امریکہ کی افسوسناک صورتحال

طیبہ ضیا
امریکہ میں جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکے اور چوریوں کے واقعات تشویشناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بیروزگاری اور مالی بحران کی وجہ سے دن دہاڑے چوریاں ہو رہی ہیں۔ امریکہ اندر باہر سے غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔ جرائم پیشہ افراد گھروں سے نقدی، زیورات اور الیکٹرانک اشیاء چوری کر کے فوری طور پر آن لائن فروخت کر دیتے ہیں تا کہ پولیس کی پہنچ سے آزاد رہیں اور یہاں کی پولیس ’’بھی‘‘ چوریاں بازیاب کرانے میں اکثر ناکام رہتی ہے۔ ایک سیکورٹی گارڈ نے خبردار کیا کہ تم لوگ زیورات بنک میں رکھا کرو۔ جرائم پیشہ افراد کو علم ہے کہ دیسی خواتین سونا پہننے کی شوقین ہیں لہٰذا انڈین اور پاکستانیوں کے گھروں میں چوری کے واقعات میں اضافہ کی بڑی وجہ سونا ہے، دوسری وجہ کیش ہے، اس ملک میں بھی خاص طور پر نیویارک میں ٹیکس چوروں کی خاصی تعداد آباد ہے جو کیش پر بزنس کرتی ہے اور بینکوں کی بجائے گھروں میں چھپا کر رکھتی ہے۔ چور بھیدی ہو گئے ہیں۔

ایک پول سروے کے مطابق امریکہ کی اکثریت اوبامہ کے ’’گے میرج‘‘ بیان کو ایک سیاسی فیصلہ سمجھتی ہے مگر اس غیر اخلاقی فعل کی حمایت سے جہاں امریکہ کا مذہبی طبقہ نالاں ہے، وہاں امریکہ کے مسلمان بھی صدر اوبامہ سے بدظن ہو گئے ہیں۔ یہ فیصلہ 2012 کے الیکشن پر منفی اثرات مرتب کر ے گا۔ ’گے میرج‘ اور ’ابارشن‘ جیسے متنازع ایشوز انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اوبامہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کیتھولک مذہب کے ماننے والے ہیں، اس کے باوجود بعض حلقے انہیں مسلمان سمجھتے ہیں۔ ایک امریکی سروے کے مطابق چھ میں سے ایک امریکی شہری اوبامہ کو مسلمان سمجھتا ہے جبکہ کیتھولک عقیدت مندوں کی اکثریت اوبامہ کی حمایت کرتی ہے۔ صدر اوبامہ وار آن ٹیرر کا حامی نہ تھا مگر میاں نواز شریف کی طرح وہ بھی سیاسی حالات کا رخ دیکھ کر راستے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور جب مجبوریاں کمزوریاں بن جائیں توعوام بددل ہی نہیں بدظن بھی ہو جاتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چور ایک خاص قسم کے آلہ کی مدد سے گھروں میں زیورات کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ کچھ تو بیروزگاری کا سبب ہے اور کچھ مذہبی تعصب ہے۔ ایک پاکستانی نے بتایا کہ اس کے گھر سے نہ صرف زیورات اور نقدی غائب ہوئی بلکہ شیلف میں رکھے قرآن پاک اور اسلامی کتب کے اوراق بھی زمین پر پھٹے پڑے تھے، تسبیحوں کے دھاگے بھی توڑ دیے گئے، پورے کمرے میں دانے بکھرے ہوئے تھے۔ پولیس سے جب اس جنونیت کا سبب جاننا چاہا تو اس نے اس فعل کو تعصب قرار دینے سے انکار کر دیا اور اسلامی کتب کے اوراق پھاڑنے کی وجہ یہ بتائی کہ کچھ لوگ مذہبی کتابوں میں کیش چھپاتے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ چور سب سے پہلے ماسٹر بیڈ روم میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں کی ہر چیز کو توڑ پھوڑ دیتے ہیں لیکن آلہ موجود ہو تو جہاں سونا رکھا ہے سب سے پہلے اس جگہ کی تلاشی لیتے ہیں۔ ایک اور پاکستانی خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے زیورات کا باکس باتھ روم میں نہانے والے ٹب کی ایک خفیہ ٹائل کے نیچے چھپا کر رکھتی تھی مگر چور آئے اور اس آلہ کی مدد سے انہوں نے وہاں سے بھی زیور نکال لیا۔ امریکہ سے باہر ڈاکے ڈالنے والے پہلے اپنے گھر کی خبر لیں۔ جنگجو دہشت گردوں کو مارنے والے اپنے ملک میں ایک معمولی چوری بھی بازیاب کرانے میں ناکام ہیں۔ امریکہ میں بھی جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور اگر اس ملک میں بھی یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو لوگ محنت مزدوری سے باغی ہو جائیں گے اور پڑھا لکھا نوجوان طبقہ بھی جرائم پیشہ بن جائے گا۔ اس ملک میں ہائی اسکول تک کی تعلیم مفت ہے مگر کالج کی تعلیم بے حد مہنگی ہے اور جب مہنگی ڈگری حاصل کرکے بھی با عزت روزگار نہ مل سکے تو امیر ترین ملک کے لوگ بھی چور اور ڈاکو بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ صدر اوبامہ بھی معیشت کو کاندھا دینے میں ناکام رہے۔ پاکستان کو نیٹو سپلائی کی اربوں ڈالروں کی اْجرت دینے والا امریکہ پہلے اپنے لوگوں کو مزدوری مہیا کرے۔ پاکستان کو امداد دینے والا چوہدری پہلے اپنے ملک کے مہذب بھکاریوں کو تو روزگار مہیا کرے۔ وائٹ ہاؤس نے صدر اوبامہ اور ان کی فیملی کے اثاثہ جات جاری کئے، جس کے مطابق مشعل اوبامہ کے اثاثہ جات کی مالیت 8.3 ملین ڈالرز ہے مشعل اوبامہ کے مشترکہ اثاثے 12 ملین ڈالرز ہیں۔ امریکہ کا صدر ٹیکس بھی ادا کرتا ہے اور کرپٹ بھی نہیں مگر اس کا شمار بھی امریکہ کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے لہٰذا غریب اور بیروزگار عوام کے مسائل کو ان کی جگہ پر بیٹھ کر محسوس نہیں کر سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاکستان کے شمالی علاقوں تک پھیلانے کے منصوبے رکھنے والا پہلے اپنی گلیوں کے چوروں کی خبر لے۔ پْرامن شہری اندرون و بیرون دہشت گردی سے خوفزدہ ہیں۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں اس بار دہشت گردی کے خلاف جنگ کو زیادہ اہمیت حاصل نہیں رہی۔2004 الیکشن اسی بنیاد پر لڑا گیا لیکن امریکی معیشت کی نازک صورتحال نے عوام کی سوچ بدل دی ہے۔ معیشت جب ایک بار زوال کا شکار ہو جائے تو اس کا بحران سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے بالخصوص دوسرے ممالک کو دبانے اور ان پر تسلط قائم رکھنے کی پالیسی ملکوں کو کنگال کر دیتی ہے۔ صدر اوبامہ معاشی بحران پر قابو پانے میں ناکام رہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ناؤ ڈوبنے پر آئے تو ہم سفر لہریں ہی دھوکہ دیتی ہیں۔ صدر اوبامہ وار آن ٹیرر اور اکانومی کے مسائل سے نکل نہیں پائے تھے کہ ہم جنس پرستوں میں شادیوں کی حمایت گلے پڑ گئی۔ ہم جنس مردوں کی شادی کی حمایت نے صدر اوبامہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ نائب صدر جوبائیڈن قوم سے معافی مانگ چکے ہیں کہ ان کی حکومت نے یہ حمایت عوام کے جذبات کے پیش نظر کی تھی مگر ان کی معافی مسترد کر دی گئی ہے۔ امریکہ کا مذہبی اور متعصب طبقہ خاص طور پر رپبلکن پارٹی کو اوبامہ کی مخالفت کا ایک اور جواز ہاتھ لگ گیا ہے۔ ایک پول سروے کے مطابق امریکہ کی اکثریت اوبامہ کے ’’گے میرج‘‘ بیان کو ایک سیاسی فیصلہ سمجھتی ہے مگر اس غیر اخلاقی فعل کی حمایت سے جہاں امریکہ کا مذہبی طبقہ نالاں ہے، وہاں امریکہ کے مسلمان بھی صدر اوبامہ سے بدظن ہو گئے ہیں۔ یہ فیصلہ 2012 کے الیکشن پر منفی اثرات مرتب کر ے گا۔ ’گے میرج‘ اور ’ابارشن‘ جیسے متنازع ایشوز انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اوبامہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کیتھولک مذہب کے ماننے والے ہیں، اس کے باوجود بعض حلقے انہیں مسلمان سمجھتے ہیں۔ ایک امریکی سروے کے مطابق چھ میں سے ایک امریکی شہری اوبامہ کو مسلمان سمجھتا ہے جبکہ کیتھولک عقیدت مندوں کی اکثریت اوبامہ کی حمایت کرتی ہے۔ صدر اوبامہ وار آن ٹیرر کا حامی نہ تھا مگر میاں نواز شریف کی طرح وہ بھی سیاسی حالات کا رخ دیکھ کر راستے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور جب مجبوریاں کمزوریاں بن جائیں توعوام بددل ہی نہیں بدظن بھی ہو جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *