بات سے بات چلے

انجم عثمانی
یہ مٹی میری ہے اس لیے کہ میں اس کے تخم سے اُگا ہوں/میں اب معلق نہیں رہ سکتا
کھڑا ہونے کے لیے مٹھی بھر زمین میرا ازلی حق ہے
پرکھوں نے جو کچھ کیا شمشانوں اور قبرستانوں میں جل سڑ رہا ہے۔ اگر اس مٹی سے دست بردار ہونے کا اشارہ بھی کیا تو تم سب کے نرخرے چبا جاؤں گا … مجھے دکھاؤ وہ بے جان دستاویز … بتاؤ اس پر کہیں میرا بھی دستخط ہے … اس دستاویز سے میرا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ میں صرف اس مٹی کو جانتا ہوں جہاں سے مجھے کوئی نہیں ہٹا سکتا … میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اسی مٹی کی گود میں میں نے جنم لیا اور یہ مٹی میری ماں ہے … ‘‘
یہ عبارت اردو کے نامور افسانہ نگار شوکت حیات کے افسانے سے مستعار ہے۔ اس طرح کی سطروں کے کتنے ہی موتی شوکت حیات کے اکلوتے افسانوی مجموعے ’’گنبد کے کبوتر‘‘ میں جگہ جگہ موجود ہیں۔ آپ بس اتنا کریں کہ اس کتاب کو پڑھنے کے لیے کھول لیں، باقی کام یہ افسانے خود کر لیں گے۔ عام طور پر وہ تحریریں جن میں خود کو پڑھوا لینے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے، گہری کم ہوتی ہیں مگر ’’گنبد کے کبوتر‘‘ کے افسانے بار بار پڑھے جانے کی نامیاتی صلاحیت کے باوجود گہرے بھی ہیں، دعوت فکر بھی دیتے ہیں، جذبے کو مہمیز بھی کرتے ہیں اور اعلیٰ ادبی ذوق کے معیار پر بھی پورا اترتے ہیں۔
شوکت حیات 1970 کے قریب ابھرنے والے ان اہم افسانہ نگاروں میں سے اہم ترین افسانہ نگار ہیں، جنہوں نے ترقی پسندی، جدیدیت کے یلغار اور زوال دونوں مناظر کو دیکھا، چاہے اَن چاہے کسی حد تک اس کی زد میں بھی آئے مگر اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اس زوال و یلغار میں خود کو گم ہونے سے بچانے میں کامیابی حاصل کی اور اپنی ایک الگ شناخت قائم کر سکے۔ خود شوکت حیات کے الفاظ میں :’’… 1970 کے آس پاس میں نے باشعور طریقے سے افسانے کی تاریخ کے تسلسل میں رہتے ہوئے تخلیقی سطح پر لکھنا شروع کیا تو وہ زمانہ اتفاق سے ترقی پسندی اور جدیدیت دونوں کے عروج و زوال کا تھا۔ فکری رجحانات اور فنی میلانات تو چلتے رہتے ہیں، لیکن حقیقتاً دونوں مذکورہ رجحان اس وقت اپنے اپنے وجود کے اثبات کی لڑائی لڑ رہے تھے اور اس کا انہیں بے حد آسان طریقہ یہ دکھائی دیا کہ 1970 سے ابھرنے والی نئے ذہین افسانہ نگاروں کی بھیڑ کو انہوں نے اپنے اپنے ازم اور رجحان سے برانڈ کرنا شروع کردیا۔ میں چونکہ سائنس کا آدمی تھا اور اپنے ڈھنگ سے افسانے لکھ رہا تھا … میں نے خود کو اور اپنے دوستوں کو ترقی پسندی اور جدیدیت سے مختلف اور نیا سمجھتے ہوئے اسی بات پر اصرار کیا کہ ہمیں برانڈ نہ کیا جائے … تاکہ ہماری اپنی علیحدہ شناخت قائم ہو۔‘‘شوکت حیات کا افسانہ ’’گنبد کے کبوتر‘‘ (اسی افسانے کے نام سے مجموعے کا نام ہے) 1992 کے سانحہ کے پس منظر میں لکھا گیا مشہور ترین افسانہ ہے جس کے لیے انہیں ’’کتھا ایوارڈ‘‘ بھی 1996 میں پیش کیا گیا مگر یہ شوکت حیات کا اکیلا بہترین افسانہ نہیں ہے۔ ان کے اور بھی بہت سے افسانے بہت اہمیت اور انفرادیت کے حامل ہیں۔
شوکت حیات کے افسانوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ تمام تر سماجی سروکار کے باوجود اکہرے نہیں ہوتے اور اسلوب کی سادگی میں وہ پرکاری ہوتی ہے جسے شاعری کی اصطلاح میں سہل ممتنع کہا جاتا ہے۔ اسی خصوصیت کی طرف منفرد تنقید نگار وارث علوی نے یوں اشارہ کیا ہے:’’… شوکت حیات ان جیالے لوگوں میں سے ہیں جو نہ تو کسی نقاد کی توجہ کی پروا کرتے ہیں، نہ دوسروں کی بخشی ہوئی بیساکھیوں پر راہ ادب طے کرتے ہیں۔ وہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں اور اپنے اظہار و بیان کے طریقے آپ ہی ایجاد کرتے ہیں … شوکت حیات کو زبان اور بیان پر غیر معمولی عبور حاصل ہے۔ ان کے معمولی افسانوں میں بھی یہ حسن برقرار رہتا ہے۔ ان کی نثر بڑی ہموار ہے۔ ایک کے بعد دوسرا جملہ سمندر کی لہروں کی مانند سبک ساری سے آتا ہے … ان کے یہاں پیچیدگی ہے لیکن الجھاؤ نہیں، اشارے کنائے اور اجمال ہے جو اہمال سے بارہ پتھر دور رہتا ہے۔ چونکہ ان کے زیادہ تر افسانے نفسیاتی اور سماجی مسائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار حقیقت نگاری ہے لیکن ان کا تعلق چونکہ اس نسل سے بھی رہا ہے جو علامات اور اسطوریات کی گرویدہ تھی۔ شوکت حیات نے اس نئے افسانے کے اثرات قبول کیے ہیں لیکن انہوں نے جو بھی طریقہ کار اپنایا اس سے مکمل انصاف کیا۔‘‘
شوکت حیات نے زمینی سچائی کی سفاکی کو جذبے کی گھلاوٹ میں اس طرح آمیز کیا ہے کہ جو دلوں کو چھو سکے، جذبے کو مہمیز کر سکے اور سوچنے پر مائل کر سکے۔ وہ ان تخلیق کاروں میں سے ہیں جنہیں ان سے پہلے سے لکھتے آ رہے اور ان کے بعد لکھنا شروع کرنے والوں نے پسند بھی کیا اور داد بھی دی:
’’… شوکت حیات کی واضح تر خوبی بھی اس امر میں مضمر ہے کہ اس کی کہانی بھی اپنے پاؤں خود آپ چل کر عین اختتامیہ پر آ پہنچتی ہے مانو کہانی نے اپنے آپ کو عین بہ عین پورا کردیا ہو۔ اب کہنا سننا ہے، قاری آپ ہی سمجھ سمجھا لے۔‘‘ (جوگندر پال)
’’…ہمارے فکشن میں جدیدیت کی چکا چوندھ سے زخمی افسانہ نگاروں کا سب سے بڑا مسئلہ افسانے میں رمزیت اور اشاریت کو اپنی فکر، طرز احساس اور طرز ادا کے مطابق با معنی اور تخلیقی بنانے کا تھا۔ اس خواہش نے جدیدیت کے قائم کردہ پٹے پٹائے ابہام کے عام چلن کو یا تو مسترد کردینے کی یا اس سے بچ کر راستہ بنانے کی کوشش کی۔ یہی کوشش شوکت حیات کی بھی پہچان ہے۔‘‘  اقبال مجید)
’’… وہ اپنے عہد کے تناظر میں جو کچھ جانتے ہیں، دیکھتے ہیں، جو بدلتی یا بدلی ہوئی دنیاوی شکل نظر آتی ہے، اس کی فنکاری میں سرگرداں ہیں … شوکت حیات کے یہاں جذباتیت کم ہے۔ جہاں کہیں جذباتیت معلوم ہوتی ہے دراصل وہ تخلیقی قندی کی ایک صورت ہے …‘‘                         (مہدی جعفر)
’’…شوکت حیات نے اپنے ارد گرد کے واقعات اور سانحات کو جس خوبی اور فنکاری سے پیش کیا ہے وہ انھیں کا حصہ ہے۔ ان کے ہاں ماجرا نگاری، پلاٹ، جاندار کردار سبھی کچھ بدرجہ اتم موجود ہیں۔ ان کے افسانے محض واقعات کی کھتونی نہیں ہیں۔ انہوں نے جس باریکی سے واقعات کی پرتوں کو کھولا ہے، جس جزئیات نگاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سماج کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھا ہے وہ ان کا کمال ہے۔‘‘                      (ابرار رحمانی)
’’گنبد کے کبوتر‘‘ میں شامل افسانے پڑھنے کے بعد کتاب کی پشت پر درج کی گئی تحریر سے اتفاق کرنے کو جی چاہتا ہے :
’’… 1970 کے بعد کے اہم ترین اور ذہین افسانہ نگار شوکت حیات، جنہوں نے روایت پسندی سے گریز کیا۔ ترقی پسندی کی خارجیت پسندی اور جدیدیت کی داخلیت پسندی کے اکہرے پن اور انتہاؤں سے برأت کرتے ہوئے فرد کو اس کے سماجی و ثقافتی پس منظر اور سچویشن کے حصار کی بندشیں جھیلتے ہوئے مکملیت میں دریافت کرنے کی سعی کی ہے۔ شوکت حیات کے افسانے عصر حاضر کے ایسے افسانوں کی داغ بیل ڈالتے ہیں جو بیک وقت عصری اور آفاقی افسانوں کے آمیزے اور اختصاص و انفراد سے مملو ہیں… عصری و آفاقی انسان کی بے چارگی، زندگی کی بے ثباتی اور ناکارگیٔ ہستی جیسے موضوعات ان کے افسانوں میں نئی آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوئے ہیں۔‘‘
اسی لیے عرض کیا تھا کہ کتاب کھول کر پڑھنا شروع تو کیجئے، باقی کام افسانے خود کر لیں گے۔    g

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *