اپنے رنگ میں لوٹ رہی ہے ہندوستانی ہاکی

Share Article

damiہندوستانی ہاکی اب سرخیوںمیںہے لیکن اس بار کسی تنازع کے لیے نہیں، بلکہ اپنے شاندار کھیل کے لیے سرخیوں میں ہے۔ ابھی حال ہی میںہندوستانی ٹیم نے ایشیائی چمپئنس ٹورنامنٹ میںپاکستان کو دھول چٹا کر لوہا منوایا۔ حالیہ دنوں میں ہندوستانی ہاکی ٹیم شاندار کھیل کا مظاہرہ کررہی ہے۔ حالانکہ اولمپک میں ہندوستان بھلے ہی میڈل جیتنے سے چوک گیا ہو لیکن اس نے اپنے جارحانہ کھیل کی بدولت خوب واہ واہی لوٹی تھی۔ یہ وہی ہاکی ٹیم ہے جو اپنے سنہرے دنوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔
تاریخ میںہندوستانی ہاکی امررہی ہے۔ اس کے کھیل کا کوئی ثانی نہیںتھا۔ دھیان چند کا خواب پورا کرانے کے لیے ابھی ہندوستانی ہاکی کو طویل سفر طے کرنا ہے۔ وقت اور حالات دونوں ہندوستانی ہاکی سے ناراض رہے ہیں۔ لیکن اب وقت نے تھوڑی کروٹ بدلی ہے۔ ٹیم میںبھی کافی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ٹیم میںنوجوان کھلاڑی اپنے الگ پہچان بنارہے ہیں۔
ایشین مینس ہاکی چمپئنس ٹرافی میںہندوستانی ٹیم کی جیت اس لیے اہم مانی جارہی ہے کیونکہ ہندوستان نے پاکستان کو سخت مقابلے میں3-2 سے ہرایا ہے۔ اس جیت میںٹیم کے تجربہ کار کھلاڑی روپندر سنگھ پال اور نکن تھمیا کا خاص تعاون رہا ہے۔
ہندوستانی ہاکی ٹیم کے ممبر رہے دانش مجتبیٰ نے بھی ہندوستان کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انھوںنے ’چوتھی دنیا‘ سے خاص بات چیت میںکہا کہ ٹیم اب پرانی لے میںلوٹ رہی ہے۔ انھوںنے کہا کہ ٹیم کا ہدف ہے کہ وہ اپنی رینکنگ میںاور بہتری کرسکے۔ دانش کے مطابق ٹیم نمبر ون بننے کے لیے مضبوطی سے قدم بڑھا رہی ہے۔ دراصل ہندوستانی ٹیم موجودہ رینکنگ میںچھٹے پائیدان پر ہے۔ انھوںنے کوچ رولینٹ اولٹمنس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آنے سے ہندوستانی ٹیم کی تصویر بدل گئی ہے۔ دانش نے مانا کہ رولینٹ اولٹمنس کی کوچنگ سے ٹیم تکنیکی طور پر بھی کافی مضبوط ہوئی ہے۔
دانش نے بتایاکہ کوچ ٹیم کے کھلاڑیوںسے کہتے ہیںکہ ہاکی میں ڈیفنس اور جارحانہ کھیل دونوں ہی بے حد ضروری ہیں، لیکن میچ جیتناہے تو جارحانہ کھیل کھیلنا ہوگا اور ٹورنامنٹ جیتنا ہے تو ڈیفنس بھی رکھنا ضروری ہوگا۔ یعنی دونوںہی چیزیںاہم ہیں۔ اولمپک میں آٹھویں نمبر پر رہنے والی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میںاچھا کھیل دکھایا لیکن آخری لمحوںمیںکمزور مظاہرے کے سبب میڈل کی دوڑ سے باہرہوگئی۔انھوں نے بتایاکہ کوچ رولینٹ اولٹمنس کھلاڑیوںکو بہتر طریقے سے کوچنگ دے رہے ہیں۔
ٹیم کے کھلاڑی بھی ان کے اندازکو سمجھنے لگے ہیں۔ ہندوستانی ہاکی ٹیم ایشیائی ملکوںمیںاول مانی جاتی رہی ہے لیکن ابھی اسے جرمنی، آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیموںکو ہرانے کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی۔ اتنا ہی نہیں حالیہ دنوں میںہندوستان کے علاوہ بلجیم اور ارجنٹینا نے بھی اپنی ہاکی میںغضب کا سدھار کیاہے۔ دوسری طرف ہندوستانی ٹیم اپنے نئے کوچ کے ساتھ نئے پیرامیٹر قائم کرنے کے لیے لگاتار اپنی ہاکی کے انداز میںکافی تبدیلی کررہی ہے۔ ہندوستان پہلے دیسی کوچ کے سہارے اپنی ہاکی کو چمکانے میںلگا تھالیکن اب غیر ملکی کوچ کے آنے سے ٹیم میںایک الگ ہی جوش دیکھا جاسکتا ہے۔ اُدھر ہاکی انڈیا نے بھی کوچ رولینٹ اولٹمنس کی کوچنگ سے خوش ہوکر ان کا معاہدہ 2020 تک کے لیے کردیا ہے۔ایسے میںرولینٹ اولٹمنس کے پاس لمبا وقت ہے جس سے وہ ہندوستانی ہاکی کے سنہرے دور کی کہانی پھر سے دوہراسکیں۔ ایشیائی ہاکی کاسرمور بننے میں کوچ رولینٹ اولٹمنس کااہم رول رہا ہے۔
ریو اولمپک میں بھلے ہی ٹیم کی کارکردگی امید کے مطابق نہیںدکھائی دی۔ ہندوستان نے نئے سیزن کے لیے سخت پریکٹس کی۔ اسی کو دھیان میں رکھ کر ٹیم کو فٹنس کے مراحل سے بھی گزرنا پڑرہا ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ ریو میں ہندوستانی کھلاڑیوںنے اپنی ہاکی کی دھمک سے دنیا کے کئی ملکوں کے ماتھے پر شکن ڈال دی تھی۔ پوری دنیا میں ہندوستانی ہاکی کی تعریف ہورہی ہے۔ دراصل ہندوستان ابھی سے اگلے اولمپک اور ورلڈ کپ کے لیے تیار ہورہا ہے۔ اسی بات کو دھیان میں رکھ کر کوچ رولینٹ اولٹمنس کی نگرانی میں ہاکی انڈیا جونیئر کھلاڑیوں کو بڑی سطح کے لیے تیار کرناچاہتی ہے۔
جونیئر کھلاڑیوں کے لیے یوپی میںہونے والے جونیئر ورلڈ کپ میںاچھی کارکردگی دکھانے کا سنہرا موقع ہوگا۔ رولینٹ اولٹمنس کی کوشش ہے کہ مڈفیلڈ اور فارورڈ پوزیشن کے لیے ٹیم اور مضبوط ہو۔ ان کے کوچ رہتے ہندوستانی ٹیم نے کئی موقعوںپر ملک کی شان بڑھائی ہے۔ ان میں سب سے اہم ہے چمپئنس ٹرافی میں سلور میڈل جیتنا۔ جبکہ گزشتہ سال دسمبرمیں ورلڈ لیگ میںبھی شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے کانسہ کے میڈل پر قبضہ کیاتھا۔ ا س کے ساتھ ہی اب ایشیائی ٹورنامنٹ میںخطاب جیت کر ہندوستان کو ٹاپ ٹیم میں شامل کرنے کی شروعات ہوگئی ہے۔
ہندوستانی ہاکی کی تاریخ پر غور کیا جائے تو ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہندوستانی ہاکی کی طوطی پوری دنیا میںبولتی تھی۔ ہاکی کے بانی میجر دھیان چند نے ہندوستانی ہاکی کو بلندیوںپر پہنچایاتھا۔ اتنا ہی نہیں 1920سے 1980تک ہندوستانی ہاکی کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا۔ اس دوران ہندوستان نے اولمپک میں11 میڈل جیتے تھے اور کئی اہم مقابلوںمیںبھی ہندوستان نے کئی میڈل اپنے نام کیے تھے، اس میں 1975 میںورلڈ کپ کا خطاب بھی شامل ہے۔
ماضی میں ہندوستانی ہاکی بلندیوںپر رہی لیکن بعد میں اس کھیل کو لے کر کئی باتیںکہی جانے لگیں۔ ہاکی کو چلانے والی ایسوسی ایشن نے ہاکی کے نام پر خوب کھیل کھیلا۔ دراصل سچائی یہ ہے کہ ہاکی کو لے کر ہمیشہ امتیاز برتا گیا۔ جہاںایک طرف کرکٹ میںلگاتار ہندوستان کا نام چمک رہا ہے،وہیں دوسری طرف ہاکی کے نام پر کچھ بھی نہیںہوتاہے۔ ہاکی کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی آگے نہیںآتا ہے۔ لیکن اب ہندوستانی ہاکی کے حالات بدلنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب پہلے کے مقابلے ہاکی میںمظاہرہ بھی اچھا ہورہا ہے۔ہاکی سے جڑنے کے لیے کھلاڑی آگے بھی آرہے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حالیہ دنوںمیںہاکی انڈیا نے بھی ہندوستانی ہاکی کے مفاد میںکئی بڑے قدم اٹھائے ہیں۔کرکٹ کی طرح ہاکی میںبھی کئی تبدیلیاں کی گئیںہیں۔ ہاکی انڈیا لیگ سے ہندوستانی کھلاڑیوں کو اب الگ پہچان مل رہی ہے۔ امید ہے کہ ہندوستانی ہاکی کا سنہرا دور ایک بار پھر جگمگائے گا اور دھیان چند جیسے عظیم کھلاڑیوںسے یہ کھیل پھر مستفیض ہوگا اور دنیا میں نام کمائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *