آپ کی رائے

84 thoughts on “آپ کی رائے

  • April 3, 2015 at 12:20 pm
    Permalink

    محترمہ ایڈیٹر صاحبہ!
    السلام علیکم
    بلا شبہ ہندوستان اور پوری دنیا میں اردو بولنے والے اور اردو سے پیار کرنے والوں کیلئے تازہ ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہورہا ہے امید ہے کہ آپ کی ادارت میں یہ ادب کے افق پر چمکتا ستارہ “چوتھی دنیا “اردو کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کر ے گا
    اگر میں آپ کو اپنے مضامین اور کالم ارسال کروں تو کیا آپ شائع کریں گے
    اگر جواب ہاں میں ہو تو ضرور رابطہ فرمائیں شکریہ
    سید قمر احمد سبزواری
    چیف ایڈیٹر
    ماہنامہ سبیل ہدایت لاہور

    Reply
  • February 19, 2015 at 11:18 pm
    Permalink

    جناب اگر آپ لوگ سیاست کے ساتھ ساتھ کچھ انٹرٹیمنٹ کے لیے افسانہ اور ناول زیادہ سے زیادہ شائع کریں تو بہترہوگا کیونکے آج ہراخبار کے فرنٹ پہچ پرخون میں لت پت کسی معصوم مرچکا ہے یاآئے روز بمب بلاسٹ اور قتل غارات گری کے داستان ہراخبار کے زیب زنیت بنے ہوئے ہیں ،لوگوں کو پڑھنے کے لیے کچھ زہنی سکون حاصل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کیجئے تو بہترہوگا ،شکریہ خلیل ساجن کوئٹہ بلوچستان

    Reply
  • December 2, 2013 at 4:10 pm
    Permalink

    محترمہ
    جب میں کافی دیر تک یہ سوچتا رھا کے اب جب میں اردو زبان و ادب کی طرف دیکھ رھا ھون تو مجے کچھ وں لائن سائٹس کی تلاش بھی رھی اور جستجو میں بھی لگا رھا کے شاید میرے مقدر میں بھی اردو کی کوی وں لائن سائٹ ھو تبھی چوتھی دنیا کی طرف دیکھا اور یقین جانے کتنا خوش ھوا کے سبھی مسلمان دوستوں کو بھی کھا کے بھای ھماری اردو زبان بھی ترقی پزیر ھے کیوں کے اس نے بھی زمانہ سے مقابلہ کے لے کمر کس لی ھے۔ میں تو یہ نھیں کھ سکتا کے میں ادیب ھوں لیکن اتنا ضرور کھونگا کے انگریزی میں لکھ کر اب چکا تھا اور خواھش بھی تھی کے اردو زبان کی خدمت کی جاے اس لے حال ھی میں اردو ٹایپنگ سیکھا ھے جسکا اندازہ اس تحریر سے بھی ھو جایگا۔ بھرحال بھوت خوش ھوں کے اپکا یہ ریسالہ کا مستقبل کافی روشن ھے اور اللہ کی مرضی ھمارے ساتھ رھی تو یہ اپکا رےسالہ علمی شھرت حاصل کر چکا ھے اور مزید اسکی ترقی ھوگی۔

    افروز اشرفی
    اسہسیٹ پروفیسر اف انگلش
    سلمان بین عبدل اعزیز یونیورسیٹی
    سعودی عرب

    Reply
  • December 2, 2013 at 3:52 pm
    Permalink

    چوتھی دنیا نے دھوم مچا رکھی ھے۔ ادب کی دھوم ھے۔ بھوت شکر گزار ھوں کے اپکا یہ رےسالہ انتھای کارامد ،مفید اور قابل تحسین ھے۔ مئجھ جے قاری کے لے انتھای ضروری۔ ئردئ مضامین اون لاین نھیں ملتے ھیں لیکن اپکی یہ کاوش کی تعریف ھونی چھاے۔ اگر ھم کو اپنی زبان زندہ رکھنی ھے تو اسے اج کے تقازوں کے مد مقابل کھڈا ھونا ھوگا اور اپکی یہ کوشش خوش ایند
    ھے۔ بھوت شکریہ

    افروز اشرفی
    اسوسیاٹ پروفےسر اف انگلش
    سلمان بن عبدل عزیز انیورسیٹی
    سعودی عرب

    Reply
  • November 26, 2013 at 11:50 pm
    Permalink

    Chauthi dunya tamam اراکین قابل مبارک bad ہے…..

    Reply
  • August 7, 2013 at 8:19 am
    Permalink

    موحترم آداب،
    کچھ ارسا پہلے میں نے ایک مضمون بھیجا تھا جس کا عنوان تھا ‘ ڈوگری زبان پر عربی اور فارسی کے اثرات’- براہ کرم یہ باتیں کے کیا وہ شامل-ا اشا’ات ہوا؟. خھیر اندیش بلراج بکشی

    Reply
  • July 19, 2013 at 12:46 pm
    Permalink

    اسسلام علیکم ماشا الله منے اس اخبار کا مطالہ کیا اور منے اس اخبار دوسرے اخباروں سے الگ پایا اس کے اندر ہر ہر نکات پر بحث کی جاتی ہے اور الحمدلللہ ہمارے علم کے اندر معلومات کے اندر کافی اضافہ ہوتا ہے میں
    اپنے دل سے ان کے چلانے والوں کو مبارکباد دیتا ہوں اور دوا کرتا ہوں اللہ ان کو جزا؛ے خیر دے امین

    عبدا لعلیم خان
    متعلم جامہ ہمدرد نی دہلی

    Reply
  • July 16, 2013 at 9:22 pm
    Permalink

    (رمضان آیا)

    بچوں ماھ صیام ہے آیا
    خوشیوں کا پیام ہے لایا

    افطار، تراویح، سحری و نماز
    ساتھ میں سب کچھ ہے یہ لیا

    یوں تو عربی کے بارہ مہینے
    مگر رمضان کے ہیں کیا کہنے

    جلد از جلد تم بڑے ہو جاؤ
    روزہ کے، افطار کے مزے اٹھاؤ

    ابھی تلک تم بہت چھوٹے ہو
    ابھی تو تم صرف جم کر کھاؤ

    رمضان کا مطلب صرف حرکت ہے
    ماھ رمضان میں بہت برکت ہے

    رمضان میں ہوتے ہیں تین عشرے
    رحمت، مغفرت اور نجات کے

    آخری عشرے کی اپنی اہمیت
    شب قدر کی تم جانو حقیقت

    آواخر کی ہیں جو طاق راتیں
    کرو تم اسمیں الله سے باتیں

    سوچو، سمجھو یہ دیکھو بھالو
    بچوں روزے کی تم عادت ڈالو

    بچوں دیکھو رمضان ہے آیا
    خوشیوں ک پیغام ہے لایا
    ……………………………………………………………………………………………
    جاوید اختر
    جامعہ نگر
    نی دہلی-25
    #9313007131

    Reply
  • June 23, 2013 at 10:23 am
    Permalink

    پلز سند مے ور ای میل ایڈریس ا ول سند اردو آرٹیکلز فرام پاکستان

    Reply
  • June 2, 2013 at 10:10 pm
    Permalink

    آپ نے می ٢٥کا اخبار. اپنے سائٹ پر ١. جوں کی تاریخ پرشاے کر دیا ہے – ٹھیک کر لیں اور ١ جوں کا شمارہ اپنے سائٹ پر پوسٹ کریں – مہربانی ہو گے – خیر ان desh امتیاز

    Reply
  • June 2, 2013 at 10:07 pm
    Permalink

    آپ نے می ٢٥کا اخبار. اپنے سائٹ پر ١. جوں کی تاریخ پرشاے کر دیا ہے – ٹھیک کر لیں اور ١ جوں کا شمارہ اپنے سائٹ پر پوسٹ کریں – مہربانی ہو گے – خیر ان دیش امتیاز

    Reply
  • May 8, 2013 at 12:50 pm
    Permalink

    ا وولد لکے تو سبکربے یور ، ہو کن ؟
    پلیز ادوسد

    Reply
  • April 24, 2013 at 5:12 pm
    Permalink

    محترم سنتوش بھارتی ووسیم ارشد صاحبان آداب وتسلیمات
    کچھ عرصہ قبل آپ کی چوتھی دنیا (اردو کی پہلی دنیا) کو کسی اردو کے مضمون کی تلاش میں پا لیا، جو کچھ پڑھا اس سے ذہن میں ایک بہت اچھا خاکہ بنا کہ آج بھی اردو کی خدمت کرنے میں آپ جیسے لوگ بڑی دلچسپی اور جانفشانی سے لگے ہوئے ہیں۔
    یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو کو ترقی دینے میں جن خوش نصیبوں قسمت آزمائی کی ہے وہ دوہری مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ اس زبان کو ہمارے بھولے دوستوں نے اس کی شوکت کو تاراج کرنے کے لیے کبھی دخیل زبان کی تہمت لگائی تو کبھی اس میں مذہب کا رنگ ڈالنے کی کوشش کی، حالانکہ یہ خوبی اس زبان کی آپنی ذاتی ہے، جو کسی بڑے ادارے یا حکومت کی سر پرستی کے بغیر ذاتی ترقی پر رواں دواں ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اس کو ہندوستان کے کونے کونے میں بے حد مقبولیت ہوئی اور غیر منقسم ہندوستان کے ہر چہار جانب اس میں بڑے بڑے ادیب اور شاعروں نے اپنی فکر کی اس میں کاشت کی اور اردو کی چھتری تلے اپنے نرم وگرم جذبات کا اظہار کیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری وساری ہے۔
    شکریہ
    سید سلمان
    مقیم حال جدہ سعودی عرب
    زمزم سوسائٹی فار والنٹری ہلتھ سروس

    Reply
  • April 15, 2013 at 3:05 pm
    Permalink

    موہترمی
    آپ کا یپپر اچھا لگا
    کیا اس کی ہارڈ کوپیس بھی ملتی ہیں
    شکریہ
    آصف
    پاکستان

    Reply
  • November 6, 2012 at 7:35 pm
    Permalink

    ،مکرمی
    بچوں کے چچا نہرو کا جنم معروف سیاستدان اور مجاہد آزادی موتی لال نہرو کے یہاں ہوتا ہے- انھیں بچوںسے بہت پیار تھا، لہذا 14 نومبر (1889 ) کو انکی یوم پیدائش کو بل دواس کے طور پر منایا جاتا ہے- وہ ا علی تعلم کی غرض سے ولایت جاتے ہیں، اور لوٹ کٹ جنگ آزادی سے جد جاتے ہیں- اور اس طرح وہ آزاد ہندستان کے پہلے وزیر آزم چنے جاتے ہیں- انہوں نے دیش کے لئے بہت سارے کام سرے انجام دے، اور ایک کامیاب وزیر ازم بھی ثابت ہوئے- یہ اور بات ہے کے انکے بعد انکی صاحبزادی اندرا گاندھی، نواسہ راجیو گاندھی، اور آج بھی نہرو خاندان ہی دیش کی باگ دور سمبھالے ہوئے ہے، جو قابل دید ہے- ویسے چچا نہرو گاندھی جی سے بہت متاثر تھے، لہذا ملکر بھارت آزاد بھی کرا لیا تھا- جواہر لال نہرو کے نام سے ہسپتال، یونیورسٹی، سڑک اور دیگر کی سرکاری اسکیمیں نہایت ہی کامیابی کے ساتھ چل رہی ہیں. اسمیں سبسے اہم اور آج بال دوس کے مد نظر بات کی جائے تو، انکی مستقبل کے لئے تعلیم جو سبسے اہم رول ادا کرتا ہے، ایسے میں نجوھر نوودے ودیالیہ پورے دیش میں نہایت ہی خوبی سے انی خدمات انجام دے رہا ہے- جو بچے ہیں، تو تعلم ہے، تعلیم ہے، تو مستقبل ہے. شاید جواہر لال نہرو سچ مچ بچوں سے محبّت رکھتے تھے جو جواہر نوودےجیسے اسکیم کو دیا گیا- آج وہ ہمارے درمیاں نہیں ہیں، مگر انکے خدمات اور کرامت ہمیشہ ہمارا ساتھ ڈینگی.

    Reply
  • October 13, 2012 at 2:28 pm
    Permalink

    پہلی بار چوتھی دنیا پڑھنے کا اتفاق ہوا. بدی خوشی ہی ک جو لوگ اردو پر اپنا دو پیش کرتے ہیں وہ صرف سرکاری گرانٹ ہی کھاتے ہیں.اردو کے ایماندار خادم اور سرپرست آپ جیسے لوگ ہیں. شکریہ

    Reply
  • September 7, 2012 at 10:21 am
    Permalink

    سلام
    میں ایک تخلیق کار سائنٹسٹ ہوں قوم کو کھربوں کا فائدہ دے سکتا ہوں
    آرمی نے مجھے کمیشن آفر کی تھی مگر میں بیماری کی وجہ سے نہ جا سکا تھا
    پیر نصیر آف گولڑہ میرے استاد تھے اور کئی خطوط میں انہوں نے مجھے میرے سائنسی کام پر سراہا اب میں جاب لس ہوں اور حکومت نوٹس نہیں لے رہی جبکہ میں خود کو عبدالقدیر خان سے کم نہیں سمجھتا دعا فرمائیں
    شکریہ

    Reply
  • August 19, 2012 at 1:36 pm
    Permalink

    عید ہے آیی

    بچچوں دیکھو عید ہے آیی
    ساتھ میں کتنی خوشی ہے لایی

    تم بھی آؤ، میں بھی آؤں
    ملکر ساتھ میں عید منایں

    آؤ آؤ جشن مانیں
    ملکر ساتھ میں گیت یہ گایں

    گیت یہ گایں ہم سب ملکر
    شکر الله کا بجا لاییں

    اممی، ابّو ، بھییا، باجی
    سب دیتے ہے ہمکو عیدی

    یدی پاکر کھایں ٹافی
    ٹافی ہم دوستوں میں بانٹیں

    ہر سو ہے جشن کی باتیں
    جشن کہ دیں ہیں، جشن کی راتیں

    عید کے دیں ہم ایک ہو جاہیں
    جیسے بھی ہوں رشتے ناتے

    سوئی، قورمہ کے اپنے مزے ہیں
    تھالی آج ان سب سے سجے ہیں

    گلی، محلے، جھولے والے
    سب کوئی آج یہاں آے ہیں

    عید ہے انکا، رمضان تھا جن کا
    جسنے رمضان کے روزے رکھے

    مگر عید تو ہمارا بھی ہے
    ہم تو ٹھہرے چھوٹے بچے

    حقیقت یہ بھی سچ مانو
    غریبوں، مسکینوں کا حق جانو

    سنو بچوں یہ عید کا مطلب
    ‘خوشی وہ جو سب ملکر مناؤ
    ………………………………………………..

    جاوید اختر
    جامعہ نگار،
    نئی دہلی-٢٥.
    #9313007131

    Reply
  • August 14, 2012 at 10:16 pm
    Permalink

    یوم آزادی آیا ہے

    یوم آزادی آیا ہے، خوشیاں یہ ساتھ میں لایا ہے
    ہم سب ہیں اب آزاد یہاں، دل کو یہ بات بہت بھایا ہے

    تم بھی کہو، میں بھی کہوں، آؤ مل کر ہم سب کہیں
    دیش ایک بار پھر یہ ہمارا پرچم بن کے لہرایا ہے

    گاندھی کی ڈانڈی، آزاد کی فریاد، وہ حمید و اشفاق کی شہادت
    سب ملکر جب یہ تحریک بنا، تب جاکر آزادی پایا ہے

    تم اسکو غنیمت ہی جانو، جو ہو سکے اسکی قیمت مانو
    سب ملکر جشن مناتے ہیں، کون اپنا، کون پرایا ہے

    ہمیں ساتھ میں ملکر جینا ہے، ہمیں ساتھ میں ملکر رہنا ہے
    گو تب سے ہیں ہم ایک یہاں، جب سے ترنگا اپنایا ہے

    آؤ یہ قسم ہم لیتے ہیں، “جو جام شہادت پیتے ہیں
    ان جیسا ہم بھی کر جائیں، گر دیش پہ آنچ کوئی آیا ہے
    ……………………………………………………………………………………………
    جاوید اختر
    جامعہ نگر
    نی دہلی-25
    #9313007131

    Reply
  • August 9, 2012 at 6:56 pm
    Permalink

    (رمضان آیا)

    بچوں ماھ صیام ہے آیا
    خوشیوں کا پیام ہے لایا

    افطار، تراویح، سحری و نماز
    ساتھ میں سب کچھ ہے یہ لیا

    یوں تو عربی کے بارہ مہینے
    مگر رمضان کے ہیں کیا کہنے

    جلد از جلد تم بڑے ہو جاؤ
    روزہ کے، افطار کے مزے اٹھاؤ

    ابھی تلک تم بہت چھوٹے ہو
    ابھی تو تم صرف جم کر کھاؤ

    رمضان کا مطلب صرف حرکت ہے
    ماھ رمضان میں بہت برکت ہے

    رمضان میں ہوتے ہیں تین عشرے
    رحمت، مغفرت اور نجات کے

    آخری عشرے کی اپنی اہمیت
    شب قدر کی تم جانو حقیقت

    آواخر کی ہیں جو طاق راتیں
    کرو تم اسمیں الله سے باتیں

    سوچو، سمجھو یہ دیکھو بھالو
    بچوں روزے کی تم عادت ڈالو

    بچوں دیکھو رمضان ہے آیا
    خوشیوں ک پیغام ہے لایا

    ……………………………………………………………………………………………

    جاوید اختر
    جامعہ نگر
    نی دہلی-25
    #9313007131

    Reply
  • July 23, 2012 at 3:22 pm
    Permalink

    سر .سونتوش اور مادام وسیم ارشاد میں پاکستان میں ایک ردو نوس چننیل کی ساتھ کم کر تا وں ،آپ کو ملوم ہی کی پاکستان میں کتنی منگی اے ،میں رمضان میں بھارت حکومت کی جانب سی جو ریت دی گی اے کی ہوالی سی بات کرنا اے مولب آپ کا بیپر لینا تھا اگر آپ اپنا موبل نمبر مجہے ا-میل کر دن تو میں آپ کو call کر لوں ،اصل میں ام قیمتوں کا مواجنا کر نہ کوا روی ہن ،
    شکیل احمد
    رپورٹر
    ایف . ایم ریڈیو
    ایبٹ آباد .پاکستان

    Reply
  • July 23, 2012 at 8:54 am
    Permalink

    ‎(رمضان آیا)

    بچوںماہ صیام ہے آیا
    خوشیوں کا پیام ہے لایا

    افطار، تراویح، سحری و نماز
    ساتھ میں سب کچھ ہے یہ لا یا

    یوں تو عربی کے بارہ مہینے
    مگر رمضان کے ہیں کیا کہنے

    جلد از جلد تم بڑے ہو جاؤ
    روزہ کے، افطار کے مزے اٹھاؤ

    ابھی تلک تم بہت چھوٹے ہو
    ابھی تو تم صرف جم کر کھاؤ

    رمضان کا مطلب صرف حرکت ہے
    ماھ رمضان میں بہت برکت ہے

    رمضان میں ہوتے ہیں تین عشرے
    رحمت، برکت اور مغفرت کے

    آخری عشرے کی اپنی اہمیت
    شب قدر کی تم جانو حقیقت

    آواخر کی ہیں جو طاق راتیں
    کرو تم اسمیں الله سے باتیں

    سوچو، سمجھو یہ دیکھو بھالو
    بچوں روزے کی تم عادت ڈالو

    بچوں دیکھو رمضان ہے آیا
    خوشیوں کا پیغام ہے لایا

    ……………………………………………………………………………..
    جاوید اختر
    جامعہ نگر
    نی دہلی-25
    #9313007131

    Reply
  • July 23, 2012 at 8:52 am
    Permalink

    ‎(رمضان آیا)

    بچوںماہ صیام ہے آیا
    خوشیوں کا پیام ہے لایا

    افطار، تراویح، سحری و نماز
    ساتھ میں سب کچھ ہے یہ لیا

    یوں تو عربی کے بارہ مہینے
    مگر رمضان کے ہیں کیا کہنے

    جلد از جلد تم بڑے ہو جاؤ
    روزہ کے، افطار کے مزے اٹھاؤ

    ابھی تلک تم بہت چھوٹے ہو
    ابھی تو تم صرف جم کر کھاؤ

    رمضان کا مطلب صرف حرکت ہے
    ماھ رمضان میں بہت برکت ہے

    رمضان میں ہوتے ہیں تین عشرے
    رحمت، برکت اور مغفرت کے

    آخری عشرے کی اپنی اہمیت
    شب قدر کی تم جانو حقیقت

    آواخر کی ہیں جو طاق راتیں
    کرو تم اسمیں الله سے باتیں

    سوچو، سمجھو یہ دیکھو بھالو
    بچوں روزے کی تم عادت ڈالو

    بچوں دیکھو رمضان ہے آیا
    خوشیوں کا پیغام ہے لایا

    ……………………………………………………………………………..
    جاوید اختر
    جامعہ نگر
    نی دہلی-25
    #9313007131

    Reply
  • July 23, 2012 at 8:52 am
    Permalink

    ‎(رمضان آیا)

    بچوںماہ صیام ہے آیا
    خوشیوں ک پیام ہے لایا

    افطار، تراویح، سحری و نماز
    ساتھ میں سب کچھ ہے یہ لیا

    یوں تو عربی کے بارہ مہینے
    مگر رمضان کے ہیں کیا کہنے

    جلد از جلد تم بڑے ہو جاؤ
    روزہ کے، افطار کے مزے اٹھاؤ

    ابھی تلک تم بہت چھوٹے ہو
    ابھی تو تم صرف جم کر کھاؤ

    رمضان کا مطلب صرف حرکت ہے
    ماھ رمضان میں بہت برکت ہے

    رمضان میں ہوتے ہیں تین عشرے
    رحمت، برکت اور مغفرت کے

    آخری عشرے کی اپنی اہمیت
    شب قدر کی تم جانو حقیقت

    آواخر کی ہیں جو طاق راتیں
    کرو تم اسمیں الله سے باتیں

    سوچو، سمجھو یہ دیکھو بھالو
    بچوں روزے کی تم عادت ڈالو

    بچوں دیکھو رمضان ہے آیا
    خوشیوں ک پیغام ہے لایا

    ……………………………………………………………………………..
    جاوید اختر
    جامعہ نگر
    نی دہلی-25
    #9313007131

    Reply
  • July 22, 2012 at 4:09 pm
    Permalink

    (رمضان آیا)

    بچوں دیکھو رمضان ہے آیا
    خوشیوں ک پیغام ہے لایا

    افطار، تراویح، سحری و نماز
    ساتھ میں سب کچھ ہے یہ لیا

    یوں تو عربی کے بارہ مہینے
    مگر رمضان کے ہیں کیا کہنے

    جلد از جلد تم بڑے ہو جاؤ
    روزہ کے، افطار کے مزے اٹھاؤ

    ابھی تلک تم بہت چھوٹے ہو
    ابھی تو تم صرف جم کر کھاؤ

    رمضان کا مطلب صرف حرکت ہے
    ماھ رمضان میں بہت برکت ہے

    رمضان میں ہوتے ہیں تین عشرے
    رحمت، برکت اور مغفرت کے

    آخری عشرے کی اپنی اہمیت
    شب قدر کی تم جانو حقیقت

    آواخر کی ہیں جو طاق راتیں
    کرو تم اسمیں الله سے باتیں

    سوچو، سمجھو یہ دیکھو بھالو
    بچوں روزے کی تم عادت ڈالو

    بچوں دیکھو رمضان ہے آیا
    خوشیوں ک پیغام ہے لایا

    جاوید اختر
    جامعہ نگر
    نی دہلی-25
    #9313007131

    Reply
  • June 27, 2012 at 4:49 am
    Permalink

    موحترم جناب سنتوش بھارتی صاحب آداب
    آپ نے بھوت اچّھی کوشش کے ہے چوتھی دنیا اخبار اردو مے نکالکر مے یہ کوشش کرونگا ک یہ آپکا اخبار رات و رات ترقی کے منزلیں تے کرے ،آپ کو شاید یاد ہو میری ملاقات آپ سے وزیر علیٰ دہلی موحترما شیلا دکشت صہبا کے گھر پر ہوئ تھی رات کے کھانے پر، شہباز علم باروی (پونے

    Reply
  • April 26, 2012 at 10:25 pm
    Permalink

    سلام
    آج پہلی بار اپ کی ستے دیکھنے کا اتفاق ہوا یقین جاننے بدی مسّرت ہی اپ ہر لہٰذ سے قبل مبارک بعد ہیں

    Reply
  • April 11, 2012 at 3:02 am
    Permalink

    جناب اپکی ویب سائٹ پر ایک مضمون اردو میں شایع ہوا ہے جس میں لتا منگیشکر نے اپنے تاثرات کا اظہار مرحوم مجروح سلطانپوری پر کیا ہے۔
    کیا آپ بتا سکتے ہین کہ یہ مضمون انگریزی میں لکھا گیا تھا یا ہندی دیو ناگری میں۔ اور اگر ایسا تھا تو اس کو اردو میں کس نے منتقل کیا ہے۔ کیونکہ یہ ہم جانتے ہیں کہ لتا کو اردو نستعلیق لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔

    شکریہ۔ مخلص۔ سید محسن نقوی
    پرنسٹن، نیو جرسی
    یو ایس اے۔ ۱۰ اپریل ۲۰۱۲

    Reply
  • April 7, 2012 at 4:23 pm
    Permalink

    آپ کا اخبار بہت اچھا ہے
    رانا فاروق طاہر پاکستان چوتھی دنیا اپنے ہر نیے شمارے کے ساتھ بہتر ہوتا جا رہا ہے ، مبارکباد اور نیک تمننائیں

    Reply
  • April 7, 2012 at 4:21 pm
    Permalink

    آپ کا اخبار بہت اچھا ہے
    رانا فاروق طاہر پاکستان

    Reply
  • March 8, 2012 at 7:14 pm
    Permalink

    !مکرمی

    یوں تو سیاست کی اپنی ایک الگ دنیا ہے، مگر اس دنیا کے لوگ بھی عجب ہوتے ہیں، ابھی کل یو پی الیکشن اور اسکے نتایج کا ا علان حیران کن ثابت ہوا ہے- وہیں ادھر دہلی کے پیش نظر بات کریں تو ایم -سی – دی چناؤ اپنا جلوہ بکھیرنے جارہا ہے. اس تناظر میں اوکھلا علاقہ بعض کیی نقطے نظر سے عوام میں عام و خاص طور پر مقبول ہے. جناب، میرا کسی سیاسی پارٹے سے کوئی ناتا نہیں ہے مگر ایک اچھا امیدوار (ہر کسی سیاسی سطح پر) آگے آے اور لایا جائے ، کی تایید کرتا ہوں، اور یہی ہونا بھی چاہیے. – مگر ایسے میں اسی اوکھلا سے علاقہ کے پیشے نظر ہی بات کی جائے تو میں حیران کن بات (میری نظر میں) عرض کرنا چاہتا ہوں جیسا کے تو میں نے سنا ہے ایل – 18 (بٹلہ ہاؤس ) پر بھی سیاست گرم ہوا چاہتا ہے- انکی زندگی تو مذاق بن کر ہی رہ گیی ہے- جو جیل کی ہوا کھا رہی ہیں. مگر انکے نام ووٹ اور سیاست کی تاریخ رقم کرنے کی جو کوشش یہاں کے (اوکھلا) لوگ (سیاست داں حضرات) جو کرنے جارہے ہیں، یہی ثابت کرتا ہے کے واقیی سیاست ایک گندی شے کا نام ہے. جسطرح کے امیدوار میدان میں اتارے جارہے ہیں، اسطرح غلط امیدوار ہوجاتے ہیں، تو ہمیں اس طرف غور کرنا چاہے. یہ تو کسی کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا ہوا – ہمیں تو سیاست کی دنیا کو اک مہذب اور پاک saaf کرنا ہوگا اور وقت کا یہی تقاضا ہے.

    جاوید اختر
    جا میا نگر، نیی دہلی

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *