بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

Share Article

وسیم راشد
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا…جو چیرا تو ایک قطرئہ خوں نہ نکلا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ایڈیٹرز سے بند کمرے میں ہوئی ملاقات کے بعد نہ جانے بار بار یہ شعر کیوں ذہن میں آرہا ہے۔ اس قدر ہنگامہ تھا کہ وزیر اعظم ایڈیٹرز سے ملنے والے ہیں، فلاں وقت طے ہوا ہے،5 اخبار کے ایڈیٹرز ہیں۔ لیکن جب ان 5 اہم ایڈیٹرز کے نام سامنے آئے تو پھر یہ کہاوت یاد آئی کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں، اپنے اپنوں کو دے ۔ بھئی اخبار ان کے اپنے ،ایڈیٹرز ان کے اپنے، سوالات ان کے اپنے، مطلب کے جوابات ان کے اپنے ،تو پھر کیسی کانفرنس ، اس میں عوام کہاں ہیں، عوام کے دکھ درد کہاں ہیں؟بند کمرے میں چلنے والی اس کانفرنس سے یہ 5 مدیران باہر آتے ہیں تو صرف اور صرف وزیر اعظم جی کی زبان بولتے ہیں۔ ان کے Spokes person  بن کر باہر نکلتے ہیں۔ 100 منٹ کی اس آپسی بات چیت میں باتیں تو بہت سی ہوئیں، سوالات بھی ہوئے، مگر کیا حل نکلا ، کچھ نہیں ۔ ان کا یہ کہنا کہ چاہے کمپٹرولر ہو، آڈیٹر جنرل ہو یا پارلیمانی کمیٹی ،شواہد کی بنیاد پر تجزیہ کرتے ہیں تو CAG کی رپورٹ جس طرح شواہدات کے ساتھ سامنے آئی، اس میں کیا کر لیا گیا۔ CWG کے تمام گھوٹالے شواہد ات کے ساتھ ہی منظر عام پر آئے ،اس کے کتنے ممبروں کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔
وزیر اعظم سے جب پڑوسی ممالک کے بارے میں بات کی گئی تو انہوں نے سری لنکا کی صورت حال پر بحث کی، بنگلہ دیش کی بات کی، لیکن پاکستان کے مسئلے پر سنجیدہ موقف اپنانے پر کوئی اظہار خیال نہیں کیا۔ جب بابا رام دیو پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے بارے میں ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنا وہی رٹا رٹایا جملہ دہرادیا کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، مگر ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ وزیر اعظم کے سونے کا انتظار کیا گیا ۔ جب وہ سونے چلے گئے تو پولس کو کاروائی کرنے کا حکم دیا گیا۔ مگر اس وقت کیا کسی کو یہ احساس نہیں تھا کہ اس کے نتائج کتنے برے ہو سکتے ہیں۔ اگر بابا رام دیو بھیڑ کو بھڑکانے میں کامیاب ہوجاتے اور اپنی گرفتاری دے دیتے تو شاید آج حالات ہی دوسرے ہوتے ، شاید وہ مار اکاٹی ہوتی جس کے نتائج بڑے بھیانک ہوتے، مگر وہ تو رام دیو کو اس وقت کچھ سوجھا ہی نہیں ، اسی لیے پولس ان کو نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔ وزیر اعظم کے یہ 5 نمائندے کہتے ہیں، وہ نہایت سکون اور اطمینان سے جواب دے رہے تھے۔ ان کو کوئی گھبراہٹ نہیں تھی، تو کیا یہ سبھی حقیقتاً وزیر اعظم کے ہی ترجمان بن کر کمرے سے باہر نکلے تھے۔کیا وزیر اعظم نے مہنگائی کے مسئلہ پر کوئی مثبت رائے دی۔ جب ان کی پارٹی  بر سر اقتدار آئی تھی تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ مہنگائی پر کنٹرول کیا جائے گا،مگر وہ کتنا اپنا وعدہ نبھا پائے، یہ آپ اور ہم سب جانتے ہیں۔
اب وہ کہتے ہیں کہ 2012  میں مہنگائی پر کنٹرول کیا جائے گا،پھر وہ اسی طرح کے وعدے باربار کر چکے ہیں۔اس وقت مہنگائی سے غریب عوام بے حال ہے ۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔ اگر اس وقت سبزیوں کی قیمتوں پر نظر ڈالیں تو
ٹماٹر        17 سے 50 روپے کلو
بھنڈی        7 سے 30 روپے کلو
گھیا        5 سے 15 روپے کلو
توری        20سے 60 روپے کلو
کالی توری        9 سے 25 روپے کلو
کریلا        10 سے 35 روپے کلو
آلو         5 سے 15 روپے کلو
پیاز        12 سے 20 روپے کلو
گوبھی         15 سے 35 روپے کلو
شملہ مرچ        20 سے 55 روپے کلو
یعنی چار گنا قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وہ  Lame Duck نہیں ہیں ۔کیوں اس گھٹیا استعارہ کی وضاحت کرنے کی وزیر اعظم کو ضرورت پڑی۔ صرف اسی لیے کہ وہ ہر محاذ پر ناکام ہوچکے ہیں۔ اس لیے کہ اب عوام کا ان پر سے اعتماد ختم ہوچکا ہے اور عوام حقیقتاً ان کو کٹھ پتلی وزیر اعظم سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ اس قدر مہنگائی، اتنے گھوٹالے،بدعنوانی، استحصال، کسانوں کی خود کشی، عورتوں پر ظلم وستم اور ان کی عصمت دری، آخر کیا ہورہا ہے اس ملک میں؟کیسے چل رہاہے یہ ملک؟ اور اگر وزیر اعظم کے کنٹرول میں کچھ نہیں ہے تو یقینا وہ  Lame Duck  کہے جائیں گے۔ خود وزیر اعظم ماہر معاشیات ہیں ۔ تیل کے دام ہر دو مہینے بعد بڑھ جاتے ہیں ، پٹرول ڈیزل عام آدمی کے لیے سونے چاندی کے مول جیسا ہے۔ وزیر اعظم کو تو اتنی بھی فرصت نہیں کہ وہ کم سے کم عوام کے نمائندوں یا میڈیا یا مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے میٹنگ ہی کر لیں، جو ان کو کچھ تو دکھ درد کا اندازہ ہو۔ عام طور پر ان کی شبیہ الگ تھلگ رہنے والے وزیر اعظم کی بن کر ابھری ہے اور ظاہر ہے پارٹی یا حکومت کے اہم فیصلوں میں ان کا رول بھی زیادہ نہیں ہے۔شاید یہی وجہ رہی ہو کہ اس وقت انہوں نے اپنی بات رکھنے کے لیے اعتماد کی فضا قائم رکھنے کی کوشش کی ہو۔ہاں ایک وجہ اور بھی ہوسکتی ہے کہ آنے والے پارلیمنٹ سیشن میں جو پہلی اگست سے شروع ہونے والی ہے، اپوزیشن پارٹی بدعنوانی کا ایشو زور و شور سے اٹھانے کا ارادہ کر چکی ہے۔ ایسے ہی ایک طرف عوام کے ساتھ کمیونی کیشن گیپ اور دوسری طرف حزب مخالف کا یہ ارادہ یقینا کانگریس پارٹی کے لیے مشکلیں پیدا کر سکتا ہے۔شاید اپنی اس امیج کو بچانے کے لیے وزیر اعظم نے اس میٹنگ کا اہتمام کیا ہو، ایسا بھی سننے میں آیا ہے کہ یہ دوری ختم کرنے کے لیے وزیر اعظم ہر ہفتے سینئر صحافیوں کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور اب جو بھی ہو ،یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ گزشتہ سال کانگریس کے لیے پریشانیوں اور مصیبتوں کا سال گزرا ہے، گھوٹالے اور وہ بھی ایسے کہ رقم گنتے گنتے بھول جائیں اور صفر لگاتے لگاتے تھک جائیں۔ ابھی گزشتہ دنوں وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عوام امید کرتے ہیں کہ ان کے سینئر لیڈر عوام کے رابطے میں رہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اکثر چینل والے یہ پوچھتے ہیں کہ وزیر اعظم لوک پال بل کے تعلق سے کوئی واضح بیان کیوں نہیں دے رہے ، ہو سکتا ہے یہ سب قواعد اسی لیے کی جارہی ہو۔اب چدمبرم جی کو کون بتائے کہ عوام میٹنگ کرنے یا بار بار رابطے ہی میں آنے سے قریب نہیں ہوتے، ان غریبوں کے پیٹ کو روٹی چاہیے۔ ان کے دکھ درد کا مداوا کرنے والا کوئی مل جائے تو یہ اسی کے ہوجاتے ہیں۔ وزیر اعظم کو اپنی کابینہ کی نہیں پتا ،جو وزراء کام کر رہے ہیں ان کے بارے میں نہیں پتا،فنانس منسٹری میں BUG لگا دیا جاتا ہے ،ہوم منسٹری کو پتہ ہی نہیں کہ چیونگم لگا دیا گیا ہے اور پوری سیکورٹی Compromise ہو گئی ہے۔ بیان دیتے ہیں کہ وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے میں لانے  کے تعلق سے ( ان کا یہ جواب وہ بھی اپنا نہیں) میری کابینہ کے ساتھی کہتے ہیں کہ’’ وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے میں لانے سے عدم استحکام پیدا ہوگا جو بعض دفعہ قابو سے باہر ہو سکتا ہے‘‘۔ اب منموہن جی سے کوئی یہ کہے کہ سب کچھ دوسرے کہتے ہیں، آپ بھی کچھ کہیے۔ آپ کا اپنا کیا خیال ہے۔ ہاں ایک اہم بات جو وزیر اعظم نے کہی کہ کوئی بھی آدمی ہندوستان کے وزیر اعظم کو بڑی آسانی سے ہٹا سکتا ہے اس لیے لوک پال سے کیا فائدہ۔تو منموہن جی سے کوئی یہ بھی پوچھ لے کہ آپ نے ان کو اس لائق چھوڑا ہی نہیں کہ یہ بھوک سے نڈھال غریبی کی چکی میں پس رہے عوام کو آپ نے روزی روٹی میں ایسا الجھا دیا ہے کہ یہ آپ کو ہٹانے کے متعلق تو کیا سوچیں گے ، جواپنی بیماری، بھوک مری سے نجات نہیں پا سکتے۔
وزیر اعظم اگر اسی کمیونی کیشن گیپ کو ختم کرنا چاہتے ہی ہیں تو انہیں عوام کا دل پہلے جیتنا ہوگا ۔ یہ حقیقت ہے کہ بقول ’’ دی ہندو‘‘ کے ایڈیٹر سدھارتھ وزدھاراجن  کہ عوام وزیر اعظم سے لوک پال بل جیسے ایشو اور بد عنوانی کے تعلق سے بیان کا انتظار کر رہے ہیں۔ہندوستان ٹائمس کے پولیٹیکل ایڈیٹر ونود شرما کہتے ہیں کہ حکومت بد عنوانی کے الزام میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے اور تمام الزامات آپسی بات چیت سے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی لیڈر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم کی یہ میٹنگ ایک اسٹیج شو کے سوا کچھ بھی نہیں۔مخصوص صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرنا میٹنگ کی اہمیت کو ختم کر دیتا ہے۔ان تمام بیانات میں امیج  کنسلٹینٹ دلیپ چیرین کا بیان زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ اس وقت حکومت کو اپنی امیج بنانے کے بجائے منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔انہیں مہنگائی پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اس وقت کانگریس پارٹی جو بھی کر رہی ہے صرف اور صرف اپنی ساکھ بچانے کے لیے کر رہی ہے۔اگر وزیر اعظم کو اپنی ساکھ بچانی ہے تو انہیں عوام  کے دل میں گھر بنانا ہوگا۔ ورنہ تو ہر ہفتے کیا ہر دن میٹنگ کر لیجئے ،مہنگائی غریبی ، بھوک مری، بے روزگاری، بد عنوانی، کرپشن، استحصال، ان سب کا خاتمہ نہیں ہو ا تو کانگریس کا خاتمہ لازمی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *