انجم عثمانی
تقریباً تین دہائیوں سے بھی پہلے کی بات ہے، جب ہم یونین پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ پروگرام ایگزیکٹیو کے لیے منتخب ہو کر راجستھان کی راجدھانی جے پور جیسے گلابی شہر میں اردو زبان و ادب کا پروگرام ’’کہکشاں‘‘ ترتیب دینے اور پروڈیوس کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ تیس سال پرانی بات ہے، مگر یوں لگتا ہے جیسے کل کی ہی بات ہے، وقت کی خوبی یہ ہے کہ وہ گزرنے، مزید گزرنے اور گزرتے جانے کے ساتھ اپنی جڑیں گہری اور گہری کرتا جاتا ہے۔ آپ جب چاہیں ماضی کے اس سمندر سے حسب توفیق موتی چن لائیں اور نہ بھی چنیں تو کبھی کبھی دل کا سمندر آنکھوں کی کشتیوں میں پلکوں کی پتوار پر ان موتیوں کو یادوں کے چمکتے ستاروں کی صورت خود بھی ظاہر کردیتا ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے مارچ 1983 کی وہ صبح جب میں نے جے پور کے سب سے طویل وخوبصورت روڈ مرزا اسماعیل روڈ(جسے عرف عام میں ایم آئی روڈ کے نام سے جانا جاتا ہے) پر واقع آکاش وانی کی عمارت میں قدم رکھا تھا۔ میں اس سے پہلے کبھی جے پور نہیں آیا تھا۔ پہلے ہی دن اس اجنبی شہر میں کچھ ایسے ہم ذہنوں سے ملاقات ہوگئی، جن کا تعلق اب بھی حرزجاں ہے، ان میں اس وقت کے پروگرام ایگزیکٹیو آنند سیال، ڈراما پروڈیوسر حسن خان، ہندی پروگراموں کے پروڈیوسر بوہرا صاحب، کھرے صاحب وغیرہ اور آج کے دور کے مشہور شاعر راجیش ریڈی شامل ہیں۔ بوہرا صاحب کب کے آنجہانی ہوئے، کھرے صاحب ملازمت سے سبکدوش ہو کر کہاں ہیں پتہ نہیں؟ البتہ حسن خاں ملازمت سے سبکدوشی کے بعد غالباً اپنے وطن رائے پور میں ہیں، آنند سیال دوردرشن میں اسپورٹس چینل کے ڈائریکٹر ہیں، ہماری طرح دوردرشن بھگت رہے ہیں اور راجیش ریڈی پوری دنیا میں مشاعرے لوٹنے کے ساتھ بمبئی میں آکاش وانی کے کمرشیل سربراہ ہیں۔
آکاش وانی جے پور کا اردو پروگرام کہکشاں اور آکاش وانی جے پور سے نشر ہونے والے مشاعرے وغیرہ ہماری ذمہ داری تھے اور ان پروگراموں کی وجہ سے راجستھان کے اردو ادیب و شاعروں سے رابطہ رکھنا ہمارا ذوق اور پروگرام کی ضرورت تھا۔
اردو کتب ورسائل کے ذریعے راجستھان کے جن ادیبوں، شاعروں کی تحریروں سے ہم واقف تھے، ان میں عقیل شاداب، احتشام اختر، فاروق انجینئر، خداداد مونس، ابوالفیض عثمانی، ڈاکٹر فضل امام، ڈاکٹر فیروز، راہی شہابی وغیرہ کے علاوہ سب سے اہم نام شاہد میر کا تھا، جو اپنے کلام کے مخصوص رنگ کی وجہ سے ہمارے ذہن میں محفوظ تھا۔ چنانچہ پروگرام سنبھالنے کے فوراً بعد جن لوگوں کو پروگرام میں دعوت دینا شروع کی، ان میں مذکورہ، لوگوں کے ساتھ شاہد میر خاص طور پر شامل تھے۔ شاہد میر کو مختلف جرائد میں پڑھ چکے تھے، خاص طور پر ماہنامہ شب خون الٰہ آباد آج کل دہلی اور ماہنامہ شاعر بمبئی میں ان کا کلام شائع ہوتا تھا۔
شاہد میر ان دنوں بانسواڑہ میں تھے اور بانسواڑہ آکاش وانی جے پور کے زون میں تھا، چنانچہ ایک دن شاہد میر آکاش وانی کی ایک شعری نشست میں تشریف لائے اور ایسے قدم رنجہ فرمایا کہ آج تک ہمارے دل میں براجمان ہیں۔ (بعد میں اندازہ ہوا کہ دلوں میں گھرلینا ان کی عادتوں میں سے ہے اور اکیلے ہم ہی خوش نصیب نہیں ہیں، انہوں نے تو ان گنت دلوں پر قبضہ کر رکھا ہے)
شاہد میر سے پہلی ملاقات میں جے پور کے سب ساتھی یعنی آنند سیال اور راجیش ریڈی وغیرہ سب ہی بہت متاثر ہوئے، مگر ہم گرویدگی کی حد کو پہنچ چکے تھے اور آج بھی یہی حال ہے۔
مجھے یاد ہے کہ شاہد میر کو دیکھ کر میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ:’’ اس طرح کا ضخیم آدمی اتنا معصوم کبھی نہیں دیکھا۔‘‘شاہد میر کے چہرے پر اپنی شاعری ہی کی طرح گہری، سادہ، بے داغ، بے ریا، معصوم مسکراہٹ یوں بکھری رہتی ہے جیسے سنگ مرمر کی چٹان پر صبح کی دھوپ پھیلی ہوئی ہو۔ کافی فربہ جسم، گورا رنگ، چہرے پر خوشگواری کا احساس، دیکھیے تو دیکھتے رہنے کو اور سنیے تو سنتے رہنے کو دل چاہے۔ آواز گہری، کھنک دار اور میٹھی۔ سرمیں گاتے ہیں، ترنم میں سناتے ہیں۔ دل سے لکھتے ہیں۔ دلوں پر چھا جاتے ہیں اور اپنے مخصوص رنگ سے مشاعروں اور کاغذوں میں پرکشش ہیں۔
جے پور کی ایک سہانی شام: خاما کوٹھی کے سبزہ زار پر آنند سیال، راجیش ریڈی اور میں، شاہد میر کی غزل سنتے ہوئے، یہ منظر میری خوشگوار یادوں میں اب بھی بسا ہے، غزل کے بھی کئی شعر یاد ہیں۔ اب تو وہ شعر سب کو یاد ہیں، اس لیے کہ گلوکار جگجیت سنگھ نے اس غزل کو اپنی آواز دے کر پوری دنیا میں مشہور کردیا:
اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کردے
یا چھلکتی ہوئی آنکھوں کو بھی پتھر کردے
تجھ کو دیکھا نہیں محسوس کیا ہے میں نے
آ کسی دن مرے احساس کو پیکر کردے
اور آخری شعر تو بے پناہ ہے:
اور کچھ بھی مجھے درکار نہیں ہے لیکن
میری چادر مرے پیروں کے برابر کردے
پھر یوں ہوا، جو ہونا ہی تھا کہ شاہد میر سے ہماری باقاعدہ بے تکلف دوستی ہوگئی اور ہم سے ملنے جے پور آنے اور ہم ان سے ملنے کے بہانے تلاش کرنے لگے۔ کچھ کچھ وقفے کے ساتھ کوئی نہ کوئی ایسا موقع ضرور نکل آتا کہ شاہد میر سے گھنٹوں ملنے، ادبی بحثیں کرنے اور کلام سننے سنانے کا موقع مل جاتا(ہم صرف سنتے تھے سنانے والوں میں تو شاہد میر اور راجیش ریڈی شامل رہتے تھے) شاہد میر اور راجیش ریڈی سے موجودہ دور کے بہت سے مشہور کلام کا لطف ہم ان نجی محفلوں میں لے چکے ہیں۔
شاہد میر بہت کم بولتے ہیں۔ سوچتے، سنتے اور مسکراتے زیادہ ہیں۔ مگر ان کی خاموشی کسی لاتعلقی کا اظہار نہیں، بلکہ ان کی شخصیت کا ایک ایسا حصہ ہے، جس نے ان کی گفتگو کو اور بھی معتبر بنا دیا ہے۔ ان کی گفتگو کے خاص موضوعات شعر و ادب کے علاوہ موسیقی سے متعلق ہوتے ہیں۔ موسیقی اور شاعری کے مشترکہ رموز سے واقفیت نے ان کے کلام میں ایسی ندرت پیدا کردی ہے جو ان ہی کا خاصا ہے:
جن بحروں کو چھولیتے ہیں پھولوں سی کھل اٹھتی ہیں
جن لفظوں کو ہم کرتے ہیں نظم، ہرے ہوجاتے ہیں
غزلوں، نظموں، گیتوں اور دوہوں کا یہ موسیقی ریز مترنم منفرد شاعر شہر ادب بھوپال کے ادبی اعتبار کا ناگزیر حصہ ہے۔ خدا ان کو صحت مند اور سرگرم ادب رکھے۔
اس بار بس اتنا ہی اگلے ہفتے پھر بات سے بات چلے گی۔ یار زندہ صحت باقی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here