انجم عثمانی
ادب اور فن کی سطح پر تخلیقی لطف کا بھی عجیب معاملہ ہے۔ کبھی گہری سے گہری بات بس یونہی روا روی میں گزر جاتی ہے اور کبھی بظاہر سادہ سی تحریر بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
اردو میں شگفتہ نگاری کے حوالے سے ایک مشہور نام ہے عظیم اختر۔ ان کی تازہ کتاب کا نام ہے ’’مسافر نواز بہتیرے‘‘۔ اس مرتبہ اسی کے حوالے سے کچھ بات چیت۔
عظیم اختر صاحب کی بیشتر تحریریں ہماری نظر سے گزری ہیں اور اکثر ان کی تحریروں کے جادو کا اثر محسوس کیا ہے۔ تازہ ترین تصنیف ’’مسافر نواز بہتیرے‘‘ سمیت ان کی ساری کتابوں میں ایک قدر مشترک ہے تحریر کی سلاست اور شگفتگی۔ زیر گفتگو کتاب میں بھی یہ وصف اپنی تابناکیوں کے ساتھ موجود ہے۔
عظیم اختر صاحب انشائیہ، خاکہ، کالم اور مضمون نگار کے طور پر نہ صرف مستحکم شناخت قائم کرچکے ہیں، بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہند وپاک کے مقتدر و معتبر لکھنے والوں میں ان کا شمار ہوتا ہے، مگر تازہ تصنیف سے ان کا ایک اور روپ سامنے آیا ہے اور وہ ہے ایک کامیاب ناول نگار کا روپ۔ ’’مسافر نواز بہتیرے‘‘ کو خود مصنف نے گرچہ سفرنامے کے ضمن میں رکھا ہے اور مصنف کو اس کا بجا طور پر اختیار ہے کہ وہ اپنی تصنیف کو جس صنف میں چاہے شمار کرے، مگر کچھ حقیقی ناموں اور مقامات سے قطع نظر یہ پوری طرح ناول ہے۔ خاص طور پر اس میں کردار نگاری، قصہ، پلاٹ، تجسس اور حد یہ ہے کہ ایکشن اور رومانس تک ہر وہ جزو موجود ہے جو فکشن اور خاص طور پر ناول سے منسوب ہے اور تحریر کا بہاؤ ایسا کہ شروع کرکے مکمل پڑھے بغیر چین نہ آئے، بلکہ بعض حصے تو پڑھنے کے بعد بھی چین نہیں لینے دیتے۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر غفورا عرف لندن کے چھوٹے سے کردار سے انارکلی میں ہوٹل منیجر نصرو شیخ، عمر علیم، الطاف اور زرینہ جیسے قدرے بڑے کرداروں تک ہر کردار اپنی جگہ نگینے کی طرح جڑا ہوا ہے۔ کردار کے لباس، عادات، زبان اور دیگر تفصیلات، سب کچھ ایک عمدہ ناول کے لیے ترتیب دیے ہوئے کرداروں کی طرح۔ ہرکردار اپنا تاثر قائم کرتا ہوا اور ان کرداروں کو قصے کے ساتھ لے کر سفر کرتا ہوا۔ سارا کچھ تقریباً وہی جو ایک اچھے ناول کا خاصا ہے۔ ہاں کہیں کہیں درمیان میں مصنف کے مختصر بیانات ضرور ہیں، جن سے یہ گمان گزرتا ہے کہ یہ فکشن نہیں ہے، مگر پھر کوئی کردار چمکنے لگتا ہے اور حقیقتیں پھر کہانی کا روپ لینے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کردار سے تعارف سرسری نہیں ہوتا۔ دیکھئے ایک اہم کردار نصروؔ شیخ اپنا تعارف کس طرح کراتا ہے:
’’… میں جرائم کی دنیا کا آدمی ہوں جہاں ہمدردی جذبات اور احساسات  کوئی معنی نہیں رکھتے، لیکن مجھے آج ابو مرحوم کی یادوں نے جذباتی بنادیا اور ایک ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا، جہاں میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا۔‘‘
نصروؔ شیخ کے ذریعے پلاٹ آگے بڑھتا ہے اور وہ کئی اہم کرداروں سے تعارف کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ سارے کردار وہ ہیں، جن کے ظاہر و باطن کو اس طرح بیان کیا ہے کہ وہ نفسِ واقعہ سے منسلک بھی ہیں اور اپنی الگ دلچسپ کہانی بھی رکھتے ہیں۔ مصنف نے ان سب کرداروں پر جزیات کی حد تک توجہ دی ہے اور ان کی عادات و اطوار، ان کی نفسیات اور ان کے سماجی سروکار کو ابھارنے کی کوشش کی ہے۔
کامیاب تصنیف کسی بھی صنف سے تعلق رکھتی ہو بنیادی طور پر مصنف کے فطری لگاؤ، مزاج اور رجحان کا ایسا چاہا ان چاہا پرتو ہی تو ہوتی ہے، جو قاری کے مزاج کا بھی حصہ بن پاتی ہے اور اس کے مطالعے سے حسب توفیق لطف لے پاتا ہے۔
عظیم اختر صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی نسبی شرافت، ادبی ماحول، فطرت سلیم اور گہرے تخلیقی مزاج کی بدولت شہرت کی چاہ سے تقریباً بے نیاز، ادب کے ذریعے دنیاوی علائق کی صف بندی سے دور، مجلسیت کے دل دادہ، شجر ثمربار کی طرح مہربان، مہذب، مشفق اور خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں۔ اسی لیے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہ کر بھی ان میں نہ افسری کی بو آئی اور عہدے کی بلندی کو انہوں نے اپنا قد بڑھانے میں استعمال کیا۔ ایمانداری کے ساتھ دنیاوی فرائض انجام دیے اور دل کو خدا، انسان اور تخلیق کی طرف متوجہ رکھا۔ نتیجہ یہ کہ جو بھی لکھا وہ سچا اور اچھا لکھا اور نجی درد و داغ، مشاہدے، تجربے اور جذبے کے تحت لکھا۔ نہ رنگ برنگے تبصروں کی فکر کی اور نہ بے رنگ پیشہ ور نقادوں کے چکر میں پڑے اس لیے ماشاء اللہ خود بھی خوش ہیں اور دوسروں کی خوشی سے خوش بھی ہوتے ہیں۔ موٹے فریم کا بڑا چشمہ لگاتے ہیں مگر دانشوری کا دعویٰ نہیں کرتے۔ ان کا چشمہ آنکھ کے لیے ہے۔ بصارت اور بصیرت کے لیے انہیں نہ کسی چشمے کی ضرورت ہے، نہ نظر زدہ نظر کی۔ انہوں نے تو ’’مفید‘‘ عہدوں پر رہتے ہوئے کبھی ذال والی نذر کی طرف بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ سچے، اچھے، اکلِ حلال اور ادبی کمال والے لوگ ایسے ہی عظیم اور صاحب کردار ہوتے ہیں تب ہی تو اپنی تصنیفات میں بھی سچے کردار تخلیق کرپاتے ہیں کہ تخلیق بہرحال کسی نہ کسی طور تخلیق کار کا ہی تو پرتو ہوتی ہے۔
عظیم اختر صاحب ادبی یا غیر ادبی مغالطے کا شکار نہیں ہیں، اسی لیے مزاج کی شگفتگی، عادات کی مجلسیت، قلم کی بے باکی و بے ساختگی نہ صرف باقی ہے بلکہ ترقی پر ہے، جس کا بہترین مظہر ان کی حالیہ تصنیف ہے، جسے انہوں نے سفرنامہ کہا ہے اور ہم نے جسے ایک ناول کی طرح پڑھا ہے۔ تصنیفی آزادی اور مصنف کے اختیارات اپنی جگہ، ان کا احترام بھی لازم ہے۔ مگر قاری تو بہرحال قاری ہے اور کتاب تو اب قاری کے ہاتھ میں ہے، جسے اس سفرنامے میں ناول، افسانہ، خاکہ، انشائیہ نگاری وغیرہ وغیرہ بہت سی اصناف کا لطف آئے گا۔
پڑھنا شروع تو کیجیے کتاب آپ خود اپنے آپ کو پڑھوالے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here