بے خوف ہونا بھی خوفناک ہوتا ہے

Share Article

shujaat-bukhari’’بھارت نے ہم پر سب سے بڑا احسان یہ کیا ہے کہ اس نے ہمارے دل سے موت اور بندوق کا خوف نکال دیا ہے۔ لہٰذا اب ہمیں ان کی پرواہ نہیںہے۔‘‘ یہ الفاظ گزشتہ سال دسمبر میںشوپیان میں نوجوانوں کے ایک گروپ نے سابق ہندوستانی وزیر خارجہ یشونت سنہا سے ملاقات کے دوران کہے تھے۔ دراصل ان الفاظ کی گونج 12 فروری کو جنوبی کشمیر کے کلگام میںسیکورٹی فورسیز اور ملی ٹینٹس کے درمیان ہوئی مڈبھیڑ میںمحسوس کی گئی۔’ فرسٹ پوسٹ‘ میں شائع سمیر یاسر کی ایک رپورٹ کے مطابق، جب سیکورٹی فورسیز پھرسل (کلگام) میںمڈبھیڑ کی جگہ پر موپوئنگ آپریشن کر رہے تھے تو نوجوانوں نے ان پر چاروںطرف سے پتھر پھینکے۔ مڈبھیڑ کے مقام تک لوگوںکے پہنچنے کا یہ نیا رجحان فوج کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور سے جب وہ کولیٹرل ڈیمیج سے بچنا چاہتی ہو۔ اس رجحان نے ایک بہادر نسل پیدا کی ہے جو یشونت سنہا جیسے بی جے پی کے سینئر لیڈر کے سامنے یہ کہنے میں فخر محسوس کرتی ہے کہ انھیں (فوج کی) کوئی پرواہ نہیں ہے۔
کلگام کی مڈبھیڑ میںمارے گئے چار ملی ٹینٹس کے جنازے کے لیے جب ہزاروں کی بھیڑ امڈی تو 18 فروری 2016 کو پچھلے 26 سالوں میں پہلی بار پولیس کو عوام کے لیے اپنی ایڈوائزری جاری کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ اس ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ کسی انکاؤنٹر کی جگہ سے دو کلو میٹر کے دائرے میں رہنے والے شہری (انکاؤنٹر کی صورت میں) اپنے گھروںمیں رہیں اور اپنے بچوں کو بھی باہر نہ نکلنے دیں۔ ایسا کرنے سے چھٹک کر یا غلطی سے انھیں بھی گولی لگ سکتی ہے۔ شہریوںسے یہ بھی اپیل کی گئی کہ وہ اپنے گھروں کے دروازوں یا کھڑکیوںسے باہر جھانک کر نہ دیکھیں۔ ایڈوائزری میںبڑے بزرگوں سے بھی اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس سلسلے میں لوگوں کو خبردار کریں۔ اس طرح کا ٹرینڈ اس وقت قائم ہوا تھا جب 25 دسمبر 2015 کو کلگام کے علاقے میں ہی لشکر طیبہ کے کمانڈر ابوقاسم (پاکستانی شہری) کے جنازے میں تقریباً 30,000 لوگ شریک ہوئے تھے۔ یہیںسے ملی ٹینٹس کے تئیں لوگوں کے تصور میںتبدیلی کی شروعات ہوئی اور یہ بھی اشارہ ملا کہ پولیس تیزی سے اپنی پکڑ کھوتی جارہی ہے۔
ابو قاسم کی وفات کے بعد ملی ٹینٹس کے جنازے میں شریک ہونے کا ایک چلن سا بن گیا اور اس نے لوگوںکے اس جنون کو دوبارہ زندہ کردیا، جس کے تحت وہ ملی ٹینٹس کو اپنی سیاسی خواہشات کا نما ئندہ مانتے ہیں۔ حالانکہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر اسے خطرے کی گھنٹی کے طور پر دیکھا گیا۔ اعلیٰ افسران سے یہ پوچھا گیا کہ ایک پاکستانی شہری، جو پولیس کے مطابق یہاں تباہی پھیلانے کے لیے آیا تھا، اس کی آخری رسوم میں ایک جم غفیر کو شامل ہونے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟
لیکن جب تک پولیس حرکت میںآتی اور حالات پر قابوپاتی، تب تک ملی ٹینٹس کی مقبولیت بڑھانے کے لیے تحریک کرنے والوں نے حالات پر اپنا قبضہ جمالیاتھا۔ اب حالات 1990 کی دہائی سے بالکل الگ ہوگئے تھے، جب انکاؤنٹر کی حالت میںلوگ بھاگ کر چھپنے کی کوشش کرتے تھے۔ فروری 2016 میںپمپور میںواقع انٹر پرینیور شپ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے صحن میںانکاؤنٹر کے دوران 48 گھنٹے تک گولیاں چلی تھیں اور پہلی بار لوگوںکو کسی انکاؤنٹر کی جگہ کے پاس جمع ہوتے دیکھا گیا تھا۔ خواتین نے لوک گیت گاکر ملی ٹینٹس کی بہادری کو بیان کیا۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جب ان کی لاشوںکو ان کے گھروںکو بھیجا گیا یا غیر ملکی ہونے کی حالت میںدفن کرنے کے لیے قبرستان لاگیا گیا تو خواتین نے ’مہندی‘ لگاکر دولہے کی طرح ان کو الوداع کیا۔ یہ طویل مدت تک جاری رہا۔ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی سوشل میڈیا پر ’’بہادری‘‘ نے مسلح جدوجہد کو نئی رفتار دے دی ہے۔
8 جولائی 2016 کے انکاؤنٹر میں اس کی موت کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اس کی شبیہ کتنی قوی ہوگئی تھی اور کیسے اس نے عام کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنائی تھی۔ اس کے بعد چھ مہینے تک کشمیر بند رہا اور اس بغاوت نے ایک نئے کشمیر کی تشریح کی ۔ اسی وجہ سے شوپیان میں نوجوانوں کے گروپ نے یشونت سنہا کو بتایا کہ وہ کسی چیز کی پرواہ نہیںکرتے۔اس بیچ برہان چھایا رہا۔ یہاں تک کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ میںاسے ’’کشمیریوںکا نیا ہیرو‘‘ کہا۔ کچھ تجزیہ نگاروںکے مطابق، اس واقعہ نے سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کی تکڑی کو ’’غیر اہم‘‘ بنادیا۔ حالانکہ برہان کی موت سے جو طوفان پیدا ہوا ، اس نے کئی محاذ پر نئی دہلی کو گھیر لیا اور ریاست میںموجود پی ڈی پی – بی جے پی حکومت کی معتبریت ختم ہوگئی ۔اس دوران گولیوں اور پیلیٹ گنوں کی بارش ہوتی رہی جس سے ہزاروں لوگ زخمی اور اپاہج ہوئے۔ لیکن یہ سب حقیقت میں پچھلے ایک سال سے کشمیر میں ہورہے واقعات کے نتیجہ کے طور پر آیا۔ ریاست کا جھنڈا ہٹانے، بیف پر پابندی لگانے، فوجی اور پنڈت کالونیوںکے قیام کی تجاویز نے کشمیریوں کے بیچ انتہائی عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ وہ ایک موقع کے لیے انتظار کررہے تھے اور برہان کا واقعہ ان کے لیے ایک موقع کی طرح تھا۔
ابھی یہ بحث جاری تھی کہ اگلے کچھ مہینوں میں کشمیر میں کیا ہوگا؟ تبھی کلگام کا انکاؤنٹر سامنے آگیا، جس میں دو شہریوں کی جانیں گئیں۔ ا س طرح کی افواہوں کا بازار گرم ہے کہ اس سال کی گرمیاں بھی 2016 کی طرح ہونے والی ہیں۔ ایسا کس نے کہا اور کیوںکہا؟ اس کے لیے شاید کوئی واضح جواب نہ ہو۔ 2008اور 2010 کی طرح ہی 2016 کے واقعات عام لوگوں اور قیادت دونوں کے لیے ایک سبق کی طرح ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بے گناہ شہریوں کے قتل پر غم کا اظہار کیا جانا چاہیے، لیکن سیاسی جدو جہد او رمسلح جدوجہد میںضرور فرق کیا جانا چاہیے۔ جب جذبات بے حد تیز ہوں تو کبھی کبھی یہ سجھاؤ دینا ناممکن لگنے لگتا ہے کہ قیادت ایسی حکمت عملی اپنائے جس سے خود کا نقصان نہ ہو۔ ا س کا مطلب یہ نہیںہے کہ صرف جذبات سے تحریک کو آگے بڑھاناچاہیے۔ ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ مخالفت کو، لامتناہی کلینڈر کو کیسے ختم کیا جائے؟کیا قیادت کو کیلنڈر جاری کرنے کے مدنظر پیدا ہوئی بے اطمینانی کا لطف ریاست کو لینے دینا چاہیے؟ قیادت کے تئیں لوگوںکا اعتماد ہے، لہٰذا اس اعتماد کا استعمال صحیح سمت میںکرنا چاہیے۔
جس طرح سے لوگوںنے ملی ٹینسی کو سماجی منظور ی دی ہے، وہ دیوار پر لکھی عبارت ہے۔ اب یہ نئی دہلی کو دیکھنا ہے کہ کشمیر کدھر جارہا ہے؟ جب تک تشدد اور جوابی تشدد اس حقیقت کے سلسلے میں کارگر رہیں گے کہ کشمیر کے لوگ بھارت کے خلاف ہیں،تب تک لوگوں کو ہی اس کے نتیجے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نئی دہلی یقینی طور پر ان پر سے اپنا کنٹرول کھو چکی ہے کیونکہ اب لوگ صلح کے خیال سے دور جاچکے ہیں۔ اب لوگوںکو ڈائیلاگ کے لیے راضی کرنے میںانتہائی محنت اور ایمانداری کی ضرورت ہے۔ ابھی تک دہلی میںبی جے پی حکومت نے اس سمت میںکوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ شاید اسے لگ رہا ہے کہ بھاری ہتھیاروںسے لیس سیٹ اَپ سے یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سیاست کشمیر مسئلے کے مرکز میںہے اور اس سے دور ہٹنے کا مطلب ہے تشدد کو بلانا، جیساکہ پہلے ہی ظاہر ہوچکا ہے۔ لوگ اس تشدد کا حصہ بننے میںنہیں ہچکچاتے۔ صرف تشدد کے ذریعہ حل کے بارے میںسوچنا خطرناک ہے لیکن دوسرے فریق کو بھی تشدد کا راستہ چھوڑنا ہوگا۔ نریندرمودی کے لیے بھلے ہی جموں و کشمیر کسی دیگر ریاست کی طرح کوئی ریاست ہوسکتی ہے لیکن ایسا ہے نہیں۔ کشمیر اس علاقہ کے گریٹ گیم کا حصہ ہے جس میںروس، چین، امریکہ، افغانستان، پاکستان اور ظاہر ہے، بھارت شامل ہیں۔آپ کب تک نوجوانون کے خلاف پیلیٹ گنوںکے استعمال پر صفائی دیںگے، ہربار اس طرح کی خلاف ورزیوں سے نہیں بچا جاسکتا ہے۔
12 فروری کو جب بندوقیںخاموش ہوگئیں اورپھرسل انکاؤنٹر میںمارے گئے ملی ٹینٹس کی آخری رسوم کی تصویریںرائزنگ کشمیر کے آفیشیل سوشل میڈیا سائٹ پر شائع کی گئی تو دو گھنٹے کے اندر اس کے ویوئرس کی تعداد4 لاکھ 50 ہزار کے پار ہوگئی تھی اور ان تصویروںکو بڑے پیمانے پر شیئر بھی کیا گیا تھا۔ کشمیر میںملی ٹینسی میںنئے زور آئے ہیں، جس میںملی ٹینٹس کے جنازے میں لوگوں کی بھاری حصہ داری بھی ہوری ہے۔اس حقیقت کے مدنظر جو لوگ یقین کرتے ہیں کہ بعد میںاس سے نمٹ لیا جائے گا، انھیں اپنا یہ خیال ترک کردینا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *