اترپردیش کا ’کنگ میکر‘ مسلمان کیوں ہوگیا بے اثر؟

Share Article

damiاترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کے آنے کے بعد ذہن میںجو سوال سب سے پہلے اٹھتا ہے، وہ یہ ہے کہ ’کنگ میکر‘ کہے جانے والے مسلمانوں کا کیا رول رہا؟ کیا انھوںنے ان سیاسی پارٹیوںکو مایوس کیا جو ان کے ووٹ کی طرف نظر گڑائے ہوئے تھیں؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست میں 19.26 فیصد آبادی ہونے کے باوجود ان پارٹیوں کے لیے مجموعی طور پر مسلم ووٹ بے اثر ہوگیا۔ اس کے کئی اسباب ہیں۔ ایک سبب تو یہ ہے کہ جو سیاسی پارٹیاںمسلمانوںسے امید رکھ رہی تھیں اور اپنی کامیابی میںان کے رول کو دیکھ رہی تھیں،ان کا مسلمانوں کے لیے کوئی قابل ذکر ایجنڈا تھا ہی نہیں۔ ان میں سے شاید کچھ یہ سمجھ رہی تھیں کہ سیکولر کہلانے والی چند پارٹیوں کے محض اتحاد یا ایلائنس سے ہی مسلم کمیونٹی میںخود بخود مثبت پیغام چلا جائے گا اور پھر مسلمانوں کا ووٹ بھی انھیں بڑی تعداد میںجائے گا۔ اس کے علاوہ یہ سمجھا گیا کہ زیادہ مسلمانوں کو ٹکٹ دے دینے سے یہ کمیونٹی اعتماد میں آجائے گی۔یہی وجہ ہے کہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے 99، سماجوادی پارٹی (ایس پی) نے56 اور کانگریس نے 19 مسلم امیدوار کھڑے کیے۔ عیاںرہے کہ 2012 کے اسمبلی انتخابات میںبی ایس پی کے 15، ایس پی کے 43 اور کانگریس کے 4 مسلم امیدوارکامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ اس بار 2017 میں بی ایس پی کے محض 5، ایس پی کے 18 اور کانگریس کے 2 امیدوار منتخب ہوئے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ 2012 میںکل 69 مسلم ارکان اسمبلی کے بالمقابل 2017 میں صرف 25 جیتے۔ اس طرح اسمبلی میںان کی نمائندگی 44 افراد سے کم ہوگئی۔
چونکہ سیکولر کہلانے والی ان پارٹیوں کے کامیاب مسلم امیدواروں کی مسلمانوںکے مسائل سے کوئی عملی دلچسپی پوری مدت نہیں رہتی ہے او رمظفر نگر – شاملی فسادات کے بعد ان میںسے کوئی متاثرین کی ہمدردی میں اٹھتا نہیں دکھتا ہے، نہ ہی ضیاء الحق کے جیسا قتل انھیںجھنجھوڑ تا ہے اور نہ ہی بسارا میں اخلاق کی دردناک ہلاکت انھیںبے چین کرتی ہے اور اسی طرح بے گناہ اور معصوم نوجوانوں کا پابند سلاسل ہوناان کی راتوں کی نیند حرام نہیں کرتا ہے، اس لیے مجموعی طور پر مسلم ووٹرس سیاسی پارٹیوںکی طرف سے مسلم امیدواروں کو محض ٹکٹ دینے سے متاثر نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلم ارکان اسمبلی میںان کی دلچسپی تبھی ہوگی جب وہ ان کے ایشوز اور مسائل میںدلچسپی لیںگے۔
اس بار ریاست کامسلمان ان پارٹیوںکے منشوروں میںبھی کوئی کشش محسوس نہیں کررہا تھا۔ بی ایس پی نے تو کوئی منشور ریلیز ہی نہیںکیا تھا۔ ایس پی نے اپنے 2017 کے منشور میں ان تمام بنیادی ایشوز سے پرہیز کیا تھا جو 2012 کے اس کے منشور میں بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ جیسے سچر رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے تعلق سے اس کے کل 16 نکات میں سے 3 نکات تھے جس پر اس نے سب سے زیادہ زور دیا تھا۔ لیکن 2017 کے 17 نکاتی منشور میں اس کا ذکر تک نہیںتھا اور نہ ہی انتخابی مہم کے دوران اس کی طرف سے اس تعلق سے کوئی جواب آیا کہ آخر ان وعدوں کا کیا ہوا؟ ان پر عمل درآمد کیوںنہیںہوا؟ نیز اکھلیش یادو حکومت کے ذریعہ 14 اگست 2013 کو اقلیتوں کو مجموعی طور پر ترقی کے لیے 30 سرکاری محکمات کی 185 اسکیموں کے ذریعہ فائدہ پہنچانے کی غرض سے لیے گئے فیصلہ پر بھی کوئی عمل کیوں نہیں ہوا اور ان سب کے تعلق سے ٹال مٹول کی پالیسی کیوں اختیار کی گئی؟ اس پر بھی خموشی رہی کہ اقلیتی بہبود کی اسکیم پر 2014-15 میں کیا ہوا؟ 2015-16 میں بھی 28 سرکاری محکمات کی 65 اسکیموں میں اقلیتوں کے لیے کیے جانے والے کام کی بھی کوئی اطلاع نہیںدی گئی۔ ظاہر سی بات ہے کہ اقلیتوںبشمول مسلمانوں کے فلاح و بہبود اور امپاورمنٹ کے لیے گزشتہ 5 برسوں میں مسلمانوں نے برسراقتدار ایس پی کو 2017 کے انتخابی منشور میں خاموش پایا اور نئے منشور میں کچھ او رمبہم اور غیر واضح وعدے کرلیے گئے۔ ’چوتھی دنیا‘ نے اس تعلق سے باربار ایس پی حکومت کو توجہ دلائی مگر اس کا کوئی اثر نہیںہوا۔ اسی طرح 2012 کے منشور میں بے گناہ گرفتار مسلمانوں کو رہاکرانے کے لیے پرزور انداز میں وعدے کیے گئے تھے، ان کا بھی کچھ نہیں ہوا۔ ایک مقدمہ میں تو عدالت میں رہائی کے خلاف باضابطہ ایفی ڈیوٹ پیش کیا گیا۔ ’چوتھی دنیا‘ نے تو اس سلسلے میںاترپردیش کے بے گناہ اسیران کی اندرون اور بیرون ریاست فہرستیںبھی شائع کیں او راکھلیش حکومت کی اس جانب توجہ مبذول کرائی مگر اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔دریں اثناء ہاشم پورہ مقدمہ بھی عدالت میںحکومت کے ٹال مٹول کے انداز کی وجہ سے جھولتا رہا۔ اب رہی کانگریس کے منشور کی بات تو ایس پی سے اتحاد کرنے کے سبب اس نے بھی ان مسلمانوں کے ایشوز سے پرہیز کیا جن کے تعلق سے ایس پی نے مایوس کیا تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ ایس پی اور کانگریس دونوںنے مسلمانوں سے توقعات تو کیںمگر نہ اپنے اپنے منشور اور نہ ہی ایلائنس کے مشترکہ منشور میںکوئی واضح اور غیر مبہم وعدے کیے۔ علاوہ ازیں انتخابی میٹنگوں میںبھی مسلمانوںکے ایشوز او رمسائل قابل ذکر نہیں سمجھے گئے۔
جہاںتک بی ایس پی کی بات ہے، اس نے انتخابی منشور تو نہیںنکالا مگر انتخابی میٹنگوں میںمسلم ایشوز اور مسائل پر کھل کر بولی۔ مظفر نگر- شاملی فسادات ، ضیاء الحق کے گھر یا اخلاق کے بسارا بھی ان سانحات کے بعد وہ نہیںگئیں او رجب انتخابات کا موقع آیا تو دلت- مسلم سوشل انجینئرنگ کی بات کرلی اور ان کے بارے میں بولنے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے ان کے طرز عمل کے سبب ان کی2017 کے انتخابات کے موقع پر مسلم ایشوز او رمسائل میں پیدا ہوئی اچانک دلچسپی مسلمانوں میںکوئی کشش نہیں دکھاسکی۔ ان تینوںپارٹیوں کے علاوہ اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوک دل کا بھی یہی حال رہا۔ بی جے پی کے بارے میں کیا کہنا، اس نے تو مسلمانوں کے ایشوز اور مسائل پر نہ کوئی قابل ذکر بات اپنے منشور میںکی اور نہ ہی انتخابی میٹنگ میںاس کا تذکرہ کیا۔ ان سب کا مطلب یہ نکالا گیا کہ اسے مسلم ووٹوں سے کوئی لینا دینا نہیںہے۔ ویسے تو اس دوران یہ خبر بھی آئی کہ اسے اترپردیش میں9 فیصد مسلم ووٹ ملا ہے جو کہ قابل تحقیق ہے اور سبھوں کو حیران کرنے والی ہے۔
دراصل یہ صورت حال رہی ریاست اترپردیش میں2017 کے اسمبلی انتخابات کے دوران، جس کی وجہ سے مسلمانوں میںکسی بھی پارٹی کے لیے کوئی جھکاؤ نہیںپیدا ہوا اور پھر ریاست میں7 مرحلوں کی پولنگ میں جو ہوا ، وہ یہی تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میںمختلف سیاسی پارٹیوںکے مسلم امیدواروںکو مسلمانوں نے ووٹ دیا۔ یعنی مسلم ووٹ زیادہ تر حلقوں میںجم کر تقسیم ہوا او رپھر ہمیشہ کی طرح بی جے پی کو اس سے فائدہ ہوا اور وہ ان بیشتر مسلم اکثریتی حلقوں میںکامیاب رہی۔ تبھی تو گزشتہ بار مختلف پارٹیوں کے مسلم امیدواروں کے جیتے ہوئے 4 4 حلقوں میں اس بار بی جے پی ووٹ کی تقسیم کے سبب کامیاب ہوئی۔ یہ تو نہیںمعلوم کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم میںبی جے پی کا رول کیا رہا مگر ہمیشہ کی طرح اسے اس تقسیم سے خوب فائدہ ہوا۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلم تنظیمیں،ادارے او رگروپس اس تقسیم کو روکنے میںبری طرح ناکام رہے جس سے یہ ثابت ہوا کہ زمینی سطح پر ان کی کوئی پکڑ نہیں ہے، عام مسلمانوں سے سیاسی سطح پر کوئی ربط نہیں ہے او راس معاملے میں مسلم عوام میں جس کی سمجھ میںجو امیدوار مفید لگتا ہے ، وہ ان کا ووٹ پاجاتا ہے۔ یہ یقیناً لمحہ فکریہ ہے مختلف خانوں میںبٹی مسلم قیادتوں کے لیے۔ کیا وہ اب بھی جاگیںگی؟
صرف 25 مسلمان کامیاب ہوپائے
نمبر نام پارٹی حلقہ اسمبلی
1 محبوب علی ایس پی امروہہ
2 زاہد بیگ ـایس پی لکھنؤ ویسٹ
3 محمد فہیم ایس پی بلاری
4 نصیر احمد خاں ایس پی چمروہ
5 نفیس احمد ایس پی گوپال پور
6 ابرار احمد ایس پی ایسولی
7 ناہید حسن ایس پی کیرانہ
8 محمد رضوان ایس پی کندرکی
9 یاسر شاہ ایس پی میترا
10 رفیق انصاری ایس پی میرٹھ
11 حاجی اکرام قریشی ایس پی مرادآباد (دیہات)
12 تسلیم احمد ایس پی نجیب آباد
13 عالم بدیع اعظمی ایس پی نظام آباد
14 محمد اعظم خاں ایس پی رامپور
15 اقبال محمود ایس پی سنبھل
16 حاجی عرفان سولنکی ایس پی سیسہ مئو
17 محمد عبداللہ اعظم خاں ایس پی سوار
18 نواب جان ایس پی ٹھاکردوارہ
19 محمد اسلم بی ایس پی بھنگا
20 اسلم چودھری بی ایس پی دھولانہ
21 مختار انصاری بی ایس پی مئو
22 شاہ عالم عرف گڈو جمالی بی ایس پی مبارکپور
23 محمد مجتبیٰ صدیقی بی ایس پی پرتاپ پور
24 سہیل اختر کانگریس کانپور کینٹ
25 مسعود اختر کانگریس سہارنپور

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *