اقلیتوں سے متعلق مرکزی حکومت کی نفع بخش اسکیمیں

Share Article

چوتھی دنیا اخبار اپنے قارئین کو اقلیتوں کی فلاح سے متعلق مرکزی حکومت کی نفع بخش اسکیموں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے یہ کالم شروع کرنے جا رہا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ ہماری کوشش رہے گی کہ ہم آپ کو ان اسکیموں کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کرائیں، ساتھ ہی اگر آپ کے پاس ان اسکیموں سے متعلق کوئی سوال ہو تو وہ آپ ہمیں لکھ کر بھیجیں، تاکہ ہم متعلقہ سرکاری محکموں سے رابطہ کرکے ان کے جواب آپ کو دے سکیں اور اس سمت میں آپ کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔

سال 2005 میں مرکزی حکومت کی طرف سے سچر کمیٹی کی تشکیل کرکے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ملک میں مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی صورتِ حال کیا ہے۔ 2006 کے اخیر تک اس کمیٹی نے اپنی فائنل رپورٹ مرکزی حکومت کو سونپ دی۔ اس رپورٹ کے انکشافات حیران کردینے والے تھے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس ملک میں مجموعی طور پر مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی بد تر ہے۔ لہٰذا مرکزی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے اس پچھڑے پن کو دور کرنے کے لیے، سچر کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر چند اسکیمیں بنائی گئی ہیں، تاکہ مسلمانوں کو بھی دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ ترقی کے مواقع فراہم کرائے جاسکیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ رہی کہ ملک کے زیادہ تر مسلمانوں کو ابھی تک ان اسکیموں کے بارے میں صحیح معلومات حاصل نہیں ہیں، جس سے وہ ان اسکیموں سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ اس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ ساتھ مسلم تنظیموں کی بھی کوتاہی رہی کہ وہ ان اسکیموں کے بارے میں مسلمانوں کو معلومات حاصل نہیں کراسکے، یہی وجہ ہے کہ آج اس قسم کی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختص کی گئی رقم کا ایک بڑا حصہ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو واپس کر دیا جاتا ہے، جس کو لے کر گزشتہ دنوں اقلیتی امور کے وزیر، سلمان خورشید کی کافی مذمت بھی ہوئی۔
قومی اقلیتی کمیشن : حکومت ہند نے اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے 1978 میں ایک اقلیتی کمیشن قائم کیا تھا۔ قومی اقلیتی کمیشن ایکٹ 1992 وضع ہونے کے ساتھ ہی اقلیتی کمیشن قانونی ادارہ بنا اور اس کا از سر نو نام ’’قومی اقلیتی کمیشن‘‘ رکھا گیا، جو وزارت برائے اقلیتی امور کے تحت کام کرتا ہے۔ کمیشن کے موجودہ چیئرمین وجاہت حبیب اللہ ہیں۔وزارت برائے اقلیتی امور کی تشکیل جنوری 2006 میں کی گئی تھی اور سلمان خورشید صاحب اس کے موجودہ وزیر ہیں۔ اقلیتوں کے لیے مالیاتی امداد کی اسکیمیں اسی وزارت کے تحت آتی ہیں۔ اسکالرشپ، مفت کوچنگ، کثیر شعبہ جاتی ترقیاتی پروگرام اور متعدد اور بھی کئی پروگرام وزارتِ اقلیتی امور کے تحت راست طور پر آتے ہیں۔ اقلیتی امور کی وزارت کے معاون ادارے درج ذیل ہیں :
.1 ’مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن‘ (ایم اے ای ایف): اسے 1989 میں، تعلیمی طور پر پس ماندہ اقلیتوں کے فائدے کے لیے تعلیمی اسکیمیں وضع کرنے اور انہیں نافذ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہ اسکولوں، کالجوں، ووکیشنل اور تکنیکی و تربیتی مراکز اور اداروں کے قیام کے لیے مالیاتی امداد فراہم کرتا ہے۔
.2 سنٹرل وقف کونسل (سی ڈبلیو سی): یہ ایک قانونی ادارہ ہے، جسے دسمبر 1969 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے خاص کام ہیں : وقف بورڈوں کے کام کاج سے متعلق معاملات پر حکومت کو صلاح دینا، اوقاف انتظامیہ اور مسجدوں، درگاہوں کی انتظامیہ جیسے مذہبی معاملات اور املاک کا مناسب مینجمنٹ، شہری وقف املاک کی ترقیاتی اسکیموں کو بڑھاوا دینا اور کمیونٹی کے لیے تعلیمی ترقیاتی پروگرام بنانا۔
.3 قومی اقلیتی ترقیاتی اور مالیاتی کارپوریشن: اسے 1994 میں اقلیتوں کے غریب ترین طبقے کی معاشی ترقی کو بڑھانے کے خاص مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔ اس کے تحت بہت سی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں، جن میں قرض، تعلیمی قرض اور چھوٹی مالیاتی اسکیمیں اور ترقیاتی اسکیمیں بشمول ووکیشنل ٹریننگ اور ہنر کے معیار کو بڑھانے کی اسکیمیں شامل ہیں۔
.4 مذہبی اور لسانی اقلیتوں کا قومی کمیشن: اس کمیشن کا قیام حکومت کے ذریعے مذہبی اور لسانی اقلیتوں میں سماجی اور معاشی طور پر پس ماندہ طبقات کے لیے فلاح و بہبود کی سفارش کے ساتھ کیا گیا تھا۔ لسانی اقلیتوں کے کمشنر کا دفتر، جو وزارت اقلیتی امور کے تحت آتا ہے، جولائی 1957 میں آئین کے تحت لسانی اقلیتوں کو فراہم کیے گئے تحفظ سے متعلق سبھی امور کی تفتیش کے لیے بنایا گیا اور وہ ان معاملات کو، صدر جمہوریہ کو ان کی حسب ہدایت وقفہ وقفہ پر رپورٹ کرتا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے ان رپورٹوں کو پیش کیا جاتا ہے اور متعلقہ ریاستوں کے پاس انہیں بھیجا جاتا ہے۔
.5 قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل): اسے وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کے تحت ایک خود مختار ادارہ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اس نے اردو زبان کے فروغ کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر اپنا کام 1996 سے کرنا شروع کیا۔ اس کے بنیادی کام ہیں اردو کی تدریس، مسودوں اور مخطوطات کی اشاعت، سیمینار اور ورکشاپ کا انعقاد اور اردو کے فروغ سے متعلق متعدد اسکیموں کی دیکھ بھال۔

Share Article

One thought on “اقلیتوں سے متعلق مرکزی حکومت کی نفع بخش اسکیمیں

  • August 4, 2012 at 7:09 pm
    Permalink

    bahut khoob hai allah apki mehnat ko qabol kare

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *