آپ کی رائے

84 thoughts on “آپ کی رائے

  • March 1, 2012 at 1:25 pm
    Permalink

    we are going to make a web-site to help the students of urdu medium. The services of this web-site will be available absolutely free to the students of class six to twelfth .The website will be useful to the students of urdu boards and the urdu-medium students. This a non-commercial project. we welcome the academics,teachers who can provide study materials for the website.The short descriptions of the contributors will be given on the website.Persons desirous of fees for their contributions should not contact us.This web-site is aimed at serving the urdu speaking muslims students in particular and others in general. contact me
    S. M. SHAHID IQBAL
    09910775722
    SAYYIDS@INDIATIMES.COM

    Reply
  • February 25, 2012 at 12:12 am
    Permalink

    PATHOS
    (On its 10th Anniversary, a poem based on Gujarat Genocide)

    What kind of life it is?
    What condition it is?
    Neither earth seems, nor sky,
    Loneliness, solitude,
    Home and garden seem ruin,
    Human, backward and Muslims,
    All are afraid.
    What is their mistake?
    What they have done?
    What they have mistaken….??
    ……………………….
    ……………………….
    But they are being terrorized,
    Children are being orphan,
    Why and why so…???
    ………………………
    ………………………
    I ask these questions from me too…..
    But the world is witness,
    Theses people have done nothing,
    Neither theses poor have mistaken,
    The people
    Still in their country, in their home,
    They are refugee in own country the,
    Why this hell?
    Is it justice?
    Is it law?
    Which can’t carry responsibility of a society?
    Shame on such government, law,
    But the fact is that,
    Government is part and parcel of this crowed,
    The law maker is law breaker,
    They don’t feel shy on their deeds,
    No pity they have on this misfortune,
    To those homeless,
    Neither a shade is for them,
    Is it a war on humanity?
    They are unknown of their fate?
    Are they master of all creation?
    Perhaps no one is for then,
    but God is with them,
    Today or tomorrow,
    Sure will hold the bow in their hand,
    It is only matter of the time,
    ALLAH is sure with them.
    (End)

    (Jawed Akhtar, Rashid, Jamia Nagar, New Delhi-110025
    Contact: 9313007131, E-mail: jawed.ma@gmail.com)

    Reply
  • February 8, 2012 at 6:13 pm
    Permalink

    میں خود ایک صحافی اور قلمکار ہوں اور کئی اخبارات اور سائٹوں کے لئے لکھتا ہوں مگر آپ کی وئب سائٹ بہت ہی معلوماتی اور متاثر کن ہے ۔۔۔۔۔۔ایڈیٹر سے ٹیم کے تمام ارکان تک سبھی باخبر لوگ نظر آتے ہیں اور وہ بھی تین زبانوں میں مواد شائع کرنے والی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو ایک مضمون کشمیر سے متعلق بھیجنا چاہتا ہوں مگر مجھے کہیں بھی آپ کا ای میل نہیں ملا اس کے لئے مجھے کیا کرنا ہے
    شکریہ الطاف ندوی کشمیری

    Reply
  • November 30, 2011 at 3:31 pm
    Permalink

    !مکرمی

    آج ہندوستانی سماج کو ایک خطرہ لاحق ہے- وہ ایسے کہ جسطرح سے آج ہمارا مشرقی کلچر مغربی تھذیب کہ پیرو ہوا چاہتا ہے، کہا جاسکتا ہے کہ ایسا ہی ہونے والا ہے- وقت کہ کمی کہ سبب میں ٹیلیویزن نہ کے برابر دیکھتا ہوں- مگر بگ باس شو دیکھنے کہ اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کوئی انڈو-کندین پورن اسٹار بھی حصّہ لےچکی ہیں. ایسے میں مجھے ایک دھکّا لگا اور یہ سوچنے پر میں مجبور ہوا کہ آیا ہم ایسے پروگرام دیکھنا واقعی چاہتے ہیں یا ہمیں دکھایا جاتا ہے یا ہماری مجبوری ہو گیی ہے- افسوس کہ مقام ہے کے ٹی-آر-پی کہ چکّر میں اور پروگرام کی مقبولیت کے آر میں ایسے لوگوں کو بھی ہندوستانی چیانل میں جگہ دے دی جاتی ہے جسکے برے اثرات ہمارے بچوں اور جینرشن پر پڑینگے- بڑے برے اور گہرے اثرات مرتب ہونگے- ایسے میں نہ تو وزارت انفارمشن نے نہ کوئی قدم ابتک اٹھایا ہے اور نہ میری جانکاری میں ابتک کوئی جرمانہ اے عاید کیا گیا ہے- عالیجناب! میں سمجھتا ہوں ایسے چیانل مالکان پر نہ صرف مقدمہ عاید کرنا بلکہ لاکھوں جرمانہ اورساتھ ساتھ سخت قانون انکے لئے نافذ ہونا چاہے- آخر یہ کیا معمالہ ہے کہ یہ پرائیویٹ چیانل جو کہ دھڑلے سے صرف چیانل رجسترشن کرانا ہی، صرف اپنا فرض سمجھتے ہیں باقی قانون بالاۓ طاق رکھ کر اپنی اور چیانل کی مقبویت کی خاطر اور صرف اور صرف ٹی- آر–پی کی خاطر ہماری تہذیبوں، تمدّنوں اور پہچان کو بھی بھلا کر جیتے ہیں- یہ تو حد ہوگیی اب تو ھنوستانی چیانل پر گھریلو شو میں اب انگریزن با لا ییں اور وہ بھی پورن اسٹار دکھا ے جارہے ہیں- تاکہ ہمارے بچے جان سکیں کہ وہ جس ماڈل کو دیکھ رہے ہیں انکا پیشہ اپنی جسموں کو بیچنا اور انٹرنیٹ پر دکھانا ہے-، گویا وہ نۓ دوڑ کی وہ جسم فروش عورت ہے جو کبھی پرانے دوڑ میں کوٹھوں پہ ملا کرتی تھیں-
    میں آپ کے اخبار کے توسط سے وزیر برود کاسٹنگ محترمہ امبیکا سونی صاحبہ سے درخاست اور مانگ کرنا چاہتا ہوں کے براے مہربانی ایسی چیانل اور پروگرام پر پابندی عاید کرنے کہ حکم صادر فرمایں اور ساتھ میں بھاری جرمانہ بھی آید کیجے جو کہ ایسے پروگرام ہمارے معاشرے اور تہذیب کا مذاق اڑاتا ہے، نہ کہ ترقی کی طرف لے جاتا ہے- محض انٹرٹنمنٹ کا نام پر ہم ایسی گستاخانہ حرکات کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتے- تاکہ آیندہ ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے. جس سے ہمیں اپنے گھروں اور محلوں اور سماج میں شرمندگی سے جینا پڑے، ایسا دن نہ دیکھنا پڑے، الله ہمیں کہنے
    !سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق دے، آمین

    جاوید اختر
    جامعہ نگر
    نی دہلی-25
    #9313007131

    Reply
  • November 28, 2011 at 4:40 pm
    Permalink

    !مکرّمی

    ہم نے سنا ہے کہ پیڈ نیوز دو طرح کے ہوتے ہیں
    !١. چند پیسے دیکر خبر چھپوانا یا دکھانا.
    !٢ . چند پیسے دیکر خبر دبا دینے کو کہنا.
    یہ کہاں تک سہی ہے، کہاں تک غلط، اسکا اچّھا اندازہ بیشک آپ میڈیا والوں کو ہی ہوگا، چنکی آپ کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ اسسے سابقہ پڑتا ہوگا- مگر 27 نومبر کو پا پولر فرنٹ آف انڈیا والوں نے جو رام للہ میدان میں کانفرنس کرایا ہے،اس ناچیز کی نظر میں اسے ساری میڈیا گروپ نے کور تو کیا ہوگا، مگر چند ایک کو چھوڑ کر سبھی برقی اور پرنٹ میڈیا نے اسکے اشاعت اور دکھانے سے کنارہ کشی اختیار کی ہیں، ایسا میرا دعوا تو نہیں مگر اشارہ ضرور ہے. بتاتا چلوں کہ میرا تعلق کسی سیاسی تنظیم سے نہیں ہے، ہاں سچچی اچچھی اور معیاری خبر سبھی کو پسند آتی ہیں

    جاوید اختر
    جامعہ نگار،
    نئی دہلی-٢٥.
    #9313007131

    Reply
  • November 21, 2011 at 5:12 pm
    Permalink

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ   

    Reply
  • November 5, 2011 at 6:14 am
    Permalink

    مسلمان ترقی سے دور کیوں؟

    محمد. رفیق چوہان (ایڈووکیٹ)

    مسلمان ترقی سے دور کیوں؟ آج یہ سوال صرف مسلم دانشوروں میں ہی نہیں بلکہ غیر مسلم دانشوروں میں بھی كوتهل کا موضوع بنا ہوا ہے. اس کی وجہ سے عام مسلم ملک کی مین اسٹریم سے كٹتا اور ٹھگا سا محسوس کر رہا ہے. جس کے ثبوت ملک اور سماج کے لئے آنے والے وقت میں مہلک ثابت ہو سکتے ہیں. دانشوروں کا ماننا ہے کہ ملک کی تقسیم کے بعد مسلمانوں کا سیاسی اور اقتصادی سوبا چھنبھن ہو جانے کے بعد ان کو سمبھلنے والا کوئی نہیں رہا. ملک کی موجدا سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کر کے بعد اس طرح بےسهارا چھوڑتی رہی. جس طرح آدمی عام چسكر بعد میں گٹھلي کو پھینک دیتا ہے. ایسے میں جہاں بھی ان کو کچھ سہارا اور اسرا ملا اسی کو اس نے اپنا اشيانا سمجھ لیا. لیکن وہ بھی بعد میں بے — وپھا ثابت ہوا.
    رہی سہی کسر کچھ ایسے مسلم سیاستدانوں نے پوری کر دی. جو آج تک مسلمانوں کے نام پر ملائی تو کھانے میں لگے ہوئے. جبکہ حقیقت سے وہ اور ان کی پارٹیاں بھلی بھاںت پرچت ہیں. ایسے میں انہوں نے کبھی بھی موجدا اور تتكالن حکومتوں سے مسلمانوں کی بہتری کے لئے منصوبہ بندی پر زور نہیں دیا. وہ صرف نا چاہ کر اجتك اردو کو ملک میں اس کا اصلی مقام دلانے کی لڑائی تو دکھاوے طور پر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں لڑتے رہے. تاکہ مسلمانوں کو حماقت بنایا رکھا جائے. اس مقصد وہ کتنے کامیاب ہوئے وہ اور خود مسلم اچھی طرح سے جانتے ہیں. “آخر دل کو بہلانا ، غالب خیال اچھا ہے”
    دوسری طرف ہمارے دینی رهنماو نے ضرور اردو کو بچائے رکھنے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھی. لیکن انہوں نے سیاسی کو زندگی کا ایک غیر ضروری سوبا سمجھ کر عام مسلم کو اس سے دور کر دیا. جس کی وجہ سے ملک کا مسلم کمیونٹی ملک کی مین اسٹریم سے دن پر دن دور ہوتا چلا گیا. وہ صرف مسجد اور مدرسوں میں الجھكر رہ گیا. دینی رهنماو کی ان كوششو نے مسلم معاشرے کو صرف سماجی زندگی اور قرآن — اے — پاکستان تک کی تعلیم تک ہی محدود کر دیا. نتائج پرہیزگار عام مسلم دینی تعلیم تو کچھ حد تک حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا. لیکن زندگی کے دیگر سوبو میں پچھڑ گیا اور ملک کی ترقی کی مین اسٹریم سے کٹ گیا اور یہی وجہ ہے کہ آج مسلم نوجوان روزگار کی تلاش کرتے — کرتے ایسے دلدل میں پھنسا جا رہا ہے. جس کا آخری مقام ملک کی جےلے بنتی جا رہی ہیں. لیکن ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے اگر مسلم کمیونٹی آج بھی تعلیم ، تنظیم اور جدوجہد کے ستر کو اپنا لے ، تو دن دور نہیں ہوگا ، جب وہ اپنی ساکھ ، عزت اور رتبہ پھر سے حاصل کرنے میں كاياب نہ ہو.
    ——————————–

    Reply
  • November 5, 2011 at 6:10 am
    Permalink

    मुसलमान विकास से दूर क्यों ?

    मो. रफीक चौहान (एडवोकेट)

    मुसलमान विकास से दूर क्यों ? आज यह प्रश्न केवल मुस्लिम बुद्धिजीवियों में ही नहीं अपितु गैर मुस्लिम बुद्धिजीवियों में भी कौतुहल का विषय बना हुआ है। इसके कारण आम मुस्लिम देश की मुख्यधारा से कटता और ठगा सा महसूस कर रहा है। जिसके प्रमाण देश और समाज के लिए आने वाले समय में घातक सिद्ध हो सकते है। बुद्धिजीवियों का मानना है कि देश के विभाजन के बाद मुसलमानों का राजनीतिक और आर्थिक सोबा छिनभिन हो जाने के बाद उनको सम्भलने वाला कोई नहीं रहा। देश की मौजुदा राजनीतिक पार्टियां मुसलमानों को मात्र वोट बैंक के रुप में प्रयोग कर के बाद इस तरह बेसहारा छोड़ती रही। जिस प्रकार आदमी आम चुसकर बाद में गुठली को फैंक देता है। ऐसे में जहां भी उनको कुछ सहारा और आसरा मिला उसी को उसने अपना आशियाना समझ लिया। लेकिन वो भी बाद में बे-वफा साबित हुआ।
    रही सही कसर कुछ ऐसे मुस्लिम राजनेताओं ने पुरी कर दी। जो आज तक मुसलमानों के नाम पर मलाई तो खाने में लगे हुए। जबकि वास्तविकता से वो और उनकी पार्टियां भली भांति परिचत हैं। ऐसे में उन्होंने कभी भी मौजुदा और तत्कालिन सरकारों से मुसलमानों की बेहतरी के लिए योजना बनाने पर जोर नहीं दिया। वो केवल ना चाहकर आजतक उर्दू को देश में उसका वास्तविक स्थान दिलाने की लड़ाई तो दिखावे तौर पर संसद और विधानसभाओं में लड़ते रहे। ताकि मुसलमानों को बेवकूफ बनाया रखा जाए। इस उद्देश्य वे कितने सफल हुए वो और खुद मुस्लिम अच्छी तरह से जानते हैं। “आखिर दिल को बहलाना, गालिब ख्याल अच्छा है”
    दूसरी ओर हमारे दीनी रहनुमाओं ने अवश्य उर्दू को बचाए रखने के लिए अपनी जद्दोजहद जारी रखी। लेकिन उन्होंने राजनीतिक को जिन्दगी का एक अनावश्यक सोबा समझ कर आम मुस्लिम को उससे दूर कर दिया। जिसके कारण देश का मुस्लिम समुदाय देश की मुख्यधारा से दिन पर दिन दूर होता चला गया। वह केवल मस्जिद और मदरसों में उलझकर रह गया। दीनी रहनुमाओं की इन कौशिशओं ने मुस्लिम समाज को केवल समाजिक जीवन और कुरआन-ए-पाक तक की शिक्षा तक ही सीमित कर दिया। परिणाम स्वरुप आम मुस्लिम दीनी तालीम तो कुछ हद तक हासिल करने में कामयाब हो गया । लेकिन जिन्दगी के अन्य सोबों में पिछड़ गया और देश के विकास की मुख्यधारा से कट गया और यही कारण है कि आज मुस्लिम युवक रोजगार की तलाश करते-करते ऐसे दलदल में फंसता जा रहा है। जिसका आखरी मुकाम देश की जेलें बनती जा रही हैं। लेकिन अभी भी कुछ नहीं बिगड़ा है यदि मुस्लिम समुदाय आज भी शिक्षा, संगठन और संघर्ष के सुत्र को अपना ले, तो दिन दूर नहीं होगा, जब वह अपनी साख, इज्जत और रुतबा फिर से हासिल करने में कायाब न हो।
    ——————————–

    Reply
  • October 30, 2011 at 7:06 pm
    Permalink

    دینی و سیاسی رهنماو کو مل کر کام کرنا چاہئے

    محمد. رفیق چوہان (ایڈووکیٹ)
    چیف پردیش کنوینر
    ہریانہ مسلم خدمت سبھا

    آج ملک میں مسلمان سب سے بڑا اقلیتی برادری ہونے کے باوجد سیاسی سوبے میں هاسيے پر ہے. لیکن ایسی صورت حال صرف مسلمانوں کی سیاست ہی میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر سوبے میں ہے چاہے وہ تعلیم کا ہو یا پھر ماسري. مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ صرف دینی رهنماو کی بات سنتا ہے. اگر ایسے میں دینی رہنما سیاسی رهنماو کے ساتھ مل کر اپنی دینی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ هجرے پاک حضرت محمد سللاهو وللےوسلم کے نكشے قدم پر چلتے ہوئے دینی اور سیاسی جممداريو کو ادا کیے. تو وہ دن دور نہیں کہ مسلمان کو اپنا کھویا ہوا ووكار دوبارہ سے حاصل نہ ہو. اس کے لئے ضروری ہے دونوں تبكو میں آپسی تال میل.

    آج جبکہ ملک کی آبادی کا تقریبا 20 فیصد حصہ مسلم آبادی کا ہے. اس لحاظ سے ملک کے ہر سوبے میں اسی تناسب سے مسلمانوں کی حصہ داری ہونی چاہئے. ملک کی اسمبلی جلسوں اور لوک سبھا میں آبادی کے تناسب میں برابر کی حصہ داری ہونی چاہئے. سرکاری ملازمتوں اور انتظامی عملے میں بھی آبادی کے تناسب میں بھاگےداري ہونی چاہئے. لیکن جو نہیں ہیں. اس کی وجہ صاف اور سیدھا ہے کہ مسلمانوں کا دینی تعلیم کی توقع ملک میں رائج جدید تعلیم سیاسی اور اقتصادی سوبے میں کم رجاهن. اس کے لئے اگر دینی رہنما پہل کریں اور سیاسی رهماو سے تال میل بٹھا کر قوم کے موجدا مستكبل کے بارے میں غور و پھكر کرکے کوئی ایک ایسا راستہ نکالیں. جس سے دینی سوبے کے ساتھ مسلمانوں کو دنياوي تعلیم ، سیاسی اور ماسري سوبے میں بھی خود كپھيل بنایا جا سکے.

    مسلمانوں کو اپنی ووٹ کی طاقت کا احساس کراکر ان میں اتنی سمجھ پیدا کی جائے ، کہ جهمريت میں ستا پر قابض ہونے کے لئے اپنے آپ کو منظم کرنا نہایت ضروری ہے. اگر کوئی کمیونٹی اپنے آپ کو اس کابل یا كپھل بنا لیتا ہے کہ وہ ووٹ کی طاقت پر خود ستا حاصل کر لے. اگر ایسا نہیں کر پاتا تو دوسرے کو ستا میں لانے اور روکنے کا کام کر سکتا ہے. تو یہ لاجيم ہو جاتا ہے کہ ایسے سیاسی جماعتیں خود بخود خود اس کی اہمیت کو سمجھ کر اس کی حصہ داری کو تسلیم کئے بےگر نہیں رہ سکتے. ایسی صورت میں مسلمانوں کا دونوں حالات میں فائدہ ہی فائدہ ہے. ایسے میں مسلمانوں کو ہر سوبے میں ترقی ہونا لازمی ہے. اس لیے موجدا حالات کے مد — نظر مسلمانوں کے مستكبل کو بہتر بنانے کی لئے دینی اور سیاسی رهنماو کو مل کر اور باہمی سجھبجھ کے ساتھ کام کرنا چاہئے. تاکہ مسلمانوں کی آبادی کو ووٹ کی طاقت میں تبدیل کیا جا سکے. ایسا ہونے پر آج جو مسلمان اپنے آپ کو اپنے ہی ملک بیگانہ سمجھ رہا ہے. اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ وہ اپنے ملک میں بیگانہ نہیں بلکہ حقیقی حصہ دار ہے.
    ——————–

    Reply
  • October 9, 2011 at 11:24 pm
    Permalink

    چوتھے دنیا قابل مبارک باد کام انجام دے رہی ہے تمام قارئین اردو اس کی شکر گزار ہیں کی اس نے اردو تحریک کے قائد شمیم احمد کے عزائم کو انٹرویو کی شکل میں شائع کیا

    Reply
  • September 16, 2011 at 11:46 pm
    Permalink

    Muslims are divided in three group in India. First group of Muslim so rich and educated and this group does not bother about the rest of two groups Middle Class and lowest Class. Middle class of Muslims are fighting and struggling for the rights as well as rising their status in societies and progress but lower class Muslims are under the influence of the religious leader, They left their life on …the God. They are illiterate and they do not want to change their life. They believe blindly on the God. Because the religious leader says, you are live in this world on the mercy of the God. Without the direction of the God, No single leaf move here and there. I also believe this idea, but I also believed in hard work and those Muslims understand the both views. They would achieve both worlds i.e. Jannat and present life in the world. But those Muslims are running behind the Jannat and ignoring the present life in the world, they always living in miserable conditions

    Reply
  • August 28, 2011 at 4:01 pm
    Permalink

    !مکرمی
    آج کے ہر اخباروں نے جس طرح سرورق پر اپنے اپنے سرخیاں لگایں، سب یہی کہ رہے ہیں کی یہ اننا کی جیت ہے یر سرکار کی ہار ہے-
    محترمی ، ایسا کہنا شاید سہی نہیں ہوگا، چنکی یہ کوئی جنگ نہیں اور نہ ہی رام لیلا میدان کوئی جنگے میدان تھا ، جو اننا اور انکے حامی جیت گئے بلکی ہار جیت کی بات نہیں ہے یہ، اسے بھی زیادہ ایک ام رے بن جانے کی تحریک کی بات ہے. می سمجھتا ہوں نہ کوئی ہارا ، نہ جیتا، ہاں صرف جیتا گیا اور جیتے ہم سبھی، جسمے سرکار بھی شامل ہے. یہ جیت صرف عوام کی نہیں بلکےیکتا کی ، اکھندتا کی اور یہ کے ایک وشواس کی جیت ہی ہے. ایسے میں ہمے صرف قا نون بنانے کی ہی نہیں بلکی اسے بھی کہی زیادہ خود شخسی طور پر اماندر ہونے کی زیادہ ضرورت ہے. ہمے اپنے گریبان مے جھانکنے کی ضرورت ہے کے آیا ہم کتنے ایماندار اور پاک صاف ہیں. اگر ہم رشوت دینا چھوڈ دن تو رشوت لیگا کون. بس ہمیں خود کے ذہن و دل سے بےایمانی دور کرنی چاہے، پھر جب ہم پہلے اپنے گھروں سے یہ نیک کام کا آغاز کردیں تو پھر اسکے لئے ہمیں آج خود سے ہی وعدہ لینا ہوگا اور خود کو دے ہوئے وعدے سے مکرنا نہیں ہوگا. تو وو دیں دور نہیں جب ایک مہزب اور پاک صاف معاشرہ کی تشکیل ہو پیگی بلکی ہمی جینے کا انداز بھی مل جایگا-

    Reply
  • August 15, 2011 at 1:34 pm
    Permalink

    دنگوں کا دیش – بھارت
    !مکرمی

    ماہانہ ہندی مگزیں “قومی فرمان” اگست ٢٠١١ میں جناب رام پنیانی کا مضمون “دنگوں کا دیش اسس بات کی عکّاسی کرتا ہے کے بعد آزادی چھوٹے بڑے اور چھت پت معملات والے، اس ہندوستان نے لگ بھگ ٥٠ ہزار دنگو کی مار کو جھیلے ہے جسمے اپنوں کے ہی خون بہے ہیں غیروں کا کچھ نہیں بگدا ہے. کہنے کو یکتا اکھندتا اور دنیا کا سبسے بڑا جمہوری اور سیکولر ملک کو کسی کی نہیں بلکے خود ہماری نظر لگ گی ہی ہے. ہم جتنے پڑھ لکھ گئے ہیں اتنے ہو نسلی، مسلکی و مذہبی امتیازی سلوک کے جاتے ہیں. ہم ایک طرف تو چند اور مریخ پر جانے اور بسنے کی بات کرتے ہیں دوسری طرف ہم اپنو کے دل مے مے بھی نہیں بس پے ہیں. یا جگہ نہیں بنا پے ہیں. کدوی سچچآیی یہ بھی ہے کے ہند کی تاریخ میں بدی آزادی سیاست کی بگ ڈوڈ لاشوں پر ہی سمبھالی گی ہے. ہر قصہ کرسی کا ہے ہر کھل ستا کا ہے. ہم کہاں آزاد کل انگریز ہم پر قابض تھے اور آج کمنل سوچ. اور سچ تو یہ ہے کے انگریز کی تھورے پھوٹ ڈالو اور راج کرو، بس یہی سیکھا ہے سیاسی ہے تنظیموں نے. فرق صرف اتنا ہے کل ہم انگریزوں کے ہتھے چڑھے تھے اور آج سیاستدانو کے یا ان بھگوا تنظیموں کے جو منہ پر رام رام کا نارا اور بغل میں چھری لئے پھرتے ہیں. ہمیں شرم آنی چاہے کے جوں جوں ہم تعلیم یافتہ ہو رہر ہیں توں توں ہم جاہلانہ رسمو رواج اور حرکتو سکنات کرتے ہیں. ہمارے پاس کہنے کو سب کچھ تو ہے مگر بھی چارگی، یکتا، اکھندتا، ایک دوجے کے لئے دل میں عزت و پاس، اور یہ کے ذہنی سکون و آرام نہیں ہے ہمارے پاس. اور ان سب کے ہم خود زممدار ہیں. نہ کے کوئی اور.
    لگ بھگ ٨٠٠ دنگے ہر سال (تناسب کے لحاظ سے) بعد آزادی ابتک ٦٢ سالوں میں ٥٠ ہزار دنگوں کا ہونا یہی ثبوت فراہم کرتا ہے کے واقعی بھارت دنگوں کا دیش ہے نہ کے آستھاؤں کا دیش، بھکتوں کا دیش، علموں کا دیش، صوفیوں کا دیش، سنتوں کا دیش، اور سب سے بڑھ کر “ہمارا دیش”

    جاوید اختر ، راشد جامہ نگر
    نی دہلی
    #9313007131

    Reply
  • July 27, 2011 at 5:39 pm
    Permalink

    जकात, फितरा व सदका
    हमारे देश में लगभग 18 से 20 करोड़ मुस्लमानों की आबादी है और हर साल गरीब हो या अमीर, वो ईद की नमाज अदा करने से पहले अढ़ाई किलो गेंहू के बराबर का पैसा बतौर फितरे के रुप में और ऐसे लोगों को अदा करता है जो कभी उसका हिसाब उन लोगों को नहीं देते जिनसे उन्होंने फितरा व जकात के रुप में पैसा उगाया है। किसी को कोई पता नहीं कि यह रकम कहां खर्च होती है। इसका इस्तमाल जायज कामों पर खर्च किया जाता है या नाजायज काम पर। जिसका आकलन अरबों रुपयों में है। इसलिए हरियाणा मुस्लिम खिदमत सभा का विचार है कि इस रकम के लिए एक ऐसा कोष बनाया जाए। जो इस्लामिक शरीयत के अनुसार उन लोगों पर खर्च किया जाए। जो इसके असली हकदार हैं। इसलिए हरियाणा मुस्लिम खिदमत सभा का विचार है कि जकात, फितरा व सदका का एक ऐसा कोष स्थापित किया जाए। जिसमें जकात, फितरा व सदका इक्ठा किया जाए और असली जरुरतमंद और इस्लामिक शरीयत के अनुसार इसका प्रयोग किया जाए। बरा-ए-मेहरबानी अपने विचार निम्नलिखित ईमेल पर लिखें। या अधिक जानकारी के लिए निम्न नम्बरों पर सम्पर्क करें।
    Mohd. Rafiq Chauhan
    State Chief co-ordinator
    Haryana Muslim Khidmat Sabha
    Mob: +91-9416097234, +91-9729258554
    Email: 786hmks@gmail.com

    Reply
  • July 26, 2011 at 9:04 am
    Permalink

    محترم.چوتھی دنیا میں وقف کے مطلق سلمان خورشید کی کونگرسس نوازی کو جن کر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے.میدان حشر میں بھی یہ کونگرسس ساتھ ہونگے .یہ سبھی پارٹی نوزوں کا فرض ہو گیا ہے کے وہ پڑتی کے مفادات کا مرنے تک ساتھ دیں.سیاست کا کم ہی جھوٹ فریب دھوکے بازی ہے.خان حسرت موہانی .ابولکلام آزاد اور کہاں یہ آج کے مسلمان لیڈر جو مسلمان کم اور سیاست دن زیادہ..مسلم اوم کو یہ سمجھنا ہے.کے حکومت اب نوابوں اور بادشاہوں کی نہیں ہے.وقف کی زیادہ تر زمینیں اب حکومت وکٹ کی جائیداد سمجھی جارہی ہے.وگرنہ اس کا فائدہ کسی کو نہیں.چاہے وہ پڑے پڑے برباد ہو.صرف چند اقربا پرور لوگ اس کو لوٹا رہے ہیں..نہ تو قانونی ادارے کچھ کہتے ہیں .ملک میں تراققی ہوئی تو تعلیم کا حق مل قیا .مگر واقف کی جائیداد کا فیصلہ کبھی نہیں ہو سکتا کیوں کا اس سے مسلمان کا مثلا حل ہو سکتا ہے.حکومت جمہورے ہے اس لئے صرف مسلمانوں کے مسلے حل کرکے اپنے خرچے کون بڑھائی.سو کتاب بند ہے اور ہمیشہ کے لئے بند رہیگی.ہے آر تی ای کے ذرے کچھ حق مل سکتے آهن مگر اس کے لئے نوجوان تبکے کو آگے آنا ہوگا..

    Reply
  • July 25, 2011 at 11:14 pm
    Permalink

    چوتھی دنیا مگزینے یکایک پڑھنے کا اتفاق ہوا.اور اسے خریدنا پڑا.چمکیلے پاپڑ پر چوتھی دنیا ایک اچّھا اخبار ہے.تو کے دور میں اخبار نکلنا بدی ہمّت کا کم ہے.پاکستان کے جاگیرداران نظام پر مضمون پڑھا.یہ کیا ستم ہے کے پاکستان میں اب بھی ووہی نظام چل رہا ہے.جو دنیا سے کب کا ختم ہو گیا ہے.کڑھ پاکستان کا بھلا کرے.آج وہ ملک تررقی پر آ گئے جو کبھی پچدے تھے.اب پاکستان کے کھآنی لکھنے والے منشی پریم چن…نہیں.پاکستان قیمت تک نہیں سدھار سکتا.دنیا کا سب سے بدنصیب ملک پاکستان ہے..اور اس کی وجیہ وہاں کا فدل سیسٹم ہے…..

    Reply
  • June 29, 2011 at 10:23 pm
    Permalink

    mian to Sirf Dr. Waseem Rashid kI wajeh se Urdu Chouthi Duniya Ko janta hoon، aur unke hone se Chouthi Duniya ko allah aur Tarqqi Se nwaze،، urdu padhne walon ke liye yeh bahut bada kam hai،،

    Reply
  • June 25, 2011 at 12:34 am
    Permalink

    First of all I would like to thank Editor and CHAUTHI DUNYA TEAM that they are attempting to make better and better.I study every page of CHAUTHI DUNYA،because this weekly paper comes at my house by ASFAR FARIDY.
    This is a good paper.

    Reply
  • June 20, 2011 at 11:10 pm
    Permalink

    اردو کی ترویج اور اشاعت کے لئے اردو صحافیوں نے جو کوششیں کے ہیں وہ ناقابل تحریر ہیں .اردو اخبارات اور تے ٹی وی والے badi janfashani karte ہیں
    نیپال میں اردو کی taraqi کے لئے koi khas kam nahen huwa tha lekin اب جاکر نیپال سے اردو زبان میں ایک ہفت روزہ اخبار نکلتا ہے اس میں صحافیوں سے گزارش ہے کہ اپنے مضامین دیکر نیپال سے نکلنے والے اخبار کی رمق کو زندہ رکھیں /

    محمّد ہارون انصاری
    ایڈیٹر
    صداۓ عام اردو نیوز پپر
    جنکپور دھناشا نیپال

    Reply
  • June 19, 2011 at 7:12 pm
    Permalink

    ایسے۔۔۔۔http://nawaiadab.com/khurram/?p=1883

    Reply
  • June 19, 2011 at 7:11 pm
    Permalink

    اگر آپ اپنی ویب پر” جمیل نوری نستعلیق فانٹ ڈال دیں۔تو پڑھنا آسان ہوجایے گا۔یہ فری دستیاب ہے۔۔ “

    Reply
  • June 2, 2011 at 1:08 pm
    Permalink

    چوتھی دنیا اپنے ہر نیے شمارے کے ساتھ بہتر ہوتا جا رہا ہے ، مبارکباد اور نیک تمننائیں

    Reply
  • April 18, 2011 at 8:58 pm
    Permalink

    dakTr asad فیز اسلام آباد pakstan

    Reply
  • April 18, 2011 at 8:56 pm
    Permalink

    میں نے اسے بہت دلچسپ پایا. میں اس کی لیے اپنی چیزیں کیسے بھجواسکتا وں

    Reply
  • April 16, 2011 at 5:56 pm
    Permalink

    ہی، ہیللو، اسسلام علیکم

    ا ام وروس ریڈر وف یور نوسپپر چوتھی دنیا… ا لوو

    پلیسے دو لٹ مے کنوو اس ٹہرے انے سپکے فور اس تو ورتے وٹہ چوتھی دنیا؟؟

    ریگرڈس

    ساجد حسسیں

    Unbowed انافرید جورنلسٹ

    Pakistan

    Reply
  • April 7, 2011 at 4:35 pm
    Permalink

    نی دہلی. 07 نومبر 2011
    جماعت اسلامی ہند کے سرگرم اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق جنرل سیکرٹری جناب مولانا شفی مونس صاھب کی موت پر گہرے دکھ اور رنجو غم کا اظھار کرتے ہوئے انصاف مورچہ دہلی کے کنوینر سیّد کمال اشرف نے مولانا کی موت کو ایک سانحہ بتاتے ہوئے کہا کی جو خلا پیدا ہو گیا ہے اسے پر کرنا مشکل ہے-
    وہ آج ابل فضل ، اکھلا میں تعزیتی نشست مے کہ رہے تھے .
    کمال اشرف نے مزید کہا کی ہمیں مولانا کی عملی زندگی سے سیکھ لینی چاہے اور انکے لئے دعا ے مغفرت بھی کی.
    منیٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جناب عبدل وحید نے بھی اپنے تاثرات پیش کے.
    اس تعزیتی میٹنگ میں جناب جامد اختر، سیید معراج اشرف تبریز ، جاوید اختر ، محمد حامد خان، محمّد عامر جعفری، وغیرہ شامل تھے.

    تحریر کردہ:
    سید کمال اشرف، کنوینر
    E -mail : skamalashraf@yahoo.in
    mobile : 09871434990

    Reply
  • February 23, 2011 at 12:20 pm
    Permalink

    موکامے حیرت ہے کیا کہوں سنتوش بھارتی صاحب اور ان کی ٹیم کو بہت مبارک ہو.
    سعید جاوید

    Reply
  • February 6, 2011 at 3:51 pm
    Permalink

    خاص طور پر مجھے آپ کے اخبار میں ٹورانٹو سے لکھنے والی عفاف اظہر کے کالم بہت پسند ہیں

    Reply
  • February 3, 2011 at 11:42 am
    Permalink

    ابھی تازہ شمارے میں جناب نعمان شوق کا مقالہ پڑھا . نہایت جراتمندانہ انداز میں انہوں نے اردو شیری کی نے میلانات پر گفتگو کی ہے .در اصل ہمارے سینئر شاعر حضرت ادبی سیاست میں اسقدر ملوث ہو گے ہیں کہ انہیں ایمانداری سے لکھنے اور بولنے سے در لگنے لگا ہے .گوپی چند نارنگ کیچاپلوسی سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے . ندا فاضلی ، شین کاف نظام ، شہریار وغیرہ پچھلے دس برسوں سے کیا لکھ رہی ہیں جب قاری کو ان کا ایک بھی تازہ شعر یاد نہیں .
    سفیان اختر

    Reply
  • January 15, 2011 at 12:39 am
    Permalink

    آپ کا اخبار chauthi دنیا حقیقت میں ایک تحریک ہیں
    مگر یہ اخبار ممبئی میں نہیں مل رہا ہے آپ سے گزارش ہے یہا بھی دستیاب کرایے
    شکریہ
    salim ممبئی .

    Reply
  • December 25, 2010 at 11:53 pm
    Permalink

    ایک خبر کی تلاش میں آپ کی ’’چوتھی دنیا‘‘دیکھنے کا اتفاق ہوا،آپ کی اس قابل تحسین کاوش کے لیے شاید میری رائے کو ئی معنی نہ رکھے،لیکن شاید یہ رائے میرے جذبات کی کسی حد تک ترجمانی کر سکے۔
    ایک معروف عالم دین مولانا مرغوب رحمن کی وفات کی خبر بالاخر آپ کی اس دنیا سے مل ہی گئی،اس سے میرا جہاں بہت سا وقت بچا وہاں میری بہت سی محنت بھی محفوظ رہی۔اس کے لیے اپ کی دنیا کا بے حد شکریہ
    محمد بلا ل اکرم کاشمیری
    اعزازی لکھاری ’’ماہنامہ گلوبل سائنس‘‘کراچی
    لاہور پاکستان

    Reply
  • December 23, 2010 at 1:29 am
    Permalink

    چوتھی دنیا ممبئی مے دستیاب نہیں ہے .لہذا اسے دستیاب کراے.
    شکریہ.

    Reply
  • November 26, 2010 at 4:50 pm
    Permalink

    نی دہلی. ٢٦ نومبر ٢٠١٠
    بہار اسمبلی انتخابات میں جنتا دل یونایٹڈ کی رکارڈ ٹوڈ کامیابی پر انصاف مورچہ دہلی کے کنوینر سیّد کمال اشرف نے بھار کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے پریس بیان میں کہا کی یہ کامیابی پارٹی کے سربراہ عالی جناب نتیش کمار جی کی ایمانداری ، محنت ، لگن اور بھار کی ترقی کا نتیجہ ہے.
    انہوں نے کہا کی دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے جھوٹے وعدوں سے عاجز ہوکر بہار کے عوام نے جس دانشمندی، حکمت عملی کا ثبوت دیا وو قابل تعریف ہے.
    کمال اشرف نے مزید کہا کی صاھب پور کمال اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوئی موحترم پروین امانوللہ کو وزارت مے شامل کئےجانے سے بہار ہی نہیں، بلکی انکی کاوشوں سے پورا بہار ترقی کریگا.

    تحریر کردہ:
    سید کمال اشرف، کنوینر
    E -mail : skamalashraf@yahoo.in
    mobile : 09871434990

    Reply
  • November 4, 2010 at 6:01 pm
    Permalink

    ایک نظم ” سوال ”
    ………………………………………..

    وہی حالات، وہی بات پیچھا کرتا ہے میرا
    جس سے بھاگتا ہوں میں،
    ہاں وہی گیت ،وہی غزل
    جس سے جو جھتا ہوں میں .
    آخر کیا ہوگا میرا؟
    یہ خودی سے پوچھتا ہوں میں
    آخر کیوں جھگڑتا ہوں میں؟
    آخر کیوں لڑتا ہوں میں؟
    یہ جیون کا کیسا پاٹھہ ہے
    جسے نہ چاہتے ہوئے بھی پڑھتا ہوں میں
    جسکا پھل میں بھی نہ کھا سکوں،
    آخر، کیوں ایسے بیج بوتا ہوں میں ؟
    سب کچھ کرتے ہوئے بھی
    کچھ نہیں کرتا ہوں میں،
    نہ سوتا ہوں، اور نہ جاگتا ہوں میں
    آخر کیا کیا کرتا ہوں میں؟
    کوئی پاپ جو کیا تھا پچھلے جنم میں میں نے
    شاید، اسی کا جرمانہ بھرتا ہوں میں،
    ………………………..
    ………………………
    نہ جیتا ہوں اور نہ ہی مر تا ہوں میں
    آخر کیا ہے کام میرا اس جگ میں
    تنگ آکے ، مرجھا کے
    سب سے جیت کے
    ، خود سے ہار کے
    یہی سوال دہراتا ہوں میں،
    کہ آخر کیا کھوتا ہوں، اور کیا پا تا ہوں میں
    کہ ، کیوں زندگی سے دور بھاگتا ہوں میں؟
    ==============================================

    * جاوید اختر ، راشد

    #9313007131

    Reply
  • November 4, 2010 at 1:16 pm
    Permalink

    Your comment is awaiting moderation.
    ایک نظم ” سوال ”
    ………………………………………..
    وہی حالات، وہی بات پیچھا کرتا ہے میرا
    جس سے بھاگتا ہوں میں،
    ہاں وہی گیت ،وہی غزل
    جس سے جو جھتا ہوں میں .
    آخر کیا ہوگا میرا؟
    یہ خودی سے پوچھتا ہوں میں
    آخر کیوں جھگڑتا ہوں میں؟
    آخر کیوں لڑتا ہوں میں؟
    یہ جیون کا کیسا پاٹھہ ہے جسے نہ چاہتے ہوئے بھی پڑھتا ہوں میں.
    جسکا پھل میں بھی نہ کھا سکوں،
    آخر، کیوں ایسے بیج بوتا ہوں میں ؟
    سب کچھ کرتے ہوئے بھی
    کچھ نہیں کرتا ہوں میں،
    نہ سوتا ہوں، اور نہ جاگتا ہوں میں
    آخر کیا کیا کرتا ہوں میں؟
    کوئی پاپ جو کیا تھا پچھلے جنم میں میں نے
    شاید، اسی کا جرمانہ بھرتا ہوں میں،
    ………………………..
    ………………………
    نہ جیتا ہوں اور نہ ہی مر تا ہوں میں
    آخر کیا ہے کام میرا اس جگ میں
    تنگ آکے ، مرجھا کے سب سے جیت کے ، خود سے ہار کے
    یہی سوال دہراتا ہوں میں،
    کہ آخر کیا کھوتا ہوں، اور کیا پا تا ہوں میں
    کہ ، کیوں زندگی سے دور بھاگتا ہوں میں؟
    * جاوید اختر ، راشد.
    #9313007131

    Reply
  • November 1, 2010 at 5:37 am
    Permalink

    اب تو مسلم کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے .تحریر عفاف اظہر کینیڈا
    واہ ایک بہت ہی شاندار اور بھرپور مضمون ہے . مضمون نویس کے قلم میں کمال کی کاٹ اور تحریر بلا کی خوبصورت ہے

    Reply
  • October 7, 2010 at 2:48 pm
    Permalink

    چوتھی دنیا ایک بہت ہی ادبی اور سماجی قسم کا اخبار ہے . آپ کی ٹیم کی محنت اور لگن نے اسے ممتاز بنا ڈالا ہے . لکھاری بہت اچھے ہیں خاص طور پر مجھے آپ کے اخبار میں ٹورانٹو سے لکھنے والی عفاف اظہر کے کالم بہت پسند ہیں . ہر کالم منفرد اور دلنشیں ہوتا ہے .

    Reply
  • September 10, 2010 at 4:36 pm
    Permalink

    ایک غزل پیش خدمت ہے،
    تصحیح کے ساتھ شایع ضرور کریں

    شکریہ
    جاوید اختر
    9313007131

    Reply
  • September 4, 2010 at 7:50 pm
    Permalink

    اڈیٹر جی
    آپ کا اخبار ماشا الله سے بہت خوب ہے . ہر ہفتے انتظار رہتا ہے . آپ کے قلمکار بہت اچھے ہیں خاص کر عفاف اظہر کینیڈا سے بہت غضب کی قلمکار ہیں . ہر مضمون بے مثال ہوتا ہے . انداز بیان اتنا اچھا کہ جتنی دفعہ بھی پڑھو اچھا ہی لگتا ہے .
    ثمینہ اگروال
    جھارکھنڈ

    Reply
  • August 26, 2010 at 5:19 am
    Permalink

    آپ کی اخبار بہت اچھی ہے پڑھ کر لطف آ جاتا ہے . خاص طور پر ٹورانٹو سے عفاف اظہر صاحبہ کے کالمز تو کمال کے ہیں اس نوجوانی کی عمر میں قلم کی مہارت لکھائی میں غضب کی روانی دل نشین انداز بیان کے ساتھ سوچ کی پختگی بہت کم نظر اتی ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے .
    سکھ جیت سنگھ
    چندی گھڑھ

    Reply
  • August 22, 2010 at 12:33 am
    Permalink

    موحترم سنتوش بھارتیہ و وسیم رشید صاحبان
    تسلیمات
    یوں تو صحافت سے تعلّق ہونے کی وجہ سے بھارتیہ صاحب سے واقف تھا ان کے مضامین اور چوتھی دنیا کے حوالے سے/ اور جب چوتھی دنیا اردو کا ویب ایڈیشن دیکھا تون کے ساتھ ساتھ آپ اور آپ کے صحافتی کارناموں کو بھی قریب سے دیکھنے کو ملا یقینن صحافت اور اردو کے سلسلے میں آپ لوگوں کی کاوش تعریف کے لایق ہے یوں تو اردو کے لئے زبانی جما خرچ سبھی کرتے ہیں لیکن اسے عملی جامہ آپ جیسے باہمّت اور بے لوث لوگ ہی پہنا سکتے ہیں. میری جانب سے اور تمام اردو برادری کی جانب سے آپ کی پوری ٹیم کو دل کی گہرایوں سے موباراکباد –
    غفران ساجد قاسمی
    ریاض-سعودی عربی

    Reply
  • August 11, 2010 at 1:31 pm
    Permalink

    نگار عظیم صاحبہ آج کی لکھک ہیں ، جو لکھتی ہیں خوب لکھتی ہیں،
    میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، انکے صاحبزادے حسن عظیم فیسبوک پر میرے دوست ہیں، انہونے وعدہ کیا ہے .
    دیکھئے کب سعادت حا صل ہوتی ہے .
    نیک خواھشات کے ساتھہ .
    جاوید اختر ، نئی دہلی .
    #9313007131

    Reply
  • July 25, 2010 at 12:29 am
    Permalink

    آداب /تسلیمات
    سنتوش بھارتیہ صاحب و وسیم راشد صاحبہ
    اس دنیا کو اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تووہ بی باک صحافت کی ،جس کے ذریعہ ہی کچح بدلاءو آسکتا ہی ۔ یہ بات صرف ہمارے ملک ہندوستان ہی تک محدود نہیں پورے عالم پر لاگو ہو تی ہے
    اس کا کما حقہ کردار چوتھی دنیا ادا کرسکتا ہی۔اسی امید کہ ساتھ آپ دونوں اور تمام عملہ کو مبارکباد دیتا ہوں
    کہ آپ کا اخبار ضرور انقلاب لاءےگا۔

    ڈاکٹر طیب خرادی
    بنگلور کرناٹک

    Reply
  • July 4, 2010 at 7:28 pm
    Permalink

    مہتر،ہ وسیم راشد صحبہ
    میرے مضمون کی اشاعت کا شکریہ – آپکا اداریہ معلوماتی ہی – آ ر تی آ ای کا کالم مفید ہی – 

    Reply
  • June 23, 2010 at 4:59 pm
    Permalink

    !congratulation کی آپ نے چوتھی دنیا کا اردوکا پہلا شمارہ بھی نکا لا ہے.
    نظر نواز ہوا ہے، ہر اعتبار سے قا یل تعریف ہے.
    شکریہ!
    اک بار پھر مبارکباد.
    شکریہ !
    جاوید اختر ،دی – ٢٥٠ ، ابل فضل ینکلاوے، جامہ نگر ، ا کھلا ، نی دہلی-
    E mail: jawed.ma@gmail.com
    #9313007131.

    Reply
  • June 15, 2010 at 5:58 pm
    Permalink

    nai duniya urdu k inaugral issue k liye ek bachcho ki nazm KOEAL fax kardi hai . ummeed hai pasand farmayenge.
    congratulation کی آپ چوتھی دنیا کا اردو بھی نکلنے جارہے ہیں ، اک بار پھر مبارکباد . congratulation

    شکریہ !
    جاوید اختر ،دی – ٢٥٠ ، ابل فضل ینکلاوے، جامہ نگر ، ا کھلا ، نی دہلی-
    E mail: jawed.ma@gmail.com
    #9313007131.

    Reply
  • June 15, 2010 at 5:19 pm
    Permalink

    congratulation کی آپ چوتھی دنیا کا اردو بھی نکلنے جارہے ہیں ، اک بار پھر مبارکباد .
    شکریہ !
    جاوید اختر ،دی – ٢٥٠ ، ابل فضل ینکلاوے، جامہ نگر ، ا کھلا ، نی دہلی-٢٥.

    Reply
  • June 7, 2010 at 6:32 pm
    Permalink

    شنتوش بھارتی جی آداب

    پہلی بارمکمل اخبار

    جس دور میں متفقہ طور پر اردو اخبارات و رسائل کی نشر واشاعت کو گھاٹے کا سودا قرار دیا جا چکا ہو ایسے میں آپ کی یہ جرات مندی قابل تحسین ہے یقینا یہ کام آپ جیسے پرعزم اور حوصلہ مند حضرات کا ہی ہے جنہوں نے اردو صحافت کو یہ مرتبہ عطا کیا ہے کہ وہ اپنی موجودگی کا احساس کرا رہی ہے ۔چوتھی دنیا کے انٹر نیٹ ایڈیشن کے مطالعے کے بعد پھر کسی اخبار کے مطالعے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی یہی اس کی خاص خوبی اور امتیاز ہے جودوسرے اردو اخبارات کو حاصل نہیں اس کی وجہ کچھ بھی بیان کی جائے ۔ اردو قارئیں کو شاید پہلی بارمکمل اخبار نصیب ہو رہا ہے۔ آپ کی پوری ٹیم کو مبارکباد ۔

    اشرف علی بستوی
    سب اڈیٹر“ سہ روزہ دعوت دہلی“
    Cont: 09891568632
    E-mail: ashrafbastavi@gmail.com

    Reply
  • June 2, 2010 at 5:12 pm
    Permalink

    وسیم راشدصاحبہ
    آپ کو چوتھی دنیا مبارک
    آج جب اردو والے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر اردو اور اردو والوں کیا ہوگا،کیوں کہ دیکھا جائے تو متعدد زبانیں جو ریاستی سطح کی ہیں کم سے کم ان ریاستوں میں وہ زبانیں مضبوط ہیں ، جیسے مہاراشٹر میں ، مراٹھی ، اتر پردیش میں ہندی ، بہار میں ہندی ، ایسے ہی مختلف ریاستوں میں مختلف زبانیں ، مگر اردو کو کہیں بھی یہ حیثیت حاصل نہیں ہے ۔
    اکثر اردو والوں کو بڑی ہی نیچی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، میں جس کمپنی سے جڑا ہوا ہوں وہاں اردو کا بھی شعبہ ہے، مگر جو مقام دوسرے لوگوں کو میسر ہے ، اردو والوں کو اس سے کوسوں دور رکھا گیا ہے ۔ یعنی ہمشیہ اردو اور اردو والوں کے ساتھ نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ اردو والے ہی نا انصافی کرتے ہیں۔
    ایسے دور میں” چوتھی دنیا “کا اردو ایڈیشن اپنے آپ میں ایسے لوگوں کیلئے ایک مثال ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی باب کا حصہ ہے ۔جو اردو کے نام پر ڈکٹیٹر شپ کا حصہ بن چکے ہیں ۔جن کے اندر ” میں “ ہی سب کچھ ، کا لفظ گھر کر گیا ہے ۔
    محترمہ ایسے میں آپ کی قیادت مزید اس کو چار چاند لگائے گی ۔ ہمیں قوی امید ہے آپ اردو اور اردو والوں کے ساتھ منصفانہ رویہ رکھیں گیں۔ اللہ تعالی آپ کو اور آپ کے اخبار کو مزید ترقی عطا کرے ۔
    آمین

    Reply
  • May 2, 2010 at 4:34 pm
    Permalink

    ’‘چوتھی دنیا“ کے ہم اردو والے شکر گزار ہیں کہ اس نے اردو کا ایک نیا باب کھول کر تاریخی کام انجام دیا ہے۔اردو جیسی پیاری اور میٹھی زبان ایسی ہے کہ اس پر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جائے، کیونکہ اردو کے خلاف کچھ کم ظرفوں نے بہت نا انصافی کی ہے۔جس کو کھلی نظریات نے دیکھا سمجھا اور محسوس کیااور ”چوتھی دنیا“ اردو کے حساس ترین دوستوں میں ایک ایک ہے۔ ایک بار پھر جب اردو کی تاریخ رقم کی جائے گی تو مورخ ”چوتھی دنیا “کو فراموش نہیں کر سکے گا۔
    میں مبارکباد پیش کرتا ہوں تمام چوتھی دنیا کے اراکین ومنتظمین اور متعلقین کو اس عظیم قدم پر۔

    خیر اندیش :مطیع الرحمن عزیز

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *