نوکری سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ لیکن حیرت تو اس وقت ہوئی جب اتر پردیش کے ایک سینئر نوکر شاہ نے بار بار تبادلہ سے تنگ آکر اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ 1982 کے بیچ کے اترپردیش کے کیڈر راجو شرما، جو فی الحال ریاستی ریونیو بورڈ میں ہیں، نے حسب خواہش تبادلہ کے لئے درخواست دی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ گزشتہ دو مہینوں کے اندر شرما کا تین بار تبادلہ کیا گیا اور اسی سے پریشان ہوکر انہوں نے اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ ذرائع کے مطابق شرما کے ان باربار کے تبادلوں کے پیچھے سیاست دانوں کا ہاتھ ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔محکمہ اعلیٰ تعلیم میں چیف سکریٹری رہتے ہوئے پانچ پرائیویٹ یونیورسٹیز کے قیام سے متعلق ایک بل پر شرما اپنے وزیر راکیش دھر سے بھڑ گئے تھے، اس کے ٹھیک بعد انہیں ریونیو بورڈ میں بھیج دیا گیا۔ پھر شرما نوکر شاہوں کے اس گروپ میں بھی شامل تھے، جس نے ریاست میں بدعنوان آئی اے ایس افسروں کی شناخت کرنے کی مشہور مہم شروع کی تھی۔ فی الحال شرما حکومت کے ذریعہ اپنا استعفیٰ منظور کئے جانے کا انتظار کررہے ہیں، لیکن سینٹ اسٹیفنس کے ان کے پرانے ساتھی ان کی مدد کے لئے پیش پیش ہیں۔ اس کالج کے طالب علم رہے کئی موجودہ اور سبکدوش نوکر شاہوں نے کابینی سکریٹری کے ایم چندر شیکھر کو مکتوب لکھا ہے اور ان سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اپیل کا کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *