امریکہ کی خاتون اول کے کردار میں کون ؟

Share Article

trump-ki-betiامریکہ میں ٹرمپ کی فتح کے بعد ایک اہم بات موضوع گفتگو ہے کہ امریکہ کی خاتون اول ملین ٹرمپ اور ان کی 35 سالہ بیٹی ایوانکا میں سے کون ٹرمپ کے کام کاج میں زیادہ قریب ہوںگی۔ جہاں تک ایوانکا کی بات ہے تو وہ خود اپنی انفرادی حیثیت میں نہ صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت کی مالک ہیں، بلکہ وہ ایک ادیبہ بھی ہیں اورڈونالڈ ٹرمپ کی بیٹی کے حوالے سے الگ خود بھی امریکہکے لئے ایک مشہور چہرہ ہیں۔ ایک اندازے کی مطابق وہ ایک سو 50 ملین ڈالر کی تن تنہا مالک ہیں۔
دونوں خواتین کے موضوع بحث بننے کی وجہ یہ ہے کہ ایوانکا ٹرمپ اور ان کے شوہر واشنگٹن کے فیشن ایبل علاقے جارج ٹاؤن میں منتقل ہونے کا سوچ رہے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے انہیں پیشکش کی ہیں کہ وہ اپنا دفتر وائٹ ہاؤس کے اس حصے میں لگا سکتے ہیں جو عموماً خاتون اوّل کے یے مختص ہوتا ہے۔دوسری طرف مسٹر ٹرمپ نے نومبر میں اعلان کر دیا تھا کہ کم از کم شروع میں ان کی اہلیہ ملینا وائٹ ہاؤس میں منتقل نہیں ہوں گی بلکہ وہ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے بیرن کے سکول کا سال ختم ہونے تک اس کے ساتھ تک نیویارک میں رہیں گی۔
ان دونوں باتوں کو ملا کر دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ میں خاتون اول کی ذمہ داری ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا نبھانے جارہی ہیں۔اگر ملینا ٹرمپ نیویارک ہی رکتی ہیں تو لگتا ہے کہ خاتون اوّ ل کی ذمہ داریاں ایونکا ٹرمپ کو نبھانا پڑیں گی اور عالمی رہنماؤں اور دیگر شخصیات کی میزبانی عملاً ان کو ہی کرنا ہو گی۔لیکن ایوانکا کے وہائٹ ہائوس میں منتقل ہونے کے تعلق سے کئی دانشوروں نے ناپسندگی کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً اپنے والد کے صدر منتخب ہونے کے بعد جب وہ جاپانی وزیر اعظم کے ساتھ مسٹر ٹرمپ کی ملاقات میں نظر آئیں تو کئی لوگوں نے خفگی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد جب گزشتہ دنوں وہ فیس بْک، ایپل اور سلیکان ویلی کی دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہوں کے ساتھ مسٹر ٹرمپ کی ملاقات میں بھی دکھائی دیں تو تب بھی کی لوگوں کی پیشانیوں پر شکنیں آ گئی تھیں۔
امریکہ کی خواتین اوّل کے بارے میں ایک کتاب کی مصنفہ، سوزن سوین‘ کہتی ہیں کہ ایوانکا اور ان کے شوہر کے وائٹ ہاؤس میں منتقل ہونے کی بات ایسی ہے جو وائٹ ہاؤس کی روایات سے میل نہیں کھاتی۔ لیکن یہ بات اس لحاظ سے عجیب نہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا خاندان ایک ایسا خاندان ہے جسے دارالحکومت واشنگٹن کی سیاسی محفلوں کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔سوزن سوین کا خیال ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی اہلیہ کا یہ فیصلہ کہ وہ نیویارک میں ہی رہیں گی، ماضی کی خواتین اوّ ل کی اسی روایت کی عکاسی کرتا ہے کہ معمول کی زندگی جاری رکھی جائے اور جتنا ممکن ہو سکے صدر کے بچوں کو عوام کی نظروں سے دور رکھا جائے۔
لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وائٹ ہاؤس میں ایوانکا کا کردار ماضی کی خواتین اوّل سے بڑا ہو سکتا ہے۔
یہ کوئی اتنی غیر معمولی بات نہیں ہو گی، کیونکہ تھامس جیفرسن، لِنڈن جانسن، جیرالڈ فورڈ اور رونالڈ ریگن سمیت کچھ ایسے صدر ضرور گزرے ہیں جن کے یہاں خاتون اول کی ذمہ داریاں ان کی بیگمات کی بجائے خاندان کے کسی دوسرے فرد کے پاس تھی

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *