اسمبلی انتخابات نوٹ بندی کام نہیں آرہی ہے بی جے پی کے

Share Article

damiبھارتیہ جنتا پارٹی کیپالیسی سازوں کو یہ امید تھی کہ نوٹ بندی کے بعد اترپردیش میں بی جے پی کو بڑے پیمانے پر حمایت ملے گی، لیکن بی جے پی کو ناامیدی ہی ہاتھ لگی ہے۔ ریاست میں چل رہی ’پریورتن یاترا‘ میںعوامی شرکت کے معاملے میں پوری طرح فلاپ ہوئی ہے۔ جس نوٹ بندی کو بی جے پی کے لیڈر یوپی انتخاب کے لیے ماسٹر اسٹروک مان رہے تھے، وہ الٹا ہی اسٹروک کررہا ہے۔ ہاں، سیاسی پارٹیوں کے لیے نوٹ بندی نے زمینی مشکلیں ضرور کھڑی کردی ہیں، لیکن بی جے پی کو بھی ان مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یوپی کے انتخابات کو ملک بھر میں سب سے زیادہ خرچیلا مانا جاتا ہے۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کا کل بجٹ چار ہزار کروڑ سے زیادہ کا ہوتا ہے اور اس میں سے 90 فیصد سے زیادہ کا لین دین نقد کے طور پر ہوتا رہا ہے۔ نوٹ بندی کے سبب سیاسی جماعتوں کے سامنے پیچیدہ صورت حال پیدا ہوگی ہے۔
پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کو جس طرح کیش کرانے کی کوشش کی گئی اسی طرح نوٹ بندی کا بھی فائدہ اٹھانے کی بساط بچھائی گئی تھی۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو ہدایت دی اور نوٹ بندی کا فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی سمجھائی۔ شاہ نے انھیں سمجھایا کہ نوٹ بندی عام لوگوں کے لیے تکلیف دہ تو ہے، لیکن کالے دھن کے مدعے پر لوگوں کو جذباتی طور پر جوڑا جائے۔ شاہ کا ماننا تھا کہ حالات سدھریں گے تو لوگوں کی ناراضگی بھی کم ہوگی اور کالے دھن کو لے کر لوگوں کی حمایت بی جے پی کو ملے گی۔ لیکن امید کے مطابق نہیں ہورہا ہے۔ لوگوں کی ناراضگی کم نہیں ہورہی ہے۔ دوسری طرف سیاسی جماعتیں پریشان ہیں۔ انتخابی ریلیوں اور دیگر انتظامات کے علاوہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ووٹروں کے بیچ نقدی اور تحائف بانٹے جاتے رہے ہیں۔ اب یہ کام مشکل ہوگیا ہے۔ ریلیوں میں ہونے والے بھاری خرچ کا بندوبست کرنا اور اس کا لین دین دکھانا اب کافی مشکل والا کام ہوگا۔ کانگریس تو کہہ رہی ہے کہ بی جے پی کے تعلق بڑے بڑے کارپوریٹ گھرانوں سے ہیں، ا س لیے بی جے پی کو فنڈنگ میں دقت پیش نہیں آئے گی۔ حالانکہ ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں کے تعلق دولتمند لوگوں سے ہیں، لیکن جن کاموں کے لیے 80 سے 95 فیصد تک نقد سے کام چلتا تھا، اب اس میں مشکل پیش آئے گی۔ ریلیوں، سبھاؤں اور تشہیری کاموں کے لیے پیشہ ور ایونٹ منیجروں سے خدمات لینے کے حالیہ فیشن پر بھی نوٹ بندی سے نقصان ہوا ہے۔
ایونٹ مینجمنٹ کے اداروں کو سیاسی پارٹیوں کی طرف سے موٹی رقم کیش میں ہی ملا کرتی تھی۔ سال 2014 کے انتخاب میں مختلف پارٹیوں نے ریکارڈ 37000 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد بدلی ہوئے حالات میںانتخابی تشہیر کے کام آرگنائزڈ کرائم کی شکل لیں گے۔ مستقبل میں اس کا ٹھیکہ مافیائی طور طریقوں سے نمٹا یا جائے گا۔ ریلیوں کے لیے سیدھے رنگداری ٹیکس وصولی کے اسٹائل سے ادائیگی کرادی جائے گی اور ووٹروں کو لبھانے کا کام موبائل فون ریچارج کے ذریعہ یا مقامی کاروباریوں کے ذریعہ نمٹایا جائے گا۔
نوٹ بندی کے فیصلے کے سیاسی نفع نقصان پر بی جے پی لیڈر چار لوک سبھا اور 10 ودھان سبھا سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب اور مہاراشٹر کے مقامی بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کو ملی جیت کی مثال پیش کرتے ہیں، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان ریاستوں میں بی جے پی کی سرکار پہلے سے ہے ۔ سوال تو دراصل یہ ہے کہ نوٹ بندی یوپی سمیت پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات پر کیا اثر ڈالے گی۔ اترپردیش کے زمینی حالات پر کوئی بات نہیں کررہاہے۔ یوپی میں بے روزگاری چوطرفہ بڑھی ہے۔ بڑی تعداد میںکسان مزدور ، ہنرمند کاریگر اور مزدور کام کی تلاش میںدیگر ریاستوں کی طرف نقل مکانی کرنے کو مجبور ہورہے ہیں۔ بنارس کی ساڑی صنعت سے جڑے بنکر ہوں، مرادآباد کے پیتل تراشنے والے ہوں یا پھر کانپور، آگرہ کی صنعت سے جڑے مزدور، سبھی کے پاس کام کا قحط پڑگیا ہے۔ حکمراںسماجوادی پارٹی سے لے کر دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی اب اس کا ٹھیکرا نوٹ بندی کے فیصلے پر ہی پھوڑ رہی ہیں۔
کئی ہندو پرست تنظیمیں بھی نوٹ بندی کے فیصلے کی مذمت کررہی ہیں۔ اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا نے تو نوٹ بندی کے فیصلے کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی پر کھلا نشانہ سادھا ہے۔ مہا سبھا کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کے نام پر شادیوں کے سیزن سے ٹھیک پہلے ہندوؤں کو پریشان کیا گیا۔ تنظیم کی قومی سکریٹری پوجا شکن پانڈے نے کہا کہ ملک کونوٹ بندی کی نہیں ویمودی کرن کی ضرورت ہے۔ نوٹ بندی کے سبب لوگوں کی پریشانیوں کو لے کر انھوں نے کہا کہ مودی سرکار ہندوتو مخالف ہے۔ مودی نے ہندوشادیوں سے پہلے نوٹ بندی کا فیصلہ نافذ کردیا۔ مودی نے خود کہا ہے کہ انھوں نے کافی سوچ سمجھ کر اسے نافذ کیا ہے۔ یعنی مودی کو پہلے سے پتہ تھا کہ شادی بیاہ کا موسم آنے والا ہے اور ایسے وقت میں نوٹ بندی سے لوگوں کو خوفناک پریشانی ہونے والی ہے۔
ملک کو نوٹ بندی کی نہیں، بلکہ ویمودی کرن کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ نوٹ بندی سے پور ے غیر منظم سیکٹر کونقصان پہنچا ہے۔ خاص طور پر غیر منظم مالیاتی شعبہ جو بینک قرض دینے یا مجموعی گھریلو مصنوعات کے 26 فیصد کے لیے ذمہ دار ہیں، یہ سیکٹر گاؤں کے کسانوں اور کم آمدنی والے لوگوں کو بچت اور قرض کی سہولیات فراہم کراتے ہیں۔ ملک کی معیشت میں 50 فیصد سے زیادہ کا تعاون کرنے والے غیر منظم یا غیر رسمی سیکٹر کے لوگوں کی کل مزدورآبادی میں حصہ 80 فیصد ہے۔ پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کو ایکبارگی انویلڈ ٹیکس دینے سے تجارت اور معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یوپی کے چھوٹے کاروباری کہتے ہیں کہ کالا دھن نہیں ہوتے ہوئے بھی ہمیں ہی خمیازہ کیوں بھگتنا پڑا۔ نوٹ بندی سے ریاست میں ربیع کی فصلوں کی بوائی تھم گئی۔ گیہوں ،تربوز، سرسوں، پالک سمیت بیجوں کی فروخت چھوٹے نوٹ کی کمی سے وجہ سے 70 فیصد سے زیادہ متاثر ہوئی۔
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے نوٹ بندی پر اپنا سیاسی پتہ پھینک دیا۔ نوٹ بندی کے سبب ریاست میں جن لوگوں کی موت ہوئی ان کے لواحقین کو وزیر اعلیٰ فنڈ سے پانچ لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعہ کو افسوسناک بتاتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ ریاست کو ریاستی عوام کو اپنا ہی پیسہ نکالنے کے لیے اس طرح بینکوں اور اے ٹی ایم کی لائن میں دھکے کھانا انتہائی پریشان کن ہے۔
رضیہ حسین کارخانے سے مزدوری کے طور پر ملے 500-500 کے چھ نوٹ بدلوانے کے لیے اپنے نزدیکی بینک میں لگاتار تین دن تک کوشش کرتی رہیں، لیکن کامیاب نہیں ہوپائیں تو خود کو آگ لگالی۔ سنگین حالت میں پہلے علی گڑھ کے ملکھان سنگھ اسپتال اور جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں ان کا علاج ہوا، بعد میں انھیں دہلی کے صفدر گنج اسپتال میںبھرتی کرایا گیا، جہاں ان کی موت واقع ہوگئی۔ رضیہ حسین کے خاندان کو پانچ لاکھ روپے کی مالی مدد کے اعلان کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے اترپردیش میںنوٹ بدلوانے کی قطار میں مرنے والے اقتصادی طور پر کمزور لوگوںکے لواحقین کو دو لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔
نوٹ بندی کے سبب اترپردیش میںریونیو کی وصولی گزشتہ سال کے مقابلے میں آدھی ہوگئی ہے۔ اتر پردیش سرکار کے سرکاری اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ٹیکس وصولی میں 50 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ حکومت کو بھیجی گئی رپورٹ بتاتی ہے کہ ایکسائز، سیل ٹیکس، اسٹامپ ڈیوٹی سمیت ٹیکس کی وصولی کے دیگر دوسرے ذرائع سے 50 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ اس سال نومبر مہینے میں 1,104 کروڑ روپے کی وصولیابی ہوئی جو کہ گزشتہ سال اسی مدت میں ہوئی وصولیابی سے آدھی ہے۔
سرکار کے منڈی محکمہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ نوٹ بندی کے سبب کسانوں اور تاجروں کے بیچ لین دین میںبھاری کمی آئی ہے۔ منڈی فیس کی وصولیابی میںتقریباً 45 فیصد ہدف کم رہ گیا ہے۔ نگر نگم اور جل کل محکمہ کی ٹیکس وصولی بھی پچھلے سال کے مقابلے میں 38 فیصد کم ہوئی ہے۔ بزنس ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق کاروباریوں پر اس نوٹ بندی کا کافی اثر پڑا، جس کی وجہ سے بزنس ٹیکس کی وصولیابی میں49 فیصد کی کمی رہی۔ اسٹامپ اور رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق لوگوں کے ذریعہ زمین کی رجسٹری اتنی کم ہوگئی کہ قریب 47 فیصد اسٹامپ کی فروخت کم ہوئی ہے۔ افسروں کو خدشہ ہے کہ اگر یہی حال رہاتو جلد ہی ریاستی سرکار کے لیے بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
نوٹ بندی کا اثر سرکاری تعمیرات اور ترقیاتی کاموں پر بھی پڑ رہا ہے۔ جنیشور مشر گرام یوجنا بھی نوٹ بندی سے متاثر ہورہی ہے۔ اس یوجنا کے تحت ضلع کے 40 گاؤں منتخب کرکے سی سی روڈ بنایا جانا تھا، لیکن نوٹ بندی کے سبب زیادہ تر گرام پنچایتوں میںاب تک کام شروع نہیںہوپایا۔ ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی سے پہلے مٹی، مورنگ اور بالو پہلے ادھار مل جاتا تھا، لیکن اب بلڈنگ میڑیل کے سپلائروں نے ادھار مال دینا بند کردیا ہے۔ منڈی پریشد کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی سے ترقیاتی کاموں پر اثر پڑرہا ہے۔ منڈیوںمیں خرید و فروخت پہلے کے مقابلے میں50 فیصد تک کم ہوگئی ہے۔ جنیشور مشر یوجنا میں اس بار ریاست کے دو ہزار گاؤں کو منتخب کیا گیا تھا۔ ہر گاؤں میں سی سی روڈ اور نالیوں کی تعمیر کرانے کا کام ٹھپ ہوگیا ہے۔
نوٹ بندی کے سبب ریاست کے سنیما گھر بھی بھاری نقصان جھیل رہے ہیں۔ محض ایک مہینے میں صرف لکھنؤ کے سنیما گھروں کو ایک کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ اس سے انٹرٹینمنٹ ٹیکس محکمہ کو بھی تگڑا جھٹکا لگا ہے۔ نوٹ بندی کے سبب صرف لکھنؤ کے سنیما گھروں کو ایک مہینے میںقریب 50 لاکھ روپے اور ملٹی پلیکس چلانے والوںکو تقریباً 70 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ حال یہ رہا کہ لکھنؤ کے ایک ملٹی پلیکس میں لگی فلم ’سانسیں‘ نے محض 324 روپے کی کمائی کی۔ دو ملٹی پلیکس میںلگی فلم ’موہ مایامنی‘ نے 405 روپے اور 1494 روپے کی کمائی کی۔
نوٹ بندی سے آلو کسان تو مرگئے۔ خریدار نہیں ملنے کی وجہ سے اتر پردیش کے کئی علاقوں میں آلو مفت میں بانٹے جانے کی خبریں ملیں۔ پوری دنیا میں آلو کی پیداوار میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔ اترپردیش 136 لاکھ ٹن آلو پیداوار کے ساتھ ملک میں پہلے مقام پر ہے۔ عام طور پر ریاست میں آلو کی پہلی بوائی 15-25ستمبر، دوسری بوائی 15-25 اکتوبر اور آخری بوائی 15 نومبر سے 25 دسمبر کے بیچ ہوتی ہے۔ آلو کی پیداوار کے بعد اسے کولڈ اسٹوریج میںرکھ دیا جاتا ہے، جہاںسے تاجروں کو فروخت کیا جاتا ہے اور کچھ آلو اگلے سال کے لیے بیج کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ نوٹ بندی لاگو ہونے سے تاجروں نے کولڈ اسٹوریج کی طرف رخ نہیں کیا۔ مانگ گر گئی تو کسانوں کے پاس کولڈ اسٹوریج کا کرایہ دینے کا پیسہ نہیںبچا۔ کولڈ اسٹوریج کے مالکوں نے آلو کو باہرنکال کر رکھ دیا۔ بارہ بنکی کے آلو کسان کہتے ہیںکہ کولڈ اسٹوریج کا کرایہ 200 روپے فی کوئنٹل ہے اور فروخت بمشکل 100 روپے کوئنٹل ہوگی۔ ایسے میں کسانوں نے کولڈ اسٹوریج کی طرف جانا ہی چھوڑ دیا۔ آلو کسان کی بدحالی دیکھتے ہوئے جون پور کے فوڈ اینڈ پروسیسنگ محکمہ کے افسر سی بی پانڈے نے استعفیٰ دے دیا۔
پور ے اترپردیش میں ایسے ہی حالات ہیں۔ اوریا اور فرخ آباد میںتو کولڈ اسٹوریج مالکوں نے اپنے موبائل نمبر جاری کردیے ہیں جس پر فون کرکے کوئی بھی آلو لے جاسکتا ہے۔ ایک کولڈ اسٹوریج کے مالک کہتے ہیںکہ دام اتنے گر گئے ہیںکہ 100-50 روپے فی کوئنٹل بیچنے کا کوئی مطلب نہیں ہے، اس سے اچھا ہے اسے بانٹ دیا جائے۔ اوریا میںتو کئی کولڈ اسٹوریج نے مفت میں آلو دینے کا عام اعلان کررکھا ہے۔ کانپور میں بلہور کے بلاک پرمکھ انل کٹیار نے بھی اعلان کیا ہے کہ غریب لوگ ان سے مفت میںآلو لے جاسکتے ہیں۔ آلو پیدا کرنے والے اہم ضلع شکوہ آبادہ ، اٹاوہ، فیروزآباد میںبھی کولڈ اسٹور آلو سے پٹے پڑے ہیں۔ ان کی نکاسی کا بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ سرکار کہتی ہے کہ سال 2016-17میں ریاست میں 180 لاکھ میٹرک ٹن آلو پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ریاست میں کل 1651 کولڈ اسٹوریج ہیں جن کی اسٹوریج کرنے کی صلاحیت 150 لاکھ میٹرک ٹن ہی ہے۔ ایسے میں آلو کا کیا ہوگا؟ بھگوان ہی مالک ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *