اویسی کی پارٹی سے سبھی پارٹیاں پریشان

Share Article

damiاترپردیش کے اسمبلی انتخابات میںبیرسٹر اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم )کی موجودگی نے ساری سیاسی پارٹیوں خاص طور سے سیکولر پارٹیوںکی بے چینی بڑھا دی ہے اور ان کی اس بے چینی میں اس وقت اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے جب اسدالدین اویسی کے جلسوں و جلوسوں میں انھیں بھاری بھیڑ امنڈتی ہوئی نظر آتی ہے۔انھیں یہ خوف ستاتا ہے کہ اگر یہ بھیڑ حقیقت میں ووٹوں میں تبدیل ہوگئی تو پھر اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کا تو زاویہ ہی بدل جائے گا۔ان کے سامنے 1960اور 1970کی دہائی میں ڈاکٹرعبدالجلیل فریدی اور حبیب احمد کی قیادت میں مسلم مجلس کا کم عرصہ کے لیے ہی سہی، کامیاب تجربہ ہے۔

اس بار کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے مسلمانوںکا ووٹ حاصل کرنے کے لیے 99 مسلم امیدوار انتخابی میدان میں اتا کر اپنے مسلم پریم کا ڈنکا بجایا تو سماجوادی پارٹی (ایس پی) اقتدار پر قبضہ جمائے رکھنے اور مسلم ووٹوں کو اپنے حق میںکرنے کے لیے اپنی سیاسی حریف کانگریس پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کو مجبورہوگئی۔ان کے علاوہ راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) اور پیس پارٹی وغیرہ چھوٹی پارٹیاں بھی مسلم ووٹوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے بساط بچھائے ہوئے ہیں لیکن اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے پہلی بار اسمبلی کے انتخابی میدان میںاترکر ساری سیکولر پارٹیوں کا حساب کتاب بگاڑ دیاہے اور انھیں اپنی نیّا منجھدھار میںہچکولے کھاتی ہوئی نظر آنے لگی ہے دراصل اسد الدین اویسی کی نظر بھی ان ہی سیٹوںپر مرکوز ہے جہاں مسلم آبادی فیصلہ کن حیثیت میں ہے۔انھوںنے ابھی تک 35 امیدوار انتخابی میدان میں اتارے ہیں او ریہ سارے امیدوار مسلم اکثریتی علاقوں میں سیکولر امیدواروں کی نیند اڑتے پھر رہے ہیں۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ اترپردیش میں اپنی زمین تلاش کرنے کے لیے اسدالدین اویسی طویل عرصہ سے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن حکمراں سماجوادی پارٹی نے انھیں لاء اینڈ آرڈ ر کے نام پر اترپردیش میں ریلی اور جلوس کے لیے داخل ہونے نہیں دیا۔ بہرحال اویسی نے اپنی زمین تلاش کرنے کا کام جاری رکھا۔ اے آئی ایم آئی ایم دعویٰ کرتی ہے کہ اترپردیش میں اس نے تقریباً 10 لاکھ کا رکن بنائے ہیں اور یہ وہ کا رکن ہیں جنھوںنے رکن کیمپ کے دوران الگ الگ شہروں میںاے آئی ایم آئی ایم کی رکنیت حاصل کی ہے۔امروہہ میں اس کے سب سے زیادہ تقریباً سوا لاکھ، میرٹھ میں 60 ہزار او ر کانپور میں تقریباً 40ہزار ارفعال کارکن ہیں۔ اسی طرح سلطانپور، آگرہ، علی گڑھ، مرادآباد، بریلی اور فیض آباد وغیرہ میں اس کے 20 سے 30 ہزار کارکن کام کررہے ہیں۔اے آئی ایم آئی ایم کا کہنا ہے کہ ہماری تنظیم اترپردیش کے ہر ضلع میںکھڑی ہے اور تقریباً 40 اضلاع تو ایسے ہیں جہاں اس کی گرفت بوتھ سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ان فعال کارکنوں کے دم پر اے آئی ایم آئی ایم اترپردیش میں گزشتہ سال ہوئے گرام پنچایتوں کے انتخاب میں چار سیٹیں جیت کر اپنا جھنڈا گاڑ چکی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اویسی کی پارٹی نے یوپی میں زمین تو پالی ہے لیکن یہ زمین کتنی زرخیز ہے، اس کا نتیجہ 11 مارچ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
اسد الدین اویسی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم مسائل پر بھی اپنی بے باک رائے رکھتے ہیں۔وہ مسلمانوں،مظلوموں، دبے کچلے اور کمزور طبقات کے لیے پارلیمنٹ میں بھی آواز بلند کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ وہ ہمیشہ اپنی قیادت اور اپنی سیاست کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اترپردیش میں اپنے انتخابی جلسوں میں وہ کانگریس، سماجوادی اور بی جے پی پر جارحانہ حملہ کرتے ہیں جبکہ مایاوتی کی پارٹی کے تئیں نرم گوشہ اپنائے ہوئیہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوںنے راجیو گاندھی ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو کو اپنا لیڈر مانا لیکن انھوںنے اس قوم کو صرف زخم لگانے کا کام کیا۔ ان لیڈروںکی بزدلی ، ناانصافی اور غفلت کی وجہ سے ہی مسلمان حاشیہ پر پہنچ گئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان اپنے علاقے میںاکثریت میں ہونے کے باوجود غیروںکی قیادت قبول کیے ہوئے ہے، جبکہ وہ خود اس حیثیت میں ہیںکہ اپنی قیادت کو یوپی کے ایوان تک پہنچا سکتے ہیں۔ سیکولر پارٹیاں ، بی جے پی کا خوف دکھاکر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرتی رہی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب تک ہم ان نام نہاد سیکولر لیڈروں کی باتوں میں آتے رہیں گے او رفرقہ پرستوں کے خوف سے انھیں حکمرانی کا موقع دیتے رہیںگے جبکہ یہ نام نہاد سیکولر حکمراں ہی فرقہ پرستی کو پروان چڑھانے کا کام کرتے ہیں تاکہ اترپردیش کی سب سے بڑی اقلیت ان کے چنگل میں پھنسی رہے اور یہ اپنا سیاسی مفاد حاصل کرتے رہیں۔
سچائی یہی ہے کہ سیکولر پارٹیوں نے مسلمانوںسے ہمیشہ سیاسی محبت کی ، انھیں ووٹ بینک سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔سیکولر مسلم لیڈروں نے بھی کبھی ان کے مسائل میں دلچسپی نہیں لی۔ ملت پر جب بھی کوئی براوقت آیا تو یہ سیکولر مسلم لیڈران اپنی پارٹی کی ہی وفاداری کرتے نظر آئے ۔ ایوان میں انھوں نے اپنی قوم کے لیے آواز کبھی نہیں اٹھائی۔یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان تعلیم، صحت اور روزگارجیسی بنیادی سہولتوںسے محروم ہیں۔تعلیمی، سماجی ، سیاسی اور اقتصادی طور پر یہ دلتوںسے بد تر ہوکر حاشیہ پر پہنچ گئے ہیں۔یہ سیکولر پارٹیوں کی سیاسی اورانتخابی محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ ہندوستان میں ہر قوم اور ذات برادری کے پاس اپنے لیڈر موجود ہیں، جو ان کے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں لیکن آزادی کے بعد سے اب تک کوئی ایسا مسلم لیڈر نصیب نہیں ہوا ہے جو ان کی رہنمائی کرسکے اور ان کے حق کے لیے آواز بلند کرسکے۔ حالانکہ ہندوستان میںمسلم لیڈروںکی بھرمار ہے لیکن اسبھیڑمیںکوئی اپنی قوم کا رہنما چہرہ نظر نہیں آتا، سب کے سب اپنی پارٹی کے چہرے نظر آتے ہیں۔ ایسے میںدور سے اکیلے بیرسٹر اسدالدین اویسی کی آواز گونجتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اویسی مسلم مسائل کو دلیری اور بے باکی کے ساتھ پارلیمنٹ میں سب کے سامنے رکھتے ہیں۔ ان کی پارٹی بھی اب اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں اپنی قسمت آزمارہی ہے اور اس کے جلسوں میں لوگ بڑے جوش و خروش کے ساتھ شریک ہورہے ہیں ، جس سے سیکولر پارٹیاں اور ان کے لیڈران کافی پریشانی محسوس کررہے ہیں۔ انھیںیہ خوف ستارہا ہے کہ اگر اویسی اور ان کی پارٹی کو اترپردیش میںزمین مل گئی تو پھر ان کے لیے زمین تنگ ہوجائے گی۔

Share Article

One thought on “اویسی کی پارٹی سے سبھی پارٹیاں پریشان

  • February 25, 2017 at 4:38 am
    Permalink

    Aimim party jaisi koi party h na thi or uske muqable me koi hogi bhi nhi the best party of aimim

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *