آسام کی جیت بی جے پی کا جوش بحال کرے گی

Share Article

میگھناد دیسائی
کسی سرکار کے لئے گزرا ہوا وقت کردار کی طرح ہوتا ہے۔ یہ وقت بتاتا ہے کہ کون کون سے کام ہو چکے ہیں اور کتنا کام کرنا باقی ہے۔یہ وقت وزیر اعظم کو ان کے کمزور سائڈ اور ان کے مضبوط سائڈ سے بھی آگاہ کراتا ہے۔ غیر ملکوں میں ہندوستان کی ایک بہتر شبیہ کی تعمیر میں کامیابی ملی ہے۔ ’لوک ایسٹ پالیسی،پاکستان کے ساتھ تعلق،چابہار کا چیلنج‘۔ ان سبھی مورچوں پر مودی کی چھاپ نظر آتی ہے۔ لگاتار دو سال کے سوکھے کے باوجود اقتصادی نظام مضبوط ہے۔ یہاں تک کہ مہنگائی ریٹ، خاص طور پر پیاز اور دالوں کی قیمتوں نے ہیڈلائنس نہیں بٹوری ہے۔
دلی میں انتہائی خود اعتمادی اور بہار میں غلط پالیسی کی وجہ سے ملی شکست کے بعد آسام کی جیت ان کے حوصلے کو بحال کرے گی۔ مودی ایک فاتح ہے۔آسام میں امیت شاہ نے پارٹی کے اندر کی روح کو منظم رکھا جس نے ان کی جیت یقینی کر دی۔ اس پورے عمل میں بہت کچھ سیکھنے کو تھا۔ بہر حال نو منتخب سرکار کو ایک بھروسہ ہے کہ لوک سبھا میں اکثریت طریقہ تعمیر کی ضمانت ہے،لیکن طریقہ تعمیر راجیہ سبھا کے ممبروں کی مرضی پر منحصر ہو جاتاہے۔سرکار کو یہ سمجھنے میں تھوڑا وقت لگا کہ بہت اچھی پوزیشن میں بھی 2019 سے پہلے راجیہ سبھا میں بی جے پی کو اکثریت نہیں ملنے والی۔ دلی کی سیاست میں وزیر اعظم کی ناتجربہ کاری صاف دکھائی دیتی ہے۔ ایک آﺅٹ سائڈر کی حیثیت سے انہوں نے پارلیمانی عمل کو پیشہ ورانہ لیا۔ہندوستان میں پارلیمنٹ کی تعداد کے بل پرنہیں بلکہ سودے بازی کرنے کی قابلیت پر چلتی ہے۔ 1989 کے بعد کی چار سرکاروں جنہوں نے اپنے اپنے دور اقتدار کے پانچ سال پورے کئے اور جن کے پاس اکثریت نہیں تھی ان سرکاروں نے سمجھوتے کرکے اپنا وجود بچایا ،لیکن مودی کے لئے سمجھوتہ کرنے میں بد عنوانی کی بو آتی ہے،لہٰذا تجربہ کار کھلاڑیوں کے داﺅں پہنچ سیکھنے میں بہت سارا قیمتی وقت خرچ ہو گیا۔
یہی بات ایگزیکٹیو کے لئے بھی کہی جاسکتی ہے۔ کسی صوبے کا وزیر اعلیٰ تانا شاہ ہو سکتا ہے،جبکہ ایک وزیر اعظم کو اس کی کابینہ کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مودی نے اپنی پالیسوں کے عمل درآمد کے لئے نوکر شاہوں پر بہت زیادہ بھروسہ کر لیا۔ ہندوستان میں نوکر شاہی کامیاب ضرور ہے لیکن سست ہے۔ سرکار کو یہ سمجھنے میں دو سال کا وقت لگ گیا کہ پبلک سیکٹر بینکس کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے پرائیویزیشن سب سے بہتر متبادل ہے۔ لیکن مودی ایک ماڈریٹ کنزرویٹیو ہیں۔ قیمتوں میں سست رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے اور پیداوار کے شعبے میں ٹھہراﺅ بنا ہو اہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار نے لیبر لاءمیں بدلاﺅ کرنے کی ہمت نہیں دکھائی ہے۔ جہاں تک مقبولیت کا معاملہ ہے تو مودی ابھی بھی پہلے پائدان پر ہیں،لیکن اس کے باوجود بدلاﺅ کی سست رفتار کی وجہ چاروں طرف مایوسی ہے۔ وزیر اعظم نے کئی پہل کی ہیں،لیکن اس کے باوجود انہیں وراثت میں ملے پرانے نظام میں انقلابی بدلاﺅ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
مودی سرکار کے پاس اب صرف 3 سال بچے ہیں۔ سوکھے سے چھٹکار ہ انہیں بہت مدد کرے گا۔ سریش پربھو اور نتین گڈکری بنیادی ڈھانچے کے سیکٹر میں بڑی سرمایا کاری کے لئے راغب کررہے ہیں۔ وہیں پیوش گوئل کو بجلی کے مسائل اور روی شنکر پرساد کو مواصلات کے سیکٹر کے مسائل کا حل ایک سال کے اندر ہی کر لینا چاہئے تھا۔ میک ان انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا، سوچھ بھارت اور سرکار کے ذریعہ شروع کئے گئے دوسری سماجی پہل جلد ہی نتائج دینا شروع کر دیں گے۔ ترقی کا ریٹ اگلے تین سالوں میں 9فیصد سے اوپر ہوگا۔
سرکار کو اب یہ ضرور احساس ہو جانا چاہئے کہ قانون منظور کرانے کے لئے صرف اکثریت ہی نہیں بلکہ گڈ ول کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے کانگریس کو لے کر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت ہے دیگر پارٹیوں سے حمایت حاصل کرنے کی۔ رگھو رام راجن کو ہٹانے کے لئے جو خطرناک آوازیں اٹھ رہی ہیں، ان سے بھی گھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عالمی بازاروں کا اقتصادی نظام میں بھروسہ اور اس کا سپورٹ بہت اہم ہوتا ہے۔ آپ کسی کو ایکسٹنشن کی تجویز اس امید کے ساتھ دیں کہ اس سے بہتر تجویز کسی دوسری جگہ نہ ملے، تو پھر ایک بڑی اکثریت کے ساتھ آپ کا دوبارہ منتخب ہونا طے ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *