آصف کا دل اب ارجن انبانیا کے سینے میں دھڑک رہا ہے

Share Article

gujrat-heart-transplant-1گجرات کی تاریخ میں ہندو مسلم اتحاد کی ایک اور انوکھی مثال اس وقت قائم ہوئی ، جب مسلم نوجوان مرحوم آصف محمد کا دل ارجن انبالیا کے سینے میں ڈھڑکنے لگا۔ گجرات میں پہلی مرتبہ کسی مسلم کنبہ نے اعضا عطیہ کرنے کی ایسی پہل کی ہے ، ورنہ عام طور سے کہا جاتا ہے کہ اسلام میں عضو کا عطیہ جائز نہیں۔
گجرات کے بھاو نگر ضلع کی سہور تحصیل میں ایک 37 سالہ مسلم نو جوان آصف محمد کا 17 دسمبر کو ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ ایکسیڈنٹ کے بعد آصف کو بھاونگر کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے آصف کو برین ڈیڈ قرار دیا ۔
آصف کے اہل خانہ نے ایک انوکھا فیصلہ لیتےہوئے اس اعضا کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آصف کے والد اور بھائی کے مطابق ہمارا لڑکے کا تو ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ، لیکن کسی اور غریب کو اس کی وجہ سے زندگی مل جائے ، اس لئے آصف کے اعضا کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔آصف کے دل کو کسی اور شخص کے جسم میں لگانے کے فیصلے نے آج ایک ہندو شخص کو دوبارہ زندگی دی ہے ۔اس معاملے پر سیمس اسپتال کے ڈاکٹر دھرین شاہ نے بتایا کہ جام نگر کے 49 سالہ مریض کے دل نے کام کرنا بند کردیا تھا ، جس کی وجہ سے گزشتہ پندرہ دنوں سے اس مریض کو سیمس اسپتال میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ ایسے میں اس کی جان پجانے کا صرف ایک ہی ذریعہ تھا کہ اس مریض کا دل تبدیل کردیا جائے۔
بھاونگر کے ڈاکٹر راجندر کابریا کے مطابق آرگن ڈونیٹ کرنے والا ایک مسلم تھا ، یہ ایک ایسا مریض ہے ، جس نے اپنی مرضی سے آرگن ڈونیٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا دل اب ایک ہندو کے سینے میں دھڑکنے لگا، جو قابل تعریف ہے ۔ ڈاکٹر راجندر کابریا کے مطابق برین ڈیڈ آصف کے دل اور دیگر اعضا کو بھاونگر سے احمدآباد لانے میں 82 منٹ کا وقت لگا۔اسے لانے کیلئے بھاونگر اور احمدآباد میں گرین کاریڈوربنایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ بھاونگر میں اسپتال سے ائیر پورٹ تک دل کو لانے میں 06 منٹ22 سیکنڈ کا وقت لگا ، جبکہ اس دل کو چارٹر پلین سے احمدآباد ائیر پورٹ تک لانے میں62 منٹ لگے ۔ ساتھ ہی ساتھ ائیر پورٹ سے احمدآباد کی سیمس اسپتال تک دل کو پہنچانے میں 14 منٹ کا وقت لگا، جبکہ آصف کی کڈنی اور دیگر اعضا کو احمدآباد کے سول اسپتال میں پہنچادیا گیا ۔ ڈاکٹروں کے مطابق دل کو برین ڈیڈ جسم سے نکالنے کے بعد اسے چار گھنٹے کے اندر اندر دوسرے مریض میں ٹرانسپلانٹ کرنا ضروری ہےاور گجرات میں ایسا کرنے میں پہلی مرتبہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کا دعوی ہے کہ اس ہارٹ ٹرانسپلانٹ میں تقریبا پچیس لاکھ کا خرچ ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں گجرات کے مولانا رضوان تارا پوری کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے اعضا سے کسی دوسرے کی جان بچتی ہے ، تو یہ ایک بہت اچھی بات ہے ۔ اگر چہ اس میں پیسوں کا لین دین نہ ہوا ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *