dami3’’دہشت گردی کے واقعات میں سیکورٹی ایجنسیاں دوہرا معیار اختیار کرتی ہیں ۔ اگر معاملہ اقلیتی فرقوں سے متعلق ہو تو ا ن کا ایک طرزعمل ہوتا ہے اور اگر اس کا تعلق اکثریتی فرقہ سے ہو تو ان کا طرز عمل کچھ اور ہوتا ہے‘‘ ۔ یہ تبصرہ کسی سیاستداں یا مسلم رہنما کا نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے ایک سرکردہ ماہرقانون کا ہے جو نظام عدل کے کئی اہم اور اعلی منصبوںپر فائز رہا ہے۔ وہیں یہ تبصرہ ملک میں عدل و انصاف کی تشویشناک اور افسوسناک صورت حال کی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔ حالانکہ یہ عالمی طور پر مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک مضبوط ، غیر جانبدار اور آزاد نظام عدل کسی بھی معاشرہ بالخصو ص ایک کثیر مذہبی معاشرہ میں استحکام کی بنیاد ہوتاہے۔
مذکورہ تبصرہ دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور 20 ویںلاء کمیشن کے چیئرمین جسٹس اے پی شاہ کا ہے جو انہوں نے دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں باعزت بری ہونے والے بے قصورمسلم نوجوانوں کی پہلی عوامی عدالت یا پیپلز ٹریبیونل کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر کیا تھا۔ نئی دہلی میں منعقدہ اس تقریب میں جسٹس شاہ نے پولیس ، تفتیشی اداروں ، انسداد دہشت گردی کے قوانین ، حکومت اور میڈیا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں جھوٹے اور غلط طور سے پھنسائے گئے ان بری نوجو انوں کے لئے ایک معقول معاوضہ ، اور باز آبادکاری نیز خاطی پولیس اہلکاروں کے مواخذہ کے لئے ایک جامع قانون وضع کیا جانا اشد ضروری ہے جو بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہونا چاہے۔ انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں نے پیپلز ٹریبیونل میں اپنی رقت آمیز داستانیں سنائی ہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ جبری اور زور زبردستی سے اقبال جرم کرانا، غیر انسانی تعذیب دینا، ضمانت دینے میں تاخیر کرنا، غیر قانونی طریقہ سے حراست میں رکھنا، متعصبانہ طریقہ سے مقدمہ چلانا، اور جھوٹے ثبوت و شواہد گھڑنا وغیرہ دہشت گردی کے واقعات کا معمول بن گئے ہیں۔ اس ٹر یبیونل میں 15بے قصوروں نے اپنی داستان ِ ابتلاء و آزمائش سنائی تھیں۔ خیال رہے حقوق الانساں کی ایک تنظیم انّوسنس نیٹ ورک انڈیا نے جسٹس شاہ کی صدارت میں 2 اکتوبر کو نئی دہلی میں دہشت گردی کے الزامات سے بری ہونے والے نوجوانوں کے لئے پیپلز ٹریبیونل انعقاد کیا تھا ۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی عوامی عدالت تھی۔(دیکھئے ’’چوتھی دنیا‘‘(17تا 23 اکتوبر 2016)۔ ٹریبیونل میں ہوئی سماعتوں کی بنیاد پر ’’ دہشت گردی کے مقدمات میں بری بے قصوروں کے لئے معاوضہ اور باز آبادکاری جامع قانون سازی ‘‘کے عنوان سے ایک جامع رپورٹ مر تب کی گئی جس میں دہشت گردی کے نام سے جاری ظلم و ستم کے کوہ گراں سلسلہ کے تمام عوامل نیز ہندوستانی اور بین الاقوامی قوانین کا تقابلی جائز ے کی روشنی میں بری افراد کی بازآبادکاری کے سلسلہ میں ٹھوس اور با مقصد سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
احمدآباد کے مفتی عبدالقیوم، دہلی کے محمد عامر خان اور حیدرآباد کے نثار الدین وغیرہ ایسے سینکڑوں نوجوان ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے الزامات سے تو باعزت بری کردیا مگر تب تک ان عملی زندگیا ں مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھیں اور ان کے خاندانوں نے جس ذہنی کوفت ، بدنامی ، مالی اور مادی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کیا ۔اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، نہ انہیں الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
فطری انصاف کا تقاضہ ہے کہ بے قصوروں کو معاوضہ دیا جا ئے ، ان کی باز آبادکاری کی جا ئے اور خاطی سرکاری کارندوں کو سزا جائے۔ یہی چیز مہذب اور جمہوری معاشروں کی پہچان ہوتی ہے ۔ اگر کسی فرد کے ساتھ نا روا ظلم ہوتا ہے تو اس صورت میں ریاست (حکومت ) نہ صرف مظلوم کو ہرجانہ ادا کرتی ہے بلکہ معافی کی بھی خواستگار ہوتی ہے ۔ اس سلسلہ میں بنگلور کے ڈاکٹر محمد حنیف کی ایک روشن مثال ہے جن سے آسٹریلیا کی حکومت نے نہ صرف معذرت کی بلکہ ا نہیں معقول معاوضہ بھی ادا کیا۔ اس ٹھوس رپورٹ کی روشنی میں ہمارے ملک میں پولیس اور سلامتی کی ایجنسیاں کتنی ایمانداری اور فرض شناسی سے کام کرتی ہیں۔ اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ با لخصوص دہشت گردی کے واقعات میں وہ جس طرح مسلم نوجوانوں کو بغیر کسی معقول ثبوت کے اور محض شبہ کی بنیاد پر یا اپنی نااہلی چھپانے کے لئے گرفتار کرتی ہیں، وہ ایک بدیہی حقیقت ہے ۔ حتی ٰ کہ پولیس نے مکہ مسجد ( حیدر آباد ) ، بڑی مسجد ( مالیگائوں) اور درگارہ خواجہ صاحب ( اجمیر) وغیرہ جیسے خالصتاً مذہبی مقامات میں رونما بم دھماکوں کے واقعات میں بھی مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ یہ سب ان ہی مسلم نوجوانوںکے کرتوت ہیں ۔ پولیس اور تفتیشی اداروں کے اس متعصبانہ طرز عمل سے اب تک سینکڑوں کی تعداد میں مسلم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی زندگیاں برباد ہوگئی ہیں اور یہ ہنوز بلا روک ٹوک جاری ہے ۔ دوسری طرف ان سنگین اور انسانیت دشمن واقعات کے اصل مجرم آزاد گھوم رہے ہیں جو امن وامان کے لئے ایک نہایت بڑ اخطرہ ہے۔ جسٹس شاہ اسے معاشرہ کے لئے خطرناک رجحان سے تعبیر کرتے ہیں۔
جسٹس شاہ نے سیکورٹی ایجنسیوں کے اسی دوہرے پیمانے کے حوالے سے خاص طور سے مالیگائوں بم دھماکوں کا ذکر کیا۔ ان کے بقول مالیگائو ں بم دھماکوں کے بعد مسلم فرقہ کے جوانوں کو سیمی کے کارکن قرار دے کر انہیں اصل مجرموں کے طور پر پیش کیا گیا ۔ حالانکہ ان میں سے ایک شخص دھماکوں کے وقت پہلے ہی سے پولیس کی تحویل میں تھا جبکہ دوسرا جائے وقوع سے سینکڑوں کلومیٹر دور کسی اور مقام پر موجود تھا ۔اب شواہد اور دستاویز کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تفتیشی اداروں کا رویہ متعصبانہ تھا جنہوں نے ان نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کرنے کی غرض سے فرضی اور جھوٹے ثبوت گھڑے تھے کیونکہ ان کا تعلق اقلیتی فرقہ سے تھا۔ وہیں دوسری طرف نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک دوسری چارج شیٹ ان افراد کے خلاف داخل کی جن کا تعلق اکثریتی فرقہ ہے۔ اس مقدمہ کی سرکاری استغاثہ کو، جو مہاراشٹر کی ایک فاضل خاتون وکیل ہیں ، ہدایت دی گئی کہ وہ ملزموں کے تئیں نرم رخ اختیار کریں جس پر انہوں نے استعفی دیدیا اس کے نتیجے میں اب یہ کیس بالکل بودہ ہوگیا ہے۔
اسی طرح ٹاڈا قانون کے تحت مجرم قرار دیئے گئے محمد نثار الدین کا کیس لیں جنہیں نا کردہ جرم کی پاداش اپنی زندگی کے بیش قیمت 23 سال جیل کی اندھیری کوٹھری میں گزارنے پڑے ۔اب ان کی حالت ایک زندہ لاش کی ہے ۔ جسٹس شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے انہیں بری کرتے ہوئے خود اپنے فیصلہ میں کہا کہ جس ’ثبوت‘ کی بنیاد پر نثار کو مجرم قرار دے کر سزا سنائی گئی اسے پہلے ہی مرحلہ میں ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔
اکشر دھام مندرپر 2002میں ہوئے حملہ کے بارے میں اب ایک نئی کتاب میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ اندرونی کارستانی تھی۔ اس حملہ میں جھوٹے طور پر پھنسا ئے گئے تمام چھ ’’ مجرموں‘‘ کو سپریم کورٹ نے مئی 2014میں باعزت بری کردیا تھا۔ اس مقدمہ کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ گجرات پولیس نے ان بے قصوروں کو پھنسانے کی غرض سے جھوٹے اور فرضی ثبوت گھڑے تھے۔ اس فیصلہ کا منطقی تقاضہ تھا کہ عدالت ان خاطی پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حکم دیتی جس سے تفتیشی اداروں کو باز پرسی ہونے کاایک واضح پیغام جاتامگر ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان بے قصوروں کے معاوضہ کی اپیل کو بھی عدالت نے سر سری سماعت کے بعد اس دلیل کی بنیاد پر خارج کردیا کہ اس کے نتیجہ میں ایک غلط مثال قائم ہو سکتی ہے۔
میڈیا کے ایک حلقہ کے طرز عمل کی بھی گوشمالی کرتے ہوئے جسٹس شاہ نے کہا کہ میڈیا ٹرائل ایک خطرناک رجحان ہے جس کا مقدمہ کے نتیجہ پر لا محالہ اثر پڑتا ہے۔ا نہوں نے نامور صحافی افتخار گیلانی کے میڈیا ٹرائل واقعہ کا پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب پولیس نے ان کے مکان پر چھاپہ مارا تو وہ اسوقت اپنے مکان میں ہی موجود تھے لیکن وہاں موجود الیکٹرانک میڈیا کے نامہ نگار یہ افواہ پھیلارہے تھے کہ گیلانی فرار ہوگیا ہے۔ اور وہ یہ لائیو خبر اپنے ٹیلی ویژن سیٹ پر دیکھ رہے تھے۔
ٹریبیونل کی ریپوٹار اور جامعہ ٹیچر اسٹاف ایسو سی ایشن ( جے ٹی ایس اے ) پروفیسر منیشا سیٹھی نے کہا کہ ٹریبیونل میں ہوئی سماعتوں سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط اور بیجا استعمال کرکے ایک پوری کمیونٹی کو ’’ مجرم‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور نچلی سطح پر عدالتیں انتہائی کمزور اور بودے ثبوتوں کی بنیاد پر سزائیں دے رہی ہیں۔ نثار الدین کا کیس اس کی ایک بدترین مثا ل ہے جو ملک کے نظام عدل میں خرابی کا پتہ دیتا ہے جسے محض ایک اقبالیہ بیان کے میمو کی بر آمدگی کی بنیاد پر سزا دی گئی۔ پروفیسر منیشا کے مطابق ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘ کے نام سے جو زور و شور کا پر وپیگنڈا ہورہا ہے۔ یہ چیز مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کو جواز فراہم کرتی ہے اور تفتیش کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے کہ غلط کام کرنے پر بھی ان کا بال بیکا نہیں ہوگا۔
اس موقع پر محمد عامر خان نے اپیل کی کہ دہشت گردی کے نام پر جیلوں میں بند مسلم قیدیوں کی سلامتی کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔ قتیل صدیقی حراستی موت اور بھوپال میں سیمی کے نام پر ماخوذ کئے گئے زیر سماعت آٹھ قیدیوں کو ایک فرضی انکائونٹر میں مار ڈالنے کا ذکر کرتے ہوئے عامر نے کہا کہ ہندوستانی جیلوں کی حالت عراق کے ابو غریب جیل سے بھی بدترہے جہاں ہر لمحہ ایسے قیدیوں کو جیل کی متعصب انتظامیہ اور ساتھی قیدیوں سے جان لیوا حملہ کا خطرہ لگا رہتا ہے۔ عامر بھی ٹریبیونل میں پیش ہوئے تھے اپنی داستان الم سنائی تھی جن پر نو مقد مات تھوپ دیئے گئے تھے مگر وہ ان سب میں باعزت بری ہوئے۔ انہیں ان جھوٹے الزامات کی پا داش میں 14سال جیلوں میں گزارانے پڑے ۔ عامر نے کہا کہ اس رپورٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بھی کوشش کی جا نی چاہیے ۔
عوامی عدالت کی سفارشات
عوامی عدالت کی جیوری نے ملک کے پولیس اور تعزیری نظام میں اصلاحات ، نیز دہشت گردی میں پھنسائے گئے بے قصوروں کی بازآبادکاری کے بارے میں جو اہم سفارشات کی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(1) معاوضہ: پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کے غلط اور غیر قانونی طرز عمل کا شکار ہونے والے افراد کو معاوضہ دینے کے سلسلہ میں ریاست کو حقوق کے نقطہ نظر سے ہرجانہ ادا کرنا چاہیے ۔ معاوضہ کی رقم مادی اور غیر مادی نقصانات کے حساب سے کیس بہ کیس کی بنیاد کی طے کی جانی چاہیے۔ایسے کیسوں میں معاوضہ کے بارے میں دنیا کے متعدد ملکوں بشمول فرانس، برطانیہ ، جرمنی اور آسٹریلیا میں واضح اور جامع قوانین موجود ہیں۔
(2) مواخذہ :جھوٹے کیسوں میں پھنسانے والے پولیس اہلکاروں کی باز پرس کا قانون ہونا چاہیے۔ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہے۔ ان کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری ہونی چاہیے ۔ مزید برآں ایسے افسروں کے خلاف اپنے اختیارت کا غلط اور بیجا استعمال کرنے کے لئے فوجداری مقدمہ چلایا جانا چاہیے ۔
(3) میڈیا کے لئے رہنما خطوط : میڈیا کو اپنی طاقت اور اثر کا احساس ہونا چاہے کہ اس کے سنسنی خیز اور جانبدارانہ رویہ سے زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ کسی شخص کو اس وقت تک مجرم قرار نہ دے جب تک عدالت اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں سناتی۔ مزید برآں کہ اگر میڈیا نے کسی شخص کے خلاف حراست کے موقع پر بدنام کرنے والا مواد شائع یا نشر کیا لیکن بعدازاں وہ شخص باعزت بری ہوا، اس صورت میں میڈیا کو معذرت شائع کرنی چاہیے۔
(4) قانونی اصلاحات: چونکہ ہندوستان نے بین الاقوامی قانون انٹرنیشنل کانوینٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس ICCPR) (کی تو ثیق کی ہے ، اس لئے فوجداری مقدمات میں غلط اور جھوٹے طریقے سے پھنسانے کی روش کے انسداد کی غرض سے اس بین الاقومی کانوینٹ کی دفعہ (6)14 کو بھی ہندوستانی قانون میں شامل کیاجائے ۔ اسی طرح پارلیمنٹ ٹارچر کے روک تھام کے بل کو پاس کرے جو گزشتہ چار سال سے التواء کا شکار ہے، حالانکہ ہندوستان نے اقوام متحدہ کے کنوینشن اگینسٹ ٹارچر( 1975ئ) پر 19سال پہلے یعنی 1997میں دستخط کردیئے تھے ۔ انسداد ہشت گردی کے قوانین ، انڈین ایویڈنس ( شہادت) ایکٹ اور کریمنل پروسیجر کوڈ سی آر پی سی وغیرہ کی دفعات میں اصلاحات کی جائے تاکہ خاطی افسران کو جوابدہ بنایا جا سکے اور حوالات میں اموات کو روکا جاسکے۔
5)) ادارہ جاتی اور سماجیاتی اصلاحات : حقوق الاانساں کے ادارے مثلاً نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور ریاستی نوعیت کے کمیشن اپنے یہاں دہشت گردی کے مقدمات میں بری ہونے والوں کا خیال رکھنے کے لئے ایک خصوصی شعبہ قائم کریں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے افراد کی باز آبادکاری میں سرگرم کردار ادا کریں۔
رپورٹ میں جیوری نے حقوق الاانساں کے ادارے مثلاً نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور ریاستی ہیومن رائٹس کمیشنوں کے رول پر سخت افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا کہ ان اداروں نے دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسائے جانے والے افراد کے معاملوں میں مداخلت نہیں کی اورنہ ان اداروں نے اس مسئلہ کی سنگینی کا کوئی احساس کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here