ایل او سی کاروباری علامت سے اوپر

damiجموں و کشمیرکے تناظر میں ہندو ستان اور پاکستان کے رشتوں کو لے کراگر کسی ایک واقعہ کی بات کی جائے جسے ایک حصولیابی کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے، تووہ ہے 23 نومبر 2003 کو اعلان کی گئی جنگ بندی۔ اس اعلان کے سبب ایک نئی شروعات کا راستہ تیار ہوا اور کنٹرول لائن کے دونوں طرف اعتماد کی بحالی کی دو بڑی پہل کی گئیں۔ سال 2013 میں جنگ بندی نے ایک دہائی مکمل کی اور ریاست کی 725 کلومیٹر لمبی کنٹرول لائن کے نزدیک رہنے والے ہزاروں لوگ اس کی کامیابی کو دیکھ کر خوش ہوئے اور اس کے تسلسل کی خواہش کی۔ حالانکہ بیچ بیچ میںجنگ بندی کی خلاف ورزی بھی ہوئی،لیکن لوگوں میں اس کے مستقل ہونے کی امیدیں باقی رہیں۔
آخر کار اس اعلان نے کنٹرول لائن کے دونوں طرف سے ہونے والی گولہ باری کی آوازوں کو ایک دم خاموش کردیا تھا اور اس کے سبب لوگوں کو ہونے والی پریشانیاں بھی اچانک ختم ہوگئی تھیں۔ پاکستان کے اس دور کے صدر پرویز مشرف کے ذریعہ جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد نئی دہلی نے بھی اس اعلان کی تائید کی تھی۔ اس کے بعد ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو لوٹ سکے تھے۔
بہرحال گزشتہ تین سالوں کے دوران صورت حال دوبارہ خراب ہوئی ہے اور پچھلے کچھ مہینوں کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کی وجہ سے دونوں طرف سے ہونے والی گولہ باری میںمرنے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ کشیدگی میں نئے سرے سے ہورہے اضافے نے ہزاروں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے کو مجبور کردیا ہے۔ چونکہ صورت حال کو نارمل کرنے کی سمت میں ہندوستان اور پاکستان رضامند ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حالات سدھارنے میںطویل وقت لگ سکتا ہے۔ جنرل قمر باجوہ پاکستانی فوج کے نئے سربراہ بنے ہیں۔ اب غور کرنے والی بات یہ ہوگی کہ وہ ہندوستان کے لیے کیسی پالیسی اپناتے ہیں۔ بہرحال ان کی پالیسی یقینی طور پر دونوں ملکوں کو آنے والے دنوں کے تعلقات کی وضاحت کرے گی۔ لیکن جہاں تک مودی سرکار کا سوال ہے تو اس کے لیے نوٹ بندی کے سبب پیدا ہوئے غصے اور اترپردیش کے آئندہ انتخابات کے مدنظر پاکستان کے ساتھ کشیدگی مناسب ہوگی۔
حالانکہ بندوقوں کی گھن گرج اسی تیزی سے جاری ہے، لیکن اس کے باوجود کچھ امید بھری چیزیں دکھائی دے رہی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے کنٹرول لائن بزنس، جس نے 21 اکتوبر کو اپنے آٹھ سال مکمل کرلیے اور جو کئی رکاوٹوں کے باوجود اعتماد بحالی کا ایک کامیاب طریقہ ثابت ہوا ہے۔ اس کامیابی کو دہلی میں واقع بیورو آف ریسرچ آن انڈسٹری اینڈ اکانومک فنڈا مینٹلس (بریف) نے کانسیلیئشن ریسورسیز (لندن) کی مدد سے تیار ایک تفصیلی رپورٹ میںظاہر کیا ہے۔ اس رپورٹ کو دہلی اور جموں میں ریلیزکیا گیا جس میں گزشتہ آٹھ سال کے دوران کاروبار میںہوئی ترقی کو دکھایا گیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اس دوران 699 ملین ڈالر کا کراس ایل او سی کاروبار ہوا، جو بنیادی ڈھانچے سے متعلق اڑچنوں کو دیکھتے ہوئے ایک بڑی حصولیابی ہے۔ مناسب نظام کے فقدان اور ایل او سی کاروبار کے خلاف جاری سازش کے باوجود یہ جاری رہا۔ دراصل یہ دونوں طرف کے لوگوں کی ایک دوسرے سے اتحاد بنائے رکھنے کی خواہش کا اظہار بھی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ ہمیشہ رہنے والی کشیدگی کے سبب بس سروس کی طرح مثبت کاروبار بھی دور کی کوڑی ہی رہی ہے۔ لیکن پھر بھی یہ کاروبار، جس کی ایک بہت بڑی علامتی اہمیت رہی ہے،جاری رہا ہے۔ صرف رشتوں میںکشیدگی کاسایہ ہی اس پر حاوی نہیں رہا ہے، بلکہ کاروباریوں کے چھوٹے موٹے آپسی جھگڑوں کے ساتھ ساتھ نشیلی اشیاء کی اسمگلنگ کی سازش بھی اس کے سامنے ایک بڑا خطرہ رہا ہے۔ اگر ایل او سی پر گولہ باری کی وجہ سے دونوں طرف کا کاروبار کئی ہفتوں تک ملتوی رہا، تو وہیں 2014 اور 2015 کے بیچ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والے ٹرکوں سے نشیلی اشیاء کی کھیپ برآمد کیے جانے کے بعد بھی اسے معطل کیا گیا۔ ان ٹرکوں کے ڈرائیور آج تک بارہمولہ جیل میںسلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔
اس کاروبار کو تازہ ترین خطرہ امرتسر اور لاہور کے کاروباریوں کی طرف سے ہے جو اس کاروبارکوغیر قانونی اور حوالہ کہہ رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کاروبار دو خود مختار ملکوں کی نگرانی میں کیا جارہا ہے۔ ان کاروباریوں کی تشاویش حقیقی ہوسکتی ہیں کیونکہ وہ اسے ایک متوازی کاروبارکی طرح دیکھ رہے ہیں جو ان کے کاروبار کو متاثر کررہا ہے، لیکن اس کاروبار کو اس نظریہ سے الگ ہٹ کر دیکھنا ہوگا،کیونکہ اس کاروبار کی شروعات علاقے میںامن قائم کرنے اور اعتماد کی بحالی کے لیے کی گئی تھی۔ جیسا کہ 26 نومبر 2016 کو جموں میںبریف رپورٹ کو ریلیز کرتے ہوئے مشہور ماہر سیاسیات ریکھا چودھری نے بالکل ٹھیک کہا کہ اگر ہم اس کاروبار کو اقتصادی نفع نقصان کے طور پر دیکھیں گے تو ہم غلطی کریں گے، ایسے وقت میں جب (دونوں ملکوں کے بیچ) ساری چیزیں زمین بوس ہوگئی ہیں، تو صرف یہی ایک چیز ہے جو ابھی بھی جاری ہے۔اس نے پرانی ’’جموں- کشمیر) ریاست کوایک نظریاتی اتحاد عطا کیا ہے۔آج اس کاروبار کوخاص طور سے بینکنگ سے جڑے مسائل کے سبب رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ حکومت ہند نے بینکنگ شروع کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن پاکستان اس کو لے کر مثبت نہیں ہے۔
حالانکہ ایل او سی کاروبار کو لے کر ہندوستان اور پاکستان کے بیچ 2004 میں ہی رضا مندی ہوگئی تھی لیکن اسے حقیقی طور پر 2008 میںامرناتھ زمینی تنازع میں احتجاجی مظاہرہ اور ہڑتالوں کے مدنظر ملا جب جموں کی باڈیز نے اقتصادی ناکہ بندی کا اعلان کیاتو کشمیر میں کاروباریوں نے مظفرآباد سے روایتی کاروبار ی راستہ کو پھر سے کھولنے کی مانگ کی۔ اس کے بعد’ مظفرآباد چلو ‘کی مشترکہ طور پر اپیل کی گئی جس میں سینئر علیحدگی پسند لیڈر شیخ عزیز سمیت کئی لوگ پولیس فائرنگ میں اس وقت مارے گئے تھے جب جلوس سری نگر – مظفرآباد سڑک پر شیری کے پاس روک دیا گیا تھا۔ لوگوں میںبڑھتی ہوئی بے چینی کے سبب نئی دہلی کی حالت نازک ہوگئی اور ہندوستان نے ایل او سی کاروبار کو یکطرفہ طور پر آخری شکل دے دی۔ پاکستان نے ہندوستان کے فیصلے کو مان لیا اور 25 ستمبر کو نیویارک میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پاکستان کے صدر آصف زرداری تجارتی راستہ کھولنے پر راضی ہوگئے۔ بعد میں دونوں کشمیر کے کاروباریوں نے کاروبار میں آنے والی اڑچنوں اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے غیر رسمی طور پر جموں وکشمیر جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (جے کے سی سی آئی) قائم کیا لیکن سرکاروں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ جے کے سی سی آئی آپسی میل ملاپ کی ایک شاندار حصولیابی ہے،کیونکہ اس کے ممبروں میں جموں و کشمیر ، مظفر آباد، لداخ، میر پور اور گلگت -بلتستان دونوں طرف کے لوگ شامل ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ حسیب ڈرابو کے ذریعہ اکتوبر 2008 میں دیئے گئے فارمولے کی موجودہ سرکار میں خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ ایک ماہر اقتصادیات کی شکل میں حسیب ڈرابو اس وقت جموں اینڈ کشمیر بینک کے سربراہ تھے۔ انہوں نے ایک بینکنگ سسٹم قائم کرنے کی تجویز دی تھی جس میں لیٹر آف کریڈٹ کی باہمی منظوری ہو، ایک مواصلاتی نیٹ ورک ہو تاکہ کاروباریوں کو دونوں طرف کے مروجہ ریٹ کی جانکاری ہو سکے، نقل و حمل کا ایک نیٹ ورک ہو، کاروبار کی ساخت کا تعین کرنے کے لئے ایک ریگولیٹری نیٹ ورک ہو اور تنازعات کے حل کے لئے ایک قانونی نیٹ ورک ہو۔
ڈرابو فارمولہ (جیسا کہ بعد میں اسے جانا گیا) اس سلسلے میں با معنی ثابت ہو سکتا تھا۔ آج ڈرابو خود اپنے اس فارمولے پر قائم ہیں یا نہیں، یہ معلوم نہیں ہے۔ اگر آج کوئی چیز اس کاروبار کو کمزور کررہی ہے تو وہ ہے اس سلسلے میںدونوںملکوں کی سرکاروںکی واضح بے حسی ۔حالانکہ یہ ابھی تک اس لئے جاری ہے کیونکہ اس کارو بار میںشامل لوگوں نے اپنے فائدے اس کے ساتھ جوڑ لئے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ یہ کارو بار (دونوں ملکوں کے درمیان ) تنائو کو ختم کرنے کی علامت کی شکل میں ابھرا ہے اور یکجہتی کی امید کو زندہ رکھے ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *