اصل ایشو گائے نہیں، سیاست ہے

یکم اپریل کو الور میںمویشی پالنے والے کسان 55 سالہ پہلو خان کو دن دہاڑے بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔کچھ لوگ اس بھیڑ کو ’گئو رکشا‘ گروپ کا نام دے رہے ہیں۔ ان کی موت ’گئو رکشا‘ کے نام پر ہورہے قتلوں کی فہرست میںایک اور نام جوڑنے والی ہے۔ ا س کی شروعات اکتوبر 2015 میں دہلی سے سٹے دادری میں محمداخلاق کے قتل سے ہوئی تھی۔ اس وقت سے لے کراب تک ہندوستان کی گائے پٹی میںانسانی حقوق پر گائے کے حقوق ترجیح حاصل کرتے جارہے ہیں۔ کیونکہ گئو رکشا کے نام پر مویشیوںکی آمدورفت کا پتہ لگا کر چنندہ طریقہ سے یا تو مسلمانوںکو پیٹا جارہا ہے یا دلتوںکو ۔ جب یہ سب ہوتا ہیتو قانون لاگو کرنے والے تماشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ اس میں بھی سب سے برا پہلو یہ ہے کہ متاثرہ لوگوںکو ہی گرفتار کیا جارہا ہے اور حملہ کرنے والوںکو گمنام شخص کہہ کر چھوڑ ا جارہا ہے۔
اخلاق کے قتل کے بعد گجرات، اترپردیش، جھارکھنڈ، مہاراشٹر اور کرناٹک میں گائے پر جارحانہ سیاست کی جارہی ہے۔ ان ریاستوںمیں کرناٹک کو چھوڑ کر ہر جگہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار ہے۔سپریم کورٹ میںایک ایسی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت چل رہی ہے جس میں جانوروںکی حفاظت کے قانون میں تبدیلی کی مانگ کی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں اس بارے میں1976 کا جو قانون ہے اس میں گئو رکشا کے نام پر جرائم کو انجام دینے والے لوگوں کے چھوٹ جانے کا نظم ہے۔ جن چھ ریاستوں کا ذکر اس عرضی میںکیا گیا ہے، ان کے علاوہ مدھیہ پردیش، ہریانہ، جموں و کشمیر اور دہلی میںبھی گئو رکشا کے نام پر تشدد کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ ان میںسے آخر کی دو ریاستوںمیں ہوئے واقعے کے ویڈیو بھی ہیں۔ پہلو خان پر حملہ کے ویڈیو بھی ہیں ۔ یہ دکھاتے ہیںکہ کس بے رحمی سے بھیڑ حملے کررہی ہے اور پولیس تماشائی بنی ہوئی ہے۔ جموںو کشمیر کے ریاسی ضلع کا ویڈیو دل دہلانے والا ہے۔ اس میںایک ماںبھیڑ سے اپنے بچوںکو بچانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ بھیڑ ان کے گئو پالن کے عارضی ڈھانچہ کو تہس نہس کررہی ہے۔
کسی بھی مہذب معاشرے میںیہ واقعات غصے کو جنم دیںگے۔ لیکن ہندوستان میں جب ان کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے تو افسروںکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی بلکہ ان واقعات کو بڑھاوا دینے کا ہی کام ہورہا ہے۔ الور کے واقعہ کے بعد راجستھان کے بی جے پی رکن اسمبلی گیان دیو نے کہا کہ انھیںاس واقعہ پر کوئی افسوس نہیں ہے جبکہ وزیر داخلہ گلاب چند کٹھیریا نے ایوان میںکہا کہ خان جانوروںکی اسمگلنگ کرتے تھے۔ راجستھان کے پولیس چیف نے ہی جو باتیںکہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ کٹھیریا جھوٹ بول رہے تھے۔ راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کی خاموشی اس وقت ٹوٹی جب راجیہ سبھا میںاس پر کافی ہنگامہ ہوا اور سابق نوکرشاہوںنے سخت بیان جاری کیا۔ کیاایسے ناپاک گٹھ جوڑ اور دوہرے رویہ کے دور میں خان جیسے عام لوگوںیا ان کے متعلقین کے لیے انصاف کاکوئی امکان ہے؟
بھلے ہی گائے ہندوتو کی سیاست کے مرکز میں ہو لیکن اصل مدعا گائے نہیں ہے ، دراصل گائے کی اتنی اہمیت ہے کہ سرکار ’آدھار‘ کی طرح ہی ایک پہچان نمبر اس کے لیے جاری کرنے والی ہے۔ اس کے لیے وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری کی ایک کمیٹی نے رپورٹ بھی دی ہے۔ اس میںکہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کو ہونے والی جانوروں کی غیرقانونی اسمگلنگ کو روکنے کا یہی راستہ ہے۔ اگر سولیسٹر جنرل نے یہ اطلاع سپریم کورٹ میںخود نہیںدی ہوتی تو ہم سب اس اطلاع کو ’جھوٹی خبر‘ مان کر خارج کردیتے۔
یہ سرکار کی چنندہ انصاف کی پالیسی کو دکھاتاہے۔ جہاںقانون پر عمل درآمد اس کے مطابق ہو، وہاںاسے سختی سے نافذ کیاجاتا ہے۔ جہاںقانون کا راج نہ ہونا، اس کے لیے سازگار ہو، وہاںویسا ہی کیا جاتا ہے ۔ کشمیر میںحکومت ہند کے خلاف بے اطمینانی ظاہر کرنے والے نوجوانوں کے خلاف قانون پر عمل سختی سے کیا جارہا ہے۔ لیکن گئو رکشا کے نام پر لوگوںکو موت کے گھاٹ اتار رہے لوگوںپر قانون خاموش ہے۔ راجستھان کی ایک اہم گئو رکشک سادھوی کمل دیدی نے تو گئو رکشکوں کا موازنہ کھلے عام بھگت سنگھ اور چندر شیکھر آزاد سے کرڈالا۔
یہ سرکار کی ایک طرفہ ہوکر کام کرنے کی مثال ہے۔ سرکار کو اقلیتوں کی رائے کی کوئی فکر نہیںہے۔ یہ ملک میںکسی بھی طرح کی جمہوریت کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔ ہمیںپہلے سے ہی بکھرے ہوئے سماج کو اور توڑنے کے لیے فرقہ وارانہ فسادات کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ہم گئو رکشا کے نام پر ہورہے تشدد کے واقعات سے لگاتار اس طرف بڑھ رہے ہیں۔ الور، دہلی، دادری، لاتیہار، اونا، سونی پت، مندسور اور ملک کے کئی دیگر حصوںمیںہونے والے واقعات محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ واقعات نریندر مودی کے اس ’نیو انڈیا‘ کا حصہ ہیں، جہاں ایک مقدس گائے انسانی زندگی سے زیادہ اہم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *