بات سے بات چلے

انجم عثمانی
نعت پاکؐ کے یہ اشعار آپ نے بہت سے مشہور قوالوں کی زبانی اکثر سنے ہوں گے :
بزمِ عالم میں ایک دلکشی آگئی
ظلمتیں چھٹ گئیں روشنی آگئی
مٹ گئے رنجم و غم سرخوشی آگئی
آپ آئے تو پھر زندگی آگئی
قبل اسلام کا میں کروں کیا بیاں
تھی زمانے پہ حالت عرب کی عیاں
ہر طرف آتش غم لگی تھی یہاں
آپ آئے تو ہر سو خوشی آ گئی
کیا صفت ہو بیاں آپ کی مصطفی
حق نے تم کو کیا خاتم الانبیا
جس جگہ پڑ گیا آپ کا نقش پا
رحمت حق وہیں جھومتی آگئی
ہوگئے دور سیفیؔ مرے رنج و غم
جب سے دیکھا ہے آنکھوں نے بیت الحرم
گھر کی جانب نہیں اٹھتے میرے قدم
جیسے منزل مری آخری ہو گئی
یہ نعتیہ اشعار اردو کے مشہور ادیب، شاعر، مدیر، مبصر اور نقاد سیفیؔ سرونجی کے ہیں، جنہیں بارہا میلاد شریف میں بھی سنا جاتا ہے۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے اردو دنیا کا شاید ہی کوئی باشعور ہوگا جو سیفی سرونجی کے نام اور ان کے جریدے ’’انتساب‘‘ سے واقف نہ ہو۔ مکمل ادبی جریدہ انتساب اپنے معیار اور تواتر کی وجہ سے پوری ادبی دنیا میں شوق سے پڑھا جاتا ہے۔
ادبی دنیا کے آسمان پر ماہتاب و آفتاب بن کر چمکنے والوں میں شامل آج کا سیفی سرونجی مدھیہ پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والا رمضانی ہے، جس کے خاندان میں دور دور تک ادب تو ادب، ضروری تعلیم کا بھی کوئی تذکرہ بس واجبی سا ہی ہوتا ہے۔ آج کا سیفی سرونجی جو اب تقریباً تین درجن کتابوں کا مصنف اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، کل کیا تھا اس کی تفصیل خود انہوں نے اپنی آپ بیتی ’’یہ تو سچا قصہ ہے‘‘ میں نہایت سادگی، سچائی اور دلچسپ انداز میں بیان کی ہے:
’’… ہماری پیدائش 13 رمضان کو ہوئی، اسی لیے گھر والوں نے ہمارا نام رمضانی رکھا۔ مہوہ کھیڑا ہماری جائے پیدائش ہے۔ یہ گاؤں سرونج اور لٹیری کے درمیان ہے۔ خاندان میں کوئی پڑھا لکھا نہیں تھا … میرے نانا اسحاق ڈاکو کے نام سے پورے مدھیہ پردیش اور راجستھان میں جانے جاتے تھے۔ انھیں سرکار نے ہتھیار ڈالنے کی شکل میں آٹھ گاؤں کی جاگیر دینے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا اور چند ساتھیوں کی غداری کی وجہ سے وہ پولس کے ہاتھوں مارے گئے۔‘‘  (یہ تو سچا قصہ ہے)
ایک انٹرویو کے سوالات کے جواب میں سیفی سرونجی نے بے تکلفی سے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے مدتوں ایک بیڑی کے کارخانے میں بیڑی بنانے کا کام کیا اور زبان و ادب سیکھنے کے لیے انہوں نے دن رات بیڑی بنانے کی مزدوری کی، لیکن پائے استقامت میں لغزش نہیں آنے دی:
’’اپنے حالاتِ زندگی پر جب نظر ڈالتا ہوں، تو مجھے سب خدا کا کرشمہ نظر آتا ہے۔ میں نے سب سے پہلا شعر اسی موضوع پر کہا تھا۔
ساری دنیا کو یہ کرشمہ دکھایا اس نے
ایک چرواہے کو اعزاز دلایا اس نے
کیوں کہ میں بچپن سے بیل ڈھور چراتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ میں کوئی کام کرتا ہی نہیں تھا۔ بہت سست تھا۔ بابا نے کہا، جب تم کچھ نہیں کرسکتے تو بیل ہی چراؤ …‘‘
سیفی سرونجی، جو اس وقت رمضانی ہی تھے، چھوٹی بہن کے انتقال کے سانحے کے بعد اپنے والدین کے ساتھ گاؤں سے سرونج چلے آئے اور بیڑی کے کارخانے میں کام کرنے لگے۔ بیڑی کے کارخانے میں ان کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی، جن کی وجہ سے پڑھنے پڑھانے، خاص طور پر تاریخی ناول پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ گویا یہ سیفی کے ادیب بننے کی ابتدا تھی۔
’’انتساب‘‘ جو اب اردو کا معتبر ادبی جریدہ ہے، اسے سیفی صاحب نے 1983 میں دوستوں سے چندہ جمع کرکے شائع کیا۔ سرونج جیسے قصبے میں اس وقت نہ پریس تھا، نہ طباعت کی کوئی اور سہولت۔ دہلی آکر روشنائی خریدنی پڑتی تھی، لیکن تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ انہوں نے پرچہ جاری رکھا، جو اپنی اشاعت کی تیسری دہائی میں داخل ہو چکا ہے اور جس کے عام نمبروں کے علاوہ خصوصی اشاعتوں نے بڑی مقبولیت پائی ہے۔
حقیقت نگاری کی ادب میں اپنی اہمیت ہے، لیکن ٹھوس حقائق کے کھردرے پن کا اسلوب میں ڈھل جانا فن ہے۔ سیفی صاحب ایسے فنکار ہیں، جو پتھر کو بنا تراشے ہیرا بنا سکتے ہیں۔ بس وہ اتنا کرتے ہیں کہ پتھر ایسے زاویے سے رکھ دیتے ہیں کہ وہ پتھر بھی رہتا ہے اور ہیرے کی چمک بھی دیتا ہے۔ ادب کی دنیا میں سنگ میل قائم کرنے والے سیفی صاحب بیک وقت مدیر، شاعر، تبصرہ نگار اور نقاد ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اتنے سادہ کہ پوری شخصیت ہی مجسم سہل ممتنع ہوگئی ہے۔ آج پوری دنیا میں ان کے بلا مبالغہ ہزاروں مداح ہیں۔ ادب کا کوئی گوشہ ایسا نہیں، جو ان کی روشنی سے منور نہ ہو، لیکن سادگی اور منکسر المزاجی آج بھی وہی جو شہرت سے پہلے تھی۔
سیفی سرونجی کی زندگی حوصلہ مندی، صبر، محنت اور لگن کی ایسی داستان ہے، جسے ہر اس شخص تک پہنچنا چاہیے جو زندگی سے نبرد آزما ہونے کا ہنر جاننے کا خواہش مند ہو۔ انہوں نے اپنی مشہور آپ بیتی ’’یہ تو سچا قصہ ہے‘‘ میں اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔
ادب میں ذات کا حوالہ چاہے کتنا ہی معتبر کیوں نہ ہو، مگر اس میں اندیشے اتنے ہیں کہ بیشتر بیان میں ذات ہی ذات رہ جاتی ہے، باقی سب کچھ پس پشت چلا جاتا ہے، لیکن اگر بیان میں سچائی اور پیرایہ بیان میں ندرت ہو تو ذات کے اسی ذاتی بیان سے لطف و انبساط کے ایسے پھول کھلتے ہیں کہ حقیقی افسانوں سے زیادہ دلکش نظر آنے لگتے ہیں :
’’… کہنے کو ہمارے پاس کھیت تھے، لیکن اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا۔ یہی حال بیڑی کا تھا۔ بیڑی تو بناتا تھا، لیکن جو کچھ بناتا تھا، اس کو خود ہی کھا جاتا تھا۔ اگر بیوی کا تعاون نہ ہوتا تو گھر میں چولھا بھی نہیں جل سکتا تھا۔ بیوی اس لیے میرے ساتھ سرونج سے بھوپال جاتی تھی، تاکہ واپسی کا سامان میسر ہو جائے۔ ہم دونوں ہی راستے بھر بیڑی بناتے اور جب بھوپال پہنچ جاتے تو میں امتحان ہال کے اندر ہوتا اور بیوی باہر کسی پیڑ کے نیچے بیڑی بناتی۔ امتحان دینے کے بعد اگر اتنی بیڑی ہو جاتی کہ ہم دونوں اسے بیچ کر واپس سرونج آجاتے تو ٹھیک تھا، نہیں تو کسی کے ہاں رک کر رات بھر بیڑی بناتے اور صبح ہوتے ہی سرونج کے لیے روانہ ہو جاتے…‘‘
دنیا کے مختلف شعبوں میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں، جن کی ترقی کے پیچھے ان تھک محنت اور مشقت کو دخل ہے، مگر اردو ادب میں سیفی سرونجی جیسی مثال بہت کم یاب ہے، جس نے محنت، لگن، حوصلے سے نہ صرف ترقی کی، بلکہ ادبی ذوق میں وہ بالیدگی اور نکھار پیدا کیا، جس کے بغیر تحریر کچھ بھی ہوسکتی ہے، مگر ادب نہیں ہوسکتی۔
سیفی سرونجی ادیب بھی، معتبر شاعر اور نامور مدیر و مبصر بھی ہیں اور اپنے جریدے ’انتساب‘ کے ذریعے ادیب و ادب سازی کی طرف متوجہ ہیں۔ وہ زبان و ادب کے ایسے رہنما ہیں، روشنی جن کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔
محنت کسی کی رائیگاں جاتی نہیں کبھی
سیفیؔ تمہارے سامنے زندہ مثال ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *