ششی شیکھر
ایک بہت پرانا نسخہ ہے ، جب مسائل بہت بڑھ جائیں تو اصل کی جانب لوٹو۔ آج ملک میں کسانوں کی خود کشی کے بڑھتے واقعات نے صاف کردیا ہے کہ اب اصل کی جانب لوٹنے کا وقت آگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کھیتی تب بھی ہوتی تھی جب جراثیم کش کیمیکل کھاد دستیاب نہیں تھے۔ اس وقت گوبر کسانوں کے لئے بہتر کھا د کا کام کرتا تھا۔ نیم اورہلدی ان کے لئے کارگر جراثیم کش تھے، لیکن بدلتے وقت کے ساتھ جیسے جیسے کیمیکل کھاد کا استعمال بڑھا، کسانوں کی قسمت بھی ان سے روٹھتی چلی گئی۔ لیکن ایک بار پھر کسانوں نے اپنی قسمت بدلنے کا تہیہ کرلیا۔ کھیتی کوسود مند بنانے کے لئے انہوں نے کمر کس لی ہے۔ زراعت کا شعبہ آہستہ آہستہ بڑے انقلاب کی شکل اختیار کرنے لگا ہے۔ یہ انقلاب ہے آرگینک کھیتی کا اور اس انقلاب کے ہیرو ہیں شیخاوٹی کے وہ کسان، جو مرارکا فاؤنڈیشن سے جڑ کر اپنے کھیتوں میں ہرا سونا پیدا کررہے ہیں۔
شیخاوٹی کے جھنجھنو اور سیکر ضلع کے کسان اب اپنے کھیتوں میں کیمیکل کھاد اور پیسٹی سائڈ کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ یہ فاؤنڈیشن کی مسلسل کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ اب اس علاقے کے کسانوں کو قرض لے کر کسی ملٹی نیشنل کمپنی سے کیمیکل کھاد خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ مرارکا فاؤنڈیشن ان کسانوں کو گوبر اور کینچوا سے آرگینک کھاد اور ورمی واش کی شکل میں جراثیم کش بنانے کی ٹریننگ دیتا ہے۔ گائے کا پیشاب، نیم، ہلدی اور لہسن سے ہربل اسپرے بنایا جاتا ہے۔ آرگینک کھیتی آج ان کسانوں کے لئے بیش قیمت انعام ہے۔ فاؤنڈیشن ان کسانوں کے ذریعہ پیدا کردہ آرگینک اناج کے لئے بازار بھی دستیاب کرارہا ہے۔ جس کے نتیجے میں کسانوں کو اپنی پیداوار کے لئے بازار تو مل ہی رہا ہے، ساتھ ہی ان کو اپنی فصل کی مناسب قیمت بھی مل رہی ہے۔
چوتھی دنیا کی ٹیم نے شیخاوٹی کے جھنجھنو اور سیکر اضلاع کا دورہ کرکے کچھ ایسے کسانوں سے بات چیت کی، جو گزشتہ چند سالوں سے آرگینک کھیتی کررہے ہیں۔ چوتھی دنیا ان کسانوں کے تجربات کو ملک کے ان کسانوں کے ساتھ بانٹناچاہتا ہے جو کیمیکل تکنیک سے کھیتی کرنے کے بعد بھی ہر سال نقصان اٹھانے پر مجبور ہیں۔ آرگینک کھیتی کرکے کیسے ہمارے ملک کے کسان خوشحال بن سکتے ہیں، اس کے بارے میں چوتھی دنیا آئندہ شماروں میں بتاتا رہے گا۔ فی الحال اس شمارہ میں پیش ہے آرگینک کھیتی کی کامیابی کی کہانی، کسانوں کی زبانی۔
شنکر لال، بلونت پورہ، جھنجھنو
شنکر بی کام ہیں۔ پشتینی کھیت میں پہلے کیمیکل کھاد کا استعمال کرتے تھے۔ اہم فصل مونگ، باجرا اور سبزی اگانے کے لئے یوریا، ڈی اے پی کا استعمال کرتے تھے۔ شنکر کہتے ہیں کہ کھیت میں ڈالے جانے والے کھاد کی مقدار ہر سال بڑھتی جارہی تھی۔ اس سے پیداوار تو بڑھ جاتی تھی، لیکن خرچ میں بھی اضافہ ہوجاتا تھا زمین کی پیداواری صلاحیت (زرخیزی) بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی جارہی تھی۔ اسی درمیان دو سال پہلے شنکر لال، مرارکا فاؤنڈیشن کے ربط میں آئے اور فاؤنڈیشن سے آرگینک کھیتی کے بارے میں جاننے کے بعد انہوں نے آرگینک کھیتی کرنے کا عزم مصمم کرلیا۔ پہلے سال اپنی ساری زمین میں انہوں نے کیمیکل کھاد کے بجائے ورمی کمپوسٹ استعمال کیا۔ شنکر کہتے ہیں کہ پہلے سال پیداوار میں دس فیصدکی کمی آئی، لیکن دوسرے سال سے پیداوار بڑھ گئی۔ آرگینک کھیتی سے ہونے والی آمدنی کے بارے میں شنکر بتاتے ہیں کہ جب ہم اپنا اناج لے کر منڈی میں جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارا اناج آرگینک تکنیک سے اگایا گیا ہے تو ہمیں فی کوئنٹل دوسو روپے زیادہ ملتے ہیں۔ ویسے ہم اپنی پیداوار کا زیادہ تر حصہ فاؤنڈیشن کے توسط سے ہی فروخت کرتے ہیں۔ شنکر اپنے کھیت میں خاص طور سے دیسی مونگ اور دیسی باجرا پیدا کرتے ہیں۔ شنکر کہتے ہیں کہ دیسی مونگ جب تیار ہونے لگتی ہے تو ہم اس میں سے پکی پھلی توڑ لیتے ہیں۔ اس کے بعد پھر سے اس پیڑ میں نیا پھول آجاتا ہے اوردیسی باجرے کا تنا پندرہ فٹ لمبا ہوتا ہے، جب کہ ہائی بریڈ باجرے کا تنا آٹھ فٹ سے زیادہ نہیں ہوتا ہے۔ زیادہ لمبا تنا ہونے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مویشیوں کے لئے چارہ بھی آسانی سے زیادہ مقدار میں دستیاب ہوجاتا ہے۔
اوم پرکاش، مجھاؤ، جھنجھنو
اوم پرکاش کے پاس 35بیگھے زمین ہے اور وہ اپنی ساری زمین پر آرگینک کھیتی ہی کرتے ہیں ۔ ان کے گھر کے پیچھے پھیلی ہریالی ان کی کامیابی کی گواہ ہے۔ گھر کے پیچھے ہی کینچوے کھاد، ورمی واش اور ہربل اسپرے بنانے کی ایک چھوٹی سی یونٹ ہے۔ اپنے مویشیوں سے حاصل ہونے والے گوبر اور کینچوے سے وہ خود ہی کھاد تیار کرلیتے ہیں۔ نیم، ہلدی اور لہسن ملاکر ہربل اسپرے بنالیتے ہیں۔ گزشتہ چار سالوں سے اوم پرکاش کہتے ہیں کہ کیمیکل کھاد کا استعمال کرنے سے کھیتی کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور آمدنی کم ہوجاتی ہے، جب کہ آرگینک کھیتی کی تکنیک سے کھیتی پر لاگت کم ہوجاتی ہے اورآمدنی بڑھ جاتی ہے۔اوم پرکاش کہتے ہیں کہ جب سے وہ آرگینک کھیتی کررہے ہیں، ان کی سالانہ آمدنی 50 فیصد بڑھ گئی ہے۔
سردار سنگھ، رگھوناتھ پور، جھنجھنو
سردار سنگھ گزشتہ تین سالوں سے آرگینک کھیتی کررہے ہیں۔ سردار سنگھ بھی پہلے اپنے کھیت میںکیمیکل کھاد استعمال کرتے تھے، لیکن فاؤنڈیشن سے آرگینک کھیتی کی تکنیک سیکھنے اور اس کے فائدے سمجھنے کے بعد انہوں نے آرگینک کھیتی کا راستہ اپنا لیا۔ ان کے ٖپاس 40بیگھے زمین ہے۔ شروع میں انہوں نے صرف دس بیگھے زمین پر ہی آرگینک کھیتی کی، کیونکہ انہیں نقصان ہونے کا خدشہ تھا، لیکن ان کا خدشہ جب غلط ثابت ہوا تو اگلے سال سے 40بیگھے زمین پر آرگینک کھیتی  شروع کردی۔ سردار سنگھ کہتے ہیں کہ کیمکل کھاد کے استعمال کے مقابلے اب 40فیصد لاگت کم ہوگئی ہے۔ پیداوار پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ سردار سنگھ بتاتے ہیں کہ پہلے فی بیگھا دو کوئنٹل باجرا ہوتا تھا، اب تین کوئنٹل ہوتا ہے اورمنڈی میں جانے پر ہمارے باجرے کی قیمت بھی زیادہ ملتی ہے۔ سردار سنگھ کی کامیابی دیکھ کر دیگر کسان بھی آرگینک کھیتی کی طرف مائل ہوئے جس کے نتیجے میں آج ان کے گاؤں کے 50-55کسان آرگینک کھیتی کررہے ہیں۔
اوم پرکاش شرما، کولیڈا، سیکر
تعلیم یافتہ کسان اوم پرکاش شرما گزشتہ 11سالوں سے آرگینک کھیتی کررہے ہیں۔ اوم پرکاش بتاتے ہیں کہ شروع سے ہی ان کی دلچسپی کھیتی اورروحانیت میں رہی ۔ مرارکا فاؤنڈیشن کے رابطے میں آنے کے بعد انہوں نے کینچوے سے آرگینک کھاد اور ہربل اسپرے بنانے کی ٹریننگ لی۔ اوم پرکاش آج اپنے علاقے کے کسانوں کے لئے قابل تقلید بن گئے ہیں۔ وہ کھیتی کی ایک اوررسم کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اوم پرکاش کہتے ہیں کہ وہ اپنے کھیتوں میں ہون بھی کرتے ہیں۔ طلوع آفتاب سے قبل اور دن کے کسی خاص وقت میں کچھ خاص منتروں کے ساتھ وہ اپنے کھیتوں کے بیچ ہون کرتے ہیں۔ وہ اسے ویدک کھیتی کا نام دیتے ہیں، کہتے ہیں ہون سے نکلنے والا دھواں کافی اثر انگیز ہوتا ہے اور اس سے کھیت کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے چھٹکارا ملتا ہے۔
کرپال سنگھ، دھائلوںکا باس، جھنجھنو
کرپال سنگھ کے پاس 13بیگھے زمین ہے۔ کرپال نے دسویں تک پڑھائی کی ہے۔ مرارکا فاؤنڈیشن اور محکمہ باغبانی کے ذریعہ دی گئی تربیت کے بعد کرپال نے اپنی 13 بیگھے زمین میں ایک نرسری تیار کی۔ پوری طرح سے آرگینک تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تین سال پہلے انہوں نے اس نرسری کا آغاز کیا تھا۔ فاؤنڈیشن کی جانب سے کرپال کو کینچوا کھاد، ہر بل اسپرے بنانے کے لئے اشیاء مہیا کرائی گئیں ۔ محکمہ باغبانی سے تین لاکھ روپے کا قرض بھی مل گیا۔ آج کرپال اپنی نرسری میں سینکڑوں اقسام کے پھول اور پھلدار پودے تیار کررہے ہیں۔ وہ اپنی نرسری میں اب تک 70 ہزار پھلدار پودے،26ہزار پھول والے پودے، 25 ہزار سایہ دار پودے اور دو ہزار آرائشی پودے تیار کرچکے ہیں۔ کرپال سنگھ کہتے ہیں کہ اس نرسری سے وہ سالانہ 6لاکھ روپے کمالیتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here