اس انتخابی ہار سے سبق لینے کی ضرورت ہے

Share Article

SATOSH-SIRاترپردیش اسمبلی انتخابات میںبی جے پی کو ملی غیر متوقع جیت اکھلیش یادو، مایاوتی او رکانگریس کو بہت پریشان کررہی ہوگی۔ اصل میںپہلی غلطی اکھلیش یادو کی ہے، جنھوںنے اترپردیش میںمہا گٹھ بندھن نہیںبنایا۔ اب اکھلیش یادو کو اس بات کا احساس ہوگا کہ اگر پارٹی میںصحیح لوگ نہیںہوں، تو وہ آپ کو ویسی ہی خبریں دیں گے، جو آپ کو اچھی لگتی ہوں۔اگر آپ انٹیلی جنس ایجنسیز کا استعمال کرتے ہیںتو بھی آپ کو ویسی ہی خبریںملیںگی ، جیسی آپ سننا چاہتے ہیں۔ آپ کو سچ نہیںملتا ہے۔یہ بہتوںکے ساتھ بہت بار ہوا ہے۔ اٹل جی،منموہن سنگھ جی اور اس سے پہلے نرسمہا راؤ کے ساتھ ہوا، لیکن ہر شخص یہ غلطی دوہراتا ہی ہے۔ ا س کے باوجود اکھلیش یادو اگر بہار سے سبق لے کر انتہائی جوش میںنہیںہوتے یا دوسرے الفاظ میں، تکبر میںنہیںہوتے، تو وہ اپنے ساتھ اجیت سنگھ،نتیش کمار اور چھوٹی چھوٹی پارٹیوںکو بھی رکھتے،جن میںپیس پارٹی کا نام اہم ہے۔ پھر دیکھتے کہ وہ اترپردیش میں کس طرح دوبارہ اقتدار پر قابض ہوتے۔ انھوںنے الیکشن کے بعد مایاوتی جی کا ساتھ لینے کا اعلان کیا لیکن اگریہی وہ پہلے کرلیتے تو جو ووٹ ملے ہیں، وہ یہ بتاتے ہیںکہ اس وقت اکھلیش یادو بہت بڑی اکثریت میںہوتے۔
کانگریس، ایس پی او ربی ایس پی کے کل ملے ووٹوںکو جوڑ دیں تو یہ بی جے پی کو ملے ووٹ سے بہت زیادہ ہیں، یعنی کانگریس ،ایس پی گٹھ بندھن کے ساتھ اگر بی ایس پی بھی ہوتی تو ممکن ہے کہ آج رزلٹ بالکل الگ ہوتا۔اگر اس میںاجیت سنگھ او رنتیش کمار بھی ہوتے، تب تو یہ کوئی جنگ تھی ہی نہیں ، الیکشن کمیشن نے شام چار بجے تک جو اعداد وشمار جاری کیے، اس کے مطابق بی جے پی کو یوپی الیکشن میںصرف 39.6 فیصد ووٹ ملے ہیں، جبکہ بی ایس پی کو بے حد کم سیٹ ملنے کے باوجود 22 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ دوسری طرف ایس پی کو 21.9 فیصد اور کانگریس کو 6.3 فیصد لوگوںنے ووٹ دیے۔ حالانکہ ووٹ بٹ جانے کی وجہ سے زیادہ تر سیٹوں پر بی جے پی کی جیت ہوئی ہے۔ایسے میںاگر بہوجن سماج پارٹی ،سماجوادی پارٹی اور کانگریس کا گٹھ بندھن ہوتا تو کل50 فیصد ووٹ ایک جگہ ہوسکتے تھے۔
بہار میںایک دوسرے کے بے حد مخالف رہے لالو یادو اور نتیش کمار الیکشن کے وقت ساتھ ہوگئے تھے۔ 2015 اسمبلی انتخابات میںراشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یونائٹیڈ نے کانگریس کے ساتھ ایک مہا گٹھ بندھن تیار کیا تھا۔ اس وجہ سے بی جے پی کو 24 فیصد ووٹ ملے تھے لیکن سیٹیں نہیںمل پائی تھیں۔ آر جے ڈی کا 18 فیصد ،جے ڈی یو کا 16 فیصد اور کانگریس کا 6 فیصد ووٹ ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے انھیں178 سیٹیںمل گئی تھیں۔ دوسری طرف این ڈی اے کے پاس 58 سیٹیں آئی تھیں۔ ایسے میں یوپی الیکشن کا تاریخی رزلٹ اب مایاوتی اور اکھلیش کو ساتھ نہ آنے کی غلطی کا احساس کراسکتا ہے، لیکن کہاوت تو وہی ہے کہ اب پچھتائے ہوت کیا، جب چڑیا چگ گئی کھیت۔
ان غلطیوںکے بعد بھی مسلمانوںکے بیچ کا کنفیوژن ،الیکشن میںراہل گاندھی کا عوام سے پوری طور پر بات چیت نہ کرپانا، انتخابی تشہیر کے دوران سماجوادی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے اندر ایک میکنزم کا نہ بن پانا، ان اسباب نے کارکنوںکو ساتھ نہیںآنے دیا۔ دوسرا، کانگریس پارٹی کے لوگ سماجوادی پارٹی یا اکھلیش یادو کا منچ شیئر نہیںکرتے تھے، منچ پر حصہ داری نہیںکرتے تھے، اگرچہ انھیںپاس بھیجے جاتے تھے۔ کانگریس پارٹی نے اپنے لیڈروںکو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ وہیںمیٹنگ میںجائیں جہاں اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کی مشترکہ ریلی ہو۔اس فیصلہ نے کانگریس پارٹی کو سماجوادی پارٹی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر لڑنے نہیںدیا۔
عظیم اسٹریٹجسٹ شری پرشانت کشور،جن کی مارکیٹنگ نتیش کمار نے بہار الیکشن کے بعد کی،نے جس طریقے سے پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی کو بے وقوف بنایا، ا س کا کوئی جواب نہیںہے۔ انھوںنے پرینکا گاندھی سے کہا تھا کہ کانگریس کو 77 کے آس پاس سیٹیںآئیں گی۔ اس پر پرینکا گاندھی نے بھی یقین کرلیا او ر ساری حکمت عملی پرشانت کشور کے کہنے پر بنائی۔ یہاںپر کانگریس کے لیڈروںکو یہ سمجھ میںنہیںآیا کہ سیاسی کارکنوں او رپی آر ایجنسی چلانے والے میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ پی آر ایجنسی چلانے والا پیسے لے کر کام کرتا ہے جبکہ سیاسی ورکر اپنا خون دے کر کام کرتا ہے۔ کانگریس نے اپنے لیڈروں ،پالیٹکل ورکرس پر کوئی بھروسہ نہیںکیا۔پرشانت کشور کے کہنے سے انھوںنے اکھلیش یادو سے سمجھوتہ کیا۔نتیجے کے طور پر پوری کانگریس پارٹی، اس کے سارے کارکنان، کچھ چندلیڈروں کو چھوڑ دیں، سب اپنے گھر بیٹھ گئے۔ سیاستدانوںکو سمجھنا چاہیے کہ وہ پانچ سال جو پرچار کرتے ہیں،وہ آخری ایک مہینے میںنہیںبدلا جاسکتا۔ لوگوںکے پاس وہ بات بہت سنجیدگی سے پہنچ چکی ہوتی ہے۔
شاید پرینکا گاندھی کو یہی ڈر لگا ہوگا ،جس کے سبب انھوںنے الیکشن میںکانگریس کا پرچار نہیںکیا۔ کانگریس کا چھوڑ دیجئے، انھوںنے امیٹھی اور رائے بریلی میںبھی پرچار نہیںکیا۔ امیٹھی اور رائے بریلی کی سیٹیںبھی بھارتیہ جنتا پارٹی بڑی تعداد میںجیت گئی۔ یہاںتک کہ سنجے سنگھ کے صرف ا میٹھی میں پرچار میںلگے رہنے کے باوجود وہ اپنی بیوی امیتا سنگھ کو الیکشن نہیںجتا پائے۔
الیکشن کے دوران ناشائستہ اور غیر مہذب زبان،طرح طرح کے وعدے ہمیں دیکھنے کو ملے، لیکن یہ ساری چیزیںکم سے کم جمہوری نہیںتھیں۔ اترپردیش کا یہ الیکشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے پوری طرح سے جمہوری اور کانگریس و سماجوادی پارٹی کے لیے سخت غیر جمہوری رہا۔ کانگریس کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ راہل گاندھی کے انتخابی پرچار کرنے اور گٹھ بندھن کے باوجود ان کے پاس صرف 7 سیٹیںکیسے آئیں لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ کانگریس اس کا کوئی بھی تجزیہ نہیںکرے گی۔ نہ ہی اس ہار سے کوئی سبق لے گی اور نہ ہی اپنے اُن لوگوںکو یاد کرے گی، جو سیاست میںماہرہیں۔ اکھلیش یادو تو یہ مان بیٹھے ہیںکہ انھیںہرانے میں شیو پال یادو اور ملائم سنگھ یادو کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انھیںچاہیے کہ وہ اپنے والد صاحب کے پاس جائیں او ران کی صلاح سے کی ہوئی غلطیوںکو سدھاریں۔ ان کے پاس عمر ہے لیکن انھیںتھوڑا بہت سماجواد اور تحریکوںکے بارے میںبھی سمجھنا چاہیے او رلوگوںکو پہچاننے کا فن آنا چاہیے۔ تکبر ہوتا ہے،لیکن اتنا تکبر نہیںہونا چاہیے کہ وہ آپ کے سیاسی مستقبل پر ہی رکاوٹ کھڑی کرنے لگے۔اترپردیش کا الیکشن ساری پارٹیوںکے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی سبق دیتاہے کہ اگر آپ بڑبولاپن کریںگے،کام نہیںکریںگے،لوگوںکو جھوٹے خواب دکھائیںگے، جھوٹ بولیں گے،تکبرکریںگے،تو آپ کے لیے اگلا اسمبلی الیکشن بھلے ہی مشکل نہ ہو، لیکن پارلیمانی الیکشن میںآپ وہ نہیںکرپائیںگے جو آپ کے وزیر اعظم آپ سے توقع کرتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *